گوا میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی حکومت کے زیر غور ہے، حکومت کم عمر بچوں کے انسٹاگرام، فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 27, 2026, 10:02 PM IST | Panaji
گوا میں ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی حکومت کے زیر غور ہے، حکومت کم عمر بچوں کے انسٹاگرام، فیس بک اور ٹویٹر جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔
گوا کے سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر روہن کھاوٹے نے پیر کے روز میڈیا کو بتایا، ’’آسٹریلیا نے۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کو یقینی بنانے والا قانون متعارف کرایا ہے، ہم ان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ ہم وزیر اعلی سے بات کریں گے، اور اگر ممکن ہوا تو۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے اسی طرح کی پابندی نافذ کریں گے۔‘‘ممکنہ پابندی کے وقت کے بارے میں پوچھے جانے پر، کھاوٹے نے کہا کہ معاملہ زیر غور ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ’’ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ریاست بھر میں پابندی ممکن ہے (یا نہیں)، ہم اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اور اگر یہ ممکن ہے، تو ہم یہ یقینی بنانا چاہیں گے کہ اگلی نسل کے لیے چیزیں بہتر طریقے سے چلیں۔‘‘
گوا کے سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق، یہ اقدام اس بڑھتی ہوئی شکایات کی وجہ سے کیا گیا ہے جو محکمہ کو کچھ برسوں میں فکرمند والدین سے موصول ہوئی ہیں۔وزارت نے ایک بیان میں وضاحت کی، ’’ہمیں والدین کی جانب سے بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا اور ان میں سے کچھ پلیٹ فارم بچوں کے لیے ایک توجہ ہٹانے کا ذریعہ بن رہے ہیں، جس سے بہت سے سماجی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘پابندی پر غور کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے، کھاوٹے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ’’ سوشل میڈیا نے بچوں کی ذاتی زندگی پر تقریباً مکمل طور پر قبضہ کر لیاہے، یہ ایک ایسی ترقی ہے جو ان کی شناخت اور رویے پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ بعد ازاں کھاوٹے نے نامہ نگاروں کو بتایا، آج، بچے ہمیشہ سوشل میڈیا پر اپنے موبائل پر رہتے ہیں، چاہے وہ کھانے کی میز پر ہو یا ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے ہو یا خاندان کے درمیان ہو۔ لہٰذا، سوشل میڈیا بچوں پر ایک قسم کاتشویشناک اثر ڈال رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اترپردیش:غیر مسلم سہیلی کو برقعہ پہنانے پر ۵؍ نابالغ مسلم لڑکیوں پر مقدمہ درج
انہوں نے مزید کہا، ’’مصنوعی ذہانت کی دنیا میں، ہمیں چاہیے کہ وہ اس پر زیادہ توجہ دیں، جو انہیں اچھے شہری بنا سکتی ہے اور ریاست اور ملک کے مستقبل کی دیکھ بھال کر سکتی ہے۔ اس کا مثبت سماجی اثر ہوگا۔‘‘ان کے مطابق، مجموعی خیال یہ ہے کہ’’ بچے تعلیم اور تعلیم سے متعلق ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ مرکوز کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ڈجیٹل فراڈ سے نمٹنے کیلئے’’کل سوئچ‘‘، مشتبہ سرگرمی پربینک اکاؤنٹ فوراً لاک ہوگا
واضح رہے کہ گوا حکومت کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک بھی ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر آسٹریلیا کی طرز کی سوشل میڈیا پابندی نافذ کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس میں انہیں ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکا جائے گا۔آسٹریلیائی قانون، جسے آن لائن سیفٹی ترمیم (سوشل میڈیا کم از کم عمر) ایکٹ کہا جاتا ہے، انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوںکے موجودہ اکاؤنٹس کو غیر فعال کرنے اور نئے اکاؤنٹس کھولنے سے روکنے کے لیے ’’معقول‘‘ اقدامات کرنے کا پابند بناتا ہے۔دریں اثناء جنوری۲۰۲۶ء کے وسط میں، آسٹریلیائی حکومت نے اعلان کیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں نے۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر ملک بھر میں پابندی کے بعد تقریباً۴۷؍ لاکھ اکاؤنٹس غیر فعال یا محدود کر دیے ہیں۔