• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی چیٹ بوٹ کے روزانہ استعمال سے ۳۰؍ فیصد زیادہ ڈپریشن کا خطرہ: امریکی تحقیق

Updated: January 26, 2026, 2:22 PM IST | Washington

ایک امریکی تحقیق سے اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اے آئی کے چیٹ بوٹ کا روزانہ استعمال ڈپریشن کے خطرے کو ۳۰؍ فیصد بڑھا دیتا ہے، نوجوان صارفین خاص طور پر اس کے ذہنی صحت پر اثرات کا شکار نظر آئے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ایک نئی تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، ان میں ڈپریشن کی شرح کبھی کبھار استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ بدھ کے روز شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ روزانہ اے آئی استعمال کرنے والوں میں کم از کم درمیانی درجے کے ڈپریشن کے امکانات میں۳۰؍ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔محققین نے جاما نیٹ ورک اوپن میں لکھا، ’’مصنوعی ذہانت کے زیادہ استعمال کا تعلق ڈپریشن کی علامات میں معمولی اضافے سے پایا گیا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: فرانس: فلسطینی تھیم والی بچوں کی کتاب ”فرام دی ریور ٹو دی سی“ کےخلاف پولیس نے کتب خانے پر چھاپہ مارا

اپریل سے مئی۲۰۲۵ء کے درمیان۲۰۸۴۷؍ امریکی بالغوں کے سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ ۱۰؍ اعشاریہ ۳؍ فیصد نے روزانہ جنریٹواے آئی کا استعمال کیا، جن میں سے۵؍ اعشاریہ ۳؍  فیصد دن میں کئی بار چیٹ بوٹس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔نوجوان صارفین خاص طور پر اس کے ذہنی صحت پر اثرات کا شکار نظر آئے، حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیااے آئی ڈپریشن کا سبب بنتا ہے یا ڈپریشن کا شکار افراد خود زیادہ ڈیجیٹل معاملوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تاہم محققین نے زور دیا کہ اس تعلق کے سبب اورعمومیت کی تصدیق اور مختلف عمر کے گروپوں پر اس کے مختلف اثرات کی وجوہات سمجھنے کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب: العلاء میں اونٹ کے قافلوں کے قدیم تجارتی راستے منظر عام پر

واضح رہے کہ موجودہ دور کی ڈیجیٹل ترقی نے انسان کو تنہائی پسند بنا دیا ہے، اب تنہائی کے شکار افراد نے دوست بھی ڈیجیٹل بنا لئے، اور اے آئی انہیں اسی قسم کی سہولت فراہم کرتا ہے، جہاں آپ اپنی خواہش ، عمر اور مشمولات کے مطابق بات چیت کرسکتے ہیں، حالانکہ اے آئی کے جوابات مشینی ہوتے ہیں، تاہم اس سے بات چیت کرنے والے جذباتی طور پر اس سے وابستہ ہوجاتے ہیں،جس کا نقصان ان کی ذہنی بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔یہ تحقیق انہیں اثرات کا ایک جائزہ پیش کرتی ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK