• Mon, 21 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی: الف ایرالپ کی قیادت میں برلن میں بائیں بازو کی جماعت کی شاندار کامیابی

Updated: September 21, 2026, 7:05 PM IST | Berlin

جرمنی کے دارالحکومت برلن کے ریاستی انتخابات میں بائیں بازو کی جماعت نے ترکی نژاد انسانی حقوق کارکن الف ایرالپ کی قیادت میں ۳ء۲۵؍ فیصد ووٹ حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ دوسری جانب چانسلر فریڈرک مرز کی قدامت پسند جماعت کو مشرقی ریاست میکلن برگ-فورپومرن میں بدترین انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم مرز نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے اصلاحات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

Elif Eralp (center), known as the "Berlin Mamdani," has secured a significant victory. Photo: X
’برلن کی ممدانی ‘ کہی جانے والی الف ایرالپ (درمیان میں ) نے نمایاں جیت درج کی ہے۔ تصویر: ایکس

ترکی نژاد انسانی حقوق کی کارکن الف ایرالپ کی قیادت میں جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت نے برلن کے ریاستی انتخابات میں حیران کن طور پر پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ اتوار کو حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ارالپ نے کہا کہ ووٹروں نے نئی حکومت تشکیل دینے کا واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ جرمن سرکاری نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق بائیں بازو کی جماعت نے اپنی حمایت تقریباً دوگنی کرتے ہوئے۳ء۲۵؍ فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ چانسلر فریڈرک مرز کی قدامت پسند جماعت سی ڈی یو۱ء۱۹؍ فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) نے۲ء۱۶؍فیصد ووٹ حاصل کئے۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: عمران خان کی تینوں بہنیں تھری ایم پی او کے تحت ۳۰ ؍روز کیلئے نظر بند

کامیابی کا اعلان
اتوار کی شب اپنے پُرجوش حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے الف ایرالپ نے کہا، ’’برلن کے شہریو، آپ کا شکریہ، ہمارے اوپر اعتماد کرنے کیلئے شکریہ۔ ‘‘انہوں نے کہا، ’’آج ہم نے مل کر تاریخ رقم کی ہے۔ ‘‘ ایرالپ کے مطابق ووٹروں نے تبدیلی کیلئے واضح مینڈیٹ دیا ہے۔ ان کی انتخابی مہم میں سماجی ناانصافی کے خاتمے اور جرمنی کے دارالحکومت برلن میں زندگی کو زیادہ قابلِ استطاعت بنانے پر زور دیا گیا تھا۔ ۴۵؍سالہ ایرالپ کا موازنہ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی سے بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ممدانی کے جمہوری سوشلزم کے سیاسی خاکے کو اپنایا ہے، جس کے باعث بعض مبصرین انہیں ’’جرمنی کی ممدانی‘‘ بھی قرار دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: دبئی: حکمراں شیخ محمد کے بھائی شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کا انتقال،۱۰؍ روزہ سوگ

حکومت سازی کیلئےاتحادیوں کی ضرورت
واضح برتری کے باوجود بائیں بازو کی جماعت کو حکومت بنانے کیلئے مزید اتحادیوں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ اسے ریاستی پارلیمنٹ میں سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق مرکز سے بائیں جانب کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی)، جس نے۱ء۱۲؍ فیصد ووٹ حاصل کئے، اور ماحول دوست گرینز، جنہیں ۵ء۱۴؍فیصد ووٹ ملے، کے ساتھ تین جماعتی اتحاد تقریباً۱۵۹؍ رکنی پارلیمنٹ میں ۹۰؍ نشستیں حاصل کرسکتا ہے۔ اس طرح۸۰؍ نشستوں کی مطلوبہ اکثریت باآسانی حاصل ہوجائے گی۔ اس کے برعکس سی ڈی یو کی قیادت میں ایس پی ڈی اور گرینز کے ساتھ ممکنہ اتحاد کو تقریباً۷۹؍ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے، جو حکومت سازی کیلئے درکار اکثریت سے ایک نشست کم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل کی قید تنہائی کے ایک ماہ مکمل، حقوق انسانی کے اداروں کا اظہار تشویش

پارلیمانی حد کا معاملہ
برلن کی ریاستی پارلیمنٹ کی حتمی تشکیل سرکاری ابتدائی نتائج کے اعلان تک غیر یقینی ہے۔ سہرا واگن کنیخت الائنس (بی ایس ڈبلیو) نے عین ۵؍ فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں، جو پارلیمنٹ میں داخلےکیلئے مقررہ کم از کم حد ہے۔ بی ایس ڈبلیو کے پانچ فیصد کی حد سے اوپر رہنے یا نہ رہنے سے آئندہ دنوں میں حکومت سازی کے امکانات اور اتحادوں کے حساب کتاب پر نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔ الف ایرالپ نے کہا کہ۲۰۲۵ء میں ظہران ممدانی کی کامیابی دنیا بھر کی بائیں بازو کی جماعتوں، بشمول جرمنی، کیلئے ایک نمونہ فراہم کرتی ہے۔ اب وہ ممکنہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کیلئےمذاکرات کی تیاری کر رہی ہیں۔ 
انتخابی دھچکے کے باوجود چانسلر مرز کا عہدہ چھوڑنے سے انکار، اصلاحات جاری رکھنے کا عزم
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اتوار کو کہا کہ وہ عہدے پر برقرار رہیں گے اور اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے۔ ان کا یہ بیان مشرقی ریاست میکلن برگ-فورپومرن کے انتخابات میں ان کی قدامت پسند جماعت سی ڈی یو کی شدید شکست کے بعد سامنے آیا۔ برلن میں سی ڈی یو کے ہیڈکوارٹرز میں اے آر ڈی کے ابتدائی انتخابی تخمینوں کے فوراً بعد خطاب کرتے ہوئے مرز نے پارٹی کے بھاری نقصان کا اعتراف کیا، تاہم ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ وہ پارٹی کی قیادت یا چانسلر کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم میکلن برگ-فورپومرن کے نتائج کو معمولی نہیں سمجھ سکتے؛ یہ ایک تباہ کن نتیجہ ہے۔ سی ڈی یو نے بھرپور مقابلہ کیا، لیکن بالآخر ایس پی ڈی اور اے ایف ڈی کے درمیان شدید سیاسی تقسیم نے پارٹی کو بری طرح متاثر کیا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، ۲؍ افراد ہلاک

اے آر ڈی کے تخمینوں کے مطابق شمال مشرقی ریاست میں دائیں بازو کی اے ایف ڈی نے۳ء۳۷؍فیصد ووٹ حاصل کرکے معمولی برتری حاصل کی، جبکہ مرکز سے بائیں جانب کی ایس پی ڈی کو۵ء۳۵؍ فیصد ووٹ ملے۔ چانسلر مرز کی سی ڈی یو صرف۳ء۵؍ فیصد ووٹ حاصل کرسکی، جو وفاقی جمہوریہ جرمنی کے قیام کے بعد کسی بھی ریاستی انتخاب میں اس کا بدترین نتیجہ ہے۔ اس نتیجے کے باعث ریاستی پارلیمنٹ میں سی ڈی یو کی واپسی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ مرز نے کہا کہ جرمنی کو ملک کو دوبارہ درست سمت پر لانے کیلئے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے اور ان کی اتحادی حکومت پہلے ہی اس سلسلے میں اہم اقدامات کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اب جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے، اس کیلئے حوصلے، ثابت قدمی اور صبر کی ضرورت ہوگی۔ میں سی ڈی یو کے چیئرمین اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک کے چانسلر کی حیثیت سے ان خصوصیات کا مظاہرہ کروں گا۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK