جرمن بینک ڈکیتی کے متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ چوری ترکی اور عرب گاہکوں کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی، ان کا کہنا ہے کہ چوروں کو معلوم تھا کہ بینک کے سیف ڈپازٹ باکس کس کے ہیں، میزید کئی سوال جواب طلب ہیں، متاثرین نے اسے ایک سازش قرار دیا۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 10:02 PM IST | Berlin
جرمن بینک ڈکیتی کے متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ چوری ترکی اور عرب گاہکوں کو نشانہ بنا کر کی گئی تھی، ان کا کہنا ہے کہ چوروں کو معلوم تھا کہ بینک کے سیف ڈپازٹ باکس کس کے ہیں، میزید کئی سوال جواب طلب ہیں، متاثرین نے اسے ایک سازش قرار دیا۔
مغربی جرمن شہر گیلزنکرخن میں بینک ڈکیتی کے متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ چوری نشانہ بنا کر دی گئی تھی، کیونکہ لوٹے گئے ۳؍ ہزار سے زیادہ سیف ڈپازٹ باکس میں سے تقریباً سب ہی ترکی اور عرب گاہکوں کے تھے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں، چوروں نے سرکاری ملکیت والی سپرکاسے بچت بینک کی مقامی شاخ میں کئی گھنٹوں تک دراندازی کی، مضبوط کنکریٹ کی دیواروں میں سوراخ کیا اور نقد رقم، سونا اور زیورات جیسی قیمتی اشیاء سے بھرے۹۵؍ فیصد ذاتی سیف لاکر تک رسائی حاصل کر لی۔چند متاثرین، جن میں اونال میٹے، سیہت اردم بوستانجی، گنگور کالن، اور امرے یلدرم شامل ہیں، نے انادولو سے بات چیت میں اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا، اور حکام اور بینک کی جانب سے ممکنہ غفلت اور شفافیت کی کمی پر سوال اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے: پاکستان: اسلام آباد عدالت نے ۲۰۲۳ء فسادات کے ۷؍ ملزمین کو سزائے موت سنائی
میٹے نے کہا کہ جب انہیں سب سے پہلے ڈکیتی کے بارے میں پتہ چلا تو وہ دنگ رہ گئے۔انہوں نے پوچھا: ’’جرمنی میں ایک سرکاری بینک کی اتنی آسانی سے ڈکیتی کیسے ہو سکتی ہے؟ صرف گاہکوں کے سیف ڈپازٹ باکسز لوٹے گئے۔ بینک کے مرکزی خزانے کے ساتھ کچھ نہیں ہوا۔ چور بس آئے اور چلے گئے۔‘‘ان کا دعویٰ تھا کہ بینک نے واقعے کے بعد گاہکوں سے رابطہ نہیں کیا اور یہ واضح معلومات فراہم نہیں کیں کہ آیا ان کے نقصان کی تلافی ہوگی اور کیسے ہوگی۔میٹے نے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ گیلزنکرخن شاخ کو جان بوجھ کر منتخب کیا گیا تھا کیونکہ تقریباً تمام سیف ڈپازٹ باکسز غیر ملکی نژاد افراد کے تھے۔انہوں نے کہا: ’’یہ گاہکوں کے ریکارڈ میں صاف نظر آتا ہے۔ چوروں کو بالکل معلوم تھا کہ یہ باکسز کس کے ہیں۔ اسی لیے ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک دانستہ حملہ تھا۔‘‘ڈکیتی کی تفصیلات سامنے آتے ہی، متاثرین نے اپنی مشترکہ کارروائی کو مربوط کرنے کے لیے ایک آن لائن پلیٹ فارم بنایا۔میٹے نے کہا ’’ہزاروں متاثرین ہیں، اور ان میں سے صرف ایک جرمن ہے۔ تقریباً۹۵؍ فیصد ترک ہیں، اور باقی عرب۔ لوگ سالوں کی جمع پونجی سونے میں تبدیل کر کے بینکوں میں رکھتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ سب سے محفوظ جگہ ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ بینک ہر باکس کے لیے تقریباً ۱۱۷۰۰؍ ڈالر تک کا بیمہ کرتا ہے، جو عام طور پر اندر رکھی اشیاء کی مالیت سے بہت کم ہے۔ تاہم بیمہ شدہ رقم کی بنیاد پر، تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ چوروں نے۳۵؍ ملین ڈالر مالیت کا سامان لوٹا، لیکن حقیقت میں، انہوں نے اس سے کہیں زیادہ مالیت کا سامان چرایا ہوگا۔میٹے نے کہا، ’’تقریباً ہر کسی نے بیمہ شدہ رقم سے کہیں زیادہ کھویا ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم نے ہر سال ایسی حفاظت کے لیے فیس ادا کی جو بینک فراہم کرنے میں ناکام رہا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ گاہکوں سے باکسز میں رکھی قیمتی اشیاء کے خریداری کے رسید پیش کرنے کو کہا گیا ہے، جسے وہ غیر حقیقی قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: اقتصادی مطالبات منصفانہ لیکن فسادیوں کو بخشا نہیں جائے گا: سپریم لیڈر
تعمیرات کے شعبے میں کام کرنے والے ایک اور متاثر سیہت اردم بوستانجی نے کہا کہ یہ ڈکیتی خاموشی سے انجام نہیں پا سکتی تھی۔انہوں نے کہا: ’’اس طرح کی مضبوط کنکریٹ کی دیوار میں سوراخ کرنے میں کم از کم دو گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کے لیے صنعتی ڈرلنگ مشینوں، سینکڑوں لیٹر پانی اور بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس سے تقریباً ۱۰۰؍ڈیسیبل کا شور پیدا ہوتا ہے۔‘‘ایک سو ڈیسیبل موٹر سائیکل یا نائٹ کلب کی آواز کے برابر ہے۔انہوں نے پوچھا: ’’کسی نے کچھ کیسے نہیں سنا؟ کوئی لرزش، کوئی گرد کیسے نظر نہیں آئی؟ یہ ہمارے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘‘بوستانجی نے کہا کہ انہوں نے پہلے بینک سے اپنے سیف ڈپازٹ باکس کے بیمہ کا احاطہ بڑھانے کو کہا تھا لیکن انہیں بتایا گیا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب وہ پیر کو مقام واقعہ پر گئے تو ایک بینک اہلکار نے انہیں بتایا کہ ابھی یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا انہیں متاثرہ تسلیم کیا جائے گا۔گنگور کالن نے ڈکیتی کے بعد بینک عملے کے غیر سنجیدہ رویے پر تنقید کی۔انہوں نے کہا: ’’یہ بینک کی ڈکیتی نہیں تھی، یہ ایک سازش ہے۔‘‘ ساتھ ہی بینک اہلکار کا یہ کہنا کہ ’ہم خوش ہیں کہ بینک نہیں لوٹا گیا‘، توہین آمیز تھا۔‘‘انہوں نے کہا کہ بینک سے محض۲۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر ایک پولیس اسٹیشن ہے اور سوال کیا کہ اہلکار جلد مقام واقعہ پر کیوں نہیں پہنچے۔
مقامی پولیس کے مطابق، بینک کی عمارت میں سنیچر کو ہی فائر الارم بج گیا تھا، لیکن مقام پر پہنچنے والی پولیس اور فائر بریگیڈ کسی ایسی چیز کا پتہ نہیں لگا سکی جس سے نقصان کا اشارہ ملتا۔تاہم مقامی پولیس کے آخری بیان کے مطابق، تفتیش جاری ہے، اور ابھی تک کوئی مشتبہ شخص شناخت نہیں ہوا ہے اور نہ ہی گرفتار ہوا ہے۔