• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنریشن زی، ملینئیلز سے کم ذہین ہے: تحقیقات میں انکشاف؛ بین نسلی آئی کیو میں پہلی بار کمی آئی

Updated: February 04, 2026, 3:01 PM IST | Washington

اعصابی ماہر ڈاکٹر ہاروتھ نے دلیل دی کہ انسانی دماغ مختصر ویڈیوز، خلاصوں یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیار کردہ جوابات جیسے منتشر ڈجیٹل مواد کے ذریعے مؤثر طریقے سے سیکھنے کیلئے نہیں بنا ہے، بلکہ سماجی میل جول، بحث و مباحثے اور پیچیدہ مواد کے ساتھ طویل وقت تک جڑے رہنے کے ذریعے سیکھنے کیلئے تیار ہوا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گزشتہ کئی برسوں سے جاری تحقیقات، جن کے نتائج اب سامنے آئے ہیں، نے ماہرینِ تعلیم اور اعصابی ماہرین کے درمیان خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ان تحقیقات میں ایسے شواہد ملے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ’جنریشن زی‘ (یا جین زی) جدید تاریخ کا پہلا ایسا انسانی گروپ ہے جس کی ذہانت اپنی سابقہ نسل کے مقابلے میں کم ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین اسے بین نسلی آئی کیو میں پہلی گراوٹ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے تجارت، سائنس اور نقل و حمل کے سامنے پیش کی گئی متعدد تحقیقی رپورٹس بتاتی ہیں کہ جین زی (تقریباً ۱۹۹۷ء سے ۲۰۱۲ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) مختلف ذہنی آزمائشوں میں ملینئیلز (تقریباً ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۶ء کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) کے مقابلے بدتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ جین زی میں توجہ مرکوز کرنے کا دورانیہ (attention span)، فعال یادداشت (working memory)، پڑھ کر سمجھنے کی صلاحیت، ریاضیاتی قابلیت، مسائل حل کرنے کی مہارت اور مجموعی آئی کیو اسکور، پچھلی نسل سے اوسطاً کم پائے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے متعلق چونکا دینے والی پیشگوئی

اعصابی ماہر اور سابق استاد، ڈاکٹر جیرڈ کونی ہاروتھ نے قانون سازوں کو بتایا کہ اس تبدیلی کا گزشتہ دہائی کے دوران کلاس رومز میں تعلیمی ٹیکنالوجی یا ’ایڈ ٹیک‘ (EdTech) کے تیزی سے پھیلاؤ سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جین زی نے سابقہ نسلوں کے مقابلے رسمی تعلیم میں زیادہ سال گزارے ہیں، اس کے باوجود ان کی ذہنی کارکردگی میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے ان اعداد و شمار کی طرف اشارہ کیا جو بتاتے ہیں کہ یہ تنزلی سال ۲۰۱۰ء کے لگ بھگ شروع ہوئی، یہ وہی عرصہ ہے جب اسکولوں میں ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور ڈجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز بڑے پیمانے پر رواج پانے لگے تھے۔

ہاروتھ نے دلیل دی کہ انسانی دماغ مختصر ویڈیوز، خلاصوں یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے تیار کردہ جوابات جیسے منتشر ڈجیٹل مواد کے ذریعے مؤثر طریقے سے سیکھنے کیلئے نہیں بنا ہے۔ انہوں نے ’نیویارک پوسٹ‘ کو بتایا کہ آج کے نوجوان اپنے جاگنے کا دن کے اوقات کا نصف سے زیادہ حصہ اسکرینوں پر گزارتے ہیں، اس کی وجہ سے گہرائی سے مطالعہ کرنے، مسلسل توجہ دینے اور روبرو بات چیت جیسی اہم صلاحیتوں کی جگہ ’کوئیک اسکرولنگ‘ اور فوری جوابات نے لے لی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی چیٹ بوٹ کے روزانہ استعمال سے ۳۰؍ فیصد زیادہ ڈپریشن کا خطرہ: امریکی تحقیق

ہاروتھ کے مطابق، ”ایک نوجوان جتنا وقت جاگتا ہے، اس کا نصف سے زیادہ حصہ اسکرین کو گھورتے ہوئے گزرتا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ انسان سماجی میل جول، بحث و مباحثے اور پیچیدہ مواد کے ساتھ طویل وقت تک جڑے رہنے کے ذریعے سیکھنے کے لیے تیار ہوا ہے۔ ڈجیٹل مواد کے چھوٹے ٹکڑوں یا الگورتھم سے چلنے والی فیڈز کے ذریعے سیکھنا اس کے لیے مشکل ہے۔ 

ہاروتھ کے مطابق، مسئلہ صرف ڈجیٹل ٹولز کو بہتر بنانے کا نہیں ہے، بلکہ یہ تسلیم کرنے کا ہے کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار خود ہماری ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے چھ دہائیوں پر محیط اعداد و شمار پیش کیے، جو ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے جیسے ڈجیٹل آلات کلاس رومز میں جگہ بناتے گئے، طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں مسلسل کمی آتی گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ مسئلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ کم از کم ۸۰ ممالک میں ایسے ہی رجحانات دیکھے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ کوئی مقامی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی رجحان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گوا: ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی زیر غور

ماہرینِ تعلیم اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسکولوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان کو بدلنے کے لیے روایتی، بحث و مباحثے پر مبنی اور تحریر پر مبنی سیکھنے کے طریقوں کی طرف واپسی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK