Updated: May 15, 2026, 9:58 AM IST
| Washington
امریکہ میں ایران جنگ کے معاملے پر سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں ڈیموکریٹ لیڈر چک شومر نے ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ شومر نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ نے نہ صرف امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ چین جیسے حریف ممالک کو بھی فائدہ پہنچایا ہے۔
ڈیموکریٹ لیڈر چک شومر۔ تصویر: آئی این این
امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈرچک شومر نے جمعرات کو صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف ’’غیر قانونی جنگ‘‘ پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع نے امریکہ کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، فوجی وسائل پر دباؤ بڑھایا ہے اور امریکی مخالفین کو مزید حوصلہ دیا ہے۔ سینیٹ کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے شومر نے کہا کہ اس جنگ پر اب تک امریکی ٹیکس دہندگان کے کم از کم۲۹؍ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا’’عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ مزید خراب ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں جب ہمیں دنیا بھر میں دیگر جارح قوتوں کو روکنے کیلئے اپنے اسلحہ ذخائر کی ضرورت ہے، امریکی جنگی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد۴۰؍ لاکھ پہنچ گئی، عدم مساوات برقرار: رپورٹ
شومر نے ٹرمپ انتظامیہ کے مقاصد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ چین جیسے جغرافیائی حریف اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ممکن ہے کہ امریکی عوام کو ٹرمپ کی اس جنگ سے کوئی فائدہ نہ ہو رہا ہو، لیکن دنیا بھر میں ہمارے حریف اور مخالف ضرور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’جب ٹرمپ امریکہ کی ساکھ کو داغدار کر رہے ہیں، تو چین خود کو عالمی سطح پر استحکام اور دانشمندی کی علامت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ‘‘ڈیموکریٹ لیڈرنے ان رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین ایران کو اسلحہ فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی فوجی توجہ اور وسائل دوسری جانب منتقل رہے تو بیجنگ تائیوان کے خلاف مزید جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: بیروزگاری کے دعویٰ میں توقع سے زیادہ اضافہ
شومر نے کہا:’’اگر ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ اپنی برتری برقرار رکھے، تو ہمیں ٹرمپ کی اس غیر قانونی جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا ہوگا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ چینی صدر چی جن پنگ نے بیجنگ میں جمعرات کو ٹرمپ سے ملاقات کے دوران امریکہ کو تائیوان کی حمایت جاری رکھنے کے نتائج سے خبردار کیا۔ شومر کے مطابق:’’شی جن پنگ پہلے ہی امریکہ کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر ہم تائیوان کی حمایت جاری رکھتے ہیں تو دونوں ممالک کے درمیان ’تصادم یا حتیٰ کہ جھڑپ‘ ہو سکتی ہے۔ لیکن بظاہر ٹرمپ نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا، وہ خاموش رہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’جمہوریت اور عالمی معیشت کے استحکام کی خاطر، ٹرمپ کو تائیوان کا سودا نہیں کرنا چاہئے۔ ‘‘