• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز

Updated: October 08, 2026, 5:00 PM IST | Istanbul

فرانسسکا البانیز نے جنگ کے ۳؍ سال مکمل ہونے پر کہا کہ غزہ کا بڑا حصہ اب بھی اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے، مغربی کنارے میں بھی حالات بگڑ رہے ہیں۔

Francesca Albanese. Photo: INN
فرانسسکا البانیز۔ تصویر : آئی این این

فلسطینی علاقوں کیلئے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ شروع ہوئے۳؍ سال مکمل ہونے کے باوجود ’’نسل کشی ختم نہیں ہوئی‘‘ اور فلسطینیوں کو محض نسل کشی سے بچ جانے والے افراد قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا، کیونکہ غزہ میں تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ اناطولیہ نیوز ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ زمینی صورت حال ’’تباہ کن‘‘ ہے اور اسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق غزہ کے ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی حالات مزید خراب ہورہے ہیں۔ البانیز نے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں تباہی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ ان کے مطابق غزہ کا تقریباً ۷۰؍ فیصد علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور وہاں عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو منہدم کیے جانے کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورت حال میں فلسطینیوں کو ’’نسل کشی کے زندہ بچ جانے والے‘‘ کہنا اس تاثر کو جنم دے سکتا ہے کہ خطرہ گزر چکا ہے، جبکہ ان کے مطابق ایسا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال محض سفارتی مذمت سے حل نہیں ہوسکتی اور عالمی برادری کو اس سے کہیں آگے جاکر کارروائی کرنا ہوگی۔ انہوں نے خاص طور پر ان حکومتوں کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا جو اسرائیل کی حمایت کرتی ہیں۔ البانیز نے یورپی ممالک کے امریکہ پر انحصار اور اسرائیل سے متعلق ان کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو سیاسی مفادات کے تابع نہیں ہونا چاہئے۔ البانیز کے مطابق غزہ میں جاری تباہی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں کی صورت حال سنگین ہورہی ہے۔ انہوں نے آبادکاری، بے دخلی اور فلسطینی زمینوں پر اسرائیلی کنٹرول میں اضافے کو وسیع تر مسئلے کا حصہ قرار دیا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا مینڈیٹ ۱۹۶۷ء سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال کی نگرانی اور اس پر رپورٹ پیش کرنا ہے۔

ان کا موجودہ مؤقف ان کی سابقہ رپورٹس سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۴ء میں پیش کی گئی اپنی رپورٹ ’انّاٹومی آف اے جینوسائیڈ‘ میں البانیز نے کہا تھا کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ یقین کرنے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ غزہ میں اسرائیل کے اقدامات نسل کشی کے جرم کی حد پوری کرتے ہیں۔ ان کی رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ جائزہ مختلف زمینی تنظیموں، تحقیقاتی رپورٹس، بین الاقوامی عدالتی کارروائی اور متاثرہ افراد و ماہرین سے حاصل معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں البانیز نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کیلئے ’ٹارچر اینڈ جینوسائیڈ‘ کے عنوان سے ایک اور رپورٹ پیش کی۔ اس میں انہوں نے ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حراستی نظام اور مبینہ تشدد کا جائزہ لیتے ہوئے اسے نسل کشی کے تناظر میں دیکھا۔ اقوام متحدہ کے فلسطین سے متعلق دستاویزات میں ان کی رپورٹ کا خلاصہ موجود ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مصرکے صدرعبدالفتاح السیسی کے دورۂ جنوبی کوریا کا آغاز

جون ۲۰۲۶ء میں اقوام متحدہ کی آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن نے بھی کہا تھا کہ اسرائیلی حکام اور سیکوریٹی فورسز کی جانب سے غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدت اور منظم نوعیت کے باعث فلسطینی بچوں کی اموات، زخمی ہونے اور صدمے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ کمیشن اور خصوصی نمائندہ الگ اقوام متحدہ کے میکانزم ہیں، اس لیے دونوں کے نتائج کو ایک ہی ادارے کا فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ستمبر ۲۰۲۶ء میں البانیز نے غزہ میں ملبہ ہٹانے کے عمل پر بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبے میں انسانی باقیات اور مبینہ بین الاقوامی جرائم سے متعلق اہم شواہد موجود ہوسکتے ہیں، اس لیے ملبہ ہٹانے یا منتقل کرنے کے عمل سے شواہد ضائع نہیں ہونے چاہئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق فلسطینی حکام کا اندازہ تھا کہ ۱۰؍ ہزار سے زیادہ افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں۔ البانیز نے یہ بھی کہا تھا کہ غزہ کے تقریباً ۷۰؍ فیصد علاقے تک رسائی مختلف درجوں میں محدود ہے۔

انسانی نقصانات کے بارے میں اناطولیہ نیوز ایجنسی نے فلسطینی اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں ۷۴؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو نافذ ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق بایک ہزار ۴۵۴؍ افراد ہلاک اور ۵؍ ہزار ۹۰؍ زخمی ہوئے۔ یہ اعداد فلسطینی ذرائع کے ہیں اور اسی نسبت سے بیان کیے گئے ہیں۔ غزہ میں جنگ کا موجودہ مرحلہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً ایک ہزار ۲۰۰؍ افراد ہلاک ہوئے اور ۲۵۱؍ افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی شروع کی۔ ۲۰۲۵ء میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود علاقے میں مکمل امن قائم نہیں ہوسکا اور فوجی کارروائیوں، ہلاکتوں، بے گھری اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سے متعلق رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ

البانیز نے اپنے انٹرویو میں امریکہ کی جانب سے اپنے خلاف عائد پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق پابندیوں کے نتیجے میں وہ کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے، ادائیگیاں وصول کرنے اور بعض مالی معاملات انجام دینے سے قاصر ہوگئی ہیں، جس کا اثر ان کی پیشہ ورانہ اور خاندانی زندگی پر پڑا ہے۔ انہیں امریکہ نے ۲۰۲۵ء میں پابندیوں کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد ان کی بین الاقوامی سرگرمیوں پر بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ البانیز نے کہا کہ موجودہ مرحلہ عالمی برادری کیلئے ایک اہم موڑ ہے اور اب مسئلے کا حل صرف جنگ بندی یا سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہ سکتا۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کیلئے انصاف، جواب دہی اور سیاسی حقوق کو کسی بھی مستقبل کے انتظام کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کا عہدہ ایک آزاد ماہر کا مینڈیٹ ہے؛ اس لیے البانیز کے بیانات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یا بین الاقوامی عدالت کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جاتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK