Updated: September 21, 2026, 4:07 PM IST
| Islamabad
پاکستان تحریک انصاف کے ۲۷؍ ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل پارٹی کے بانی عمران خان کی تینوں بہنوں کو ۳۰؍ روز کیلئے نظر بند کر دیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کے مطابق یہ کارروائی امن و امان برقرار رکھنے کیلئے کی گئی جبکہ پی ٹی آئی نے اسے سیاسی انتقامی کارروائی قرار دے کر گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔
عمران خان کی تنیوں بہنیں۔ تصویر: آئی این این
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے۲۷؍ ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل جاری کریک ڈاؤن کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کی تینوں بہنوں، علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان، کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس۱۹۶۰ء کی دفعہ تین (تھری ایم پی او) کے تحت حراست میں لے کر آئندہ۳۰؍ روزکیلئے نظربند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے گرفتاری کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کی پھوپھیوں اور کزنز شیرشاہ، شہریز، عظیم اور سکینہ کو بغیر کسی وضاحت کے ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں سیاسی انتقامی کارروائی کا حصہ ہیں اور۲۷؍ ستمبر کو عمران خان کی رہائی کے مطالبے کیلئےہونے والے احتجاجی مارچ سے عین قبل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دبئی: حکمراں شیخ محمد کے بھائی شیخ احمد بن راشد آل مکتوم کا انتقال،۱۰؍ روزہ سوگ
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو اتوار کی دوپہر حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے سابق وزیر اعظم کی دیگر دو بہنوں اور رشتہ داروں کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے۲۰؍ ستمبر کو جاری کئے گئے ایک حکمنامے میں عمران خان کی بہنوں نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو تھری ایم پی او کے تحت۳۰؍ روز کیلئے حراست میں لئےجانے اور نظر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ایسا ہی حکمنامہ علیمہ خان کے حوالے سے بھی جاری کیا گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کے آفس سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو گرفتاری کے بعد لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں رکھا جائے گا۔ اس نوٹیفیکیشن میں پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی سرگرمیاں عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے نقصاندہ ہیں۔ پولیس کی جانب سے اُن پر نو مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش میں ملوث ہونے، کارکنوں کو سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اُکسانے اور سوشل میڈیا و عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطینی صحافی بشریٰ الطویل کی قید تنہائی کے ایک ماہ مکمل، حقوق انسانی کے اداروں کا اظہار تشویش
نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی نے بھی پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے مواد کی بنیاد پر دونوں کی ۳۰؍روزہ نظربندی کی سفارش کی تھی۔ اس سے قبل علیمہ خان کی نظربندی کے حوالے سے سامنے آنے والے نوٹیفیکیشن میں بھی پولیس رپورٹس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں آئندہ۳۰؍ روز کیلئے کوٹ لکھپت جیل میں رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان افراد کو ’بغیر نگرانی‘ چھوڑا گیا تو وہ عوامی امن اور سکون کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ رپورٹس میں عمران خان کی بہنوں کی۳۰؍ روزہ نظربندی کی سفارش کی گئی تھی تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔ ڈیٹینشن آرڈرز کے مطابق یہ معاملہ۲۰؍ ستمبر کو ڈپٹی کمشنر لاہور کی سربراہی میں ہونے والے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا۔
یہ بھی پڑھئے: ماسکو پر یوکرین کا بڑا ڈرون حملہ، ۲؍ افراد ہلاک
بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لئےجانے کے بعد پی ٹی آئی کے وکیل رانا مدثر عمر کا ایک بیان ’ایکس‘ پر سامنے آیا ہے کہ جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’اہلِخانہ نے علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان، نورین نیازی اور دیگر اہلِخانہ کی گرفتاریوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ‘ان کے مطابق پیر کو تھری ایم پی او کے تحت جاری کئے گئے نظر بندی کے حکم کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ادھر علیمہ خان کے رشتہ دار قاسم زمان خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ علیمہ خان کو لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی کے احکامات ایسے وقت میں دیے گئے ہیں، جب پاکستان تحریکِ انصاف نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور ’آئین کی بالادستی‘ کیلئے ۲۷؍ ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد کے مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھ دیئے گئے ہیں اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی خبردار کر چکے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کی روشنی میں کسی بھی جماعت کو ’اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ‘ لانگ مارچ کے پیشِ نظر پنجاب میں دفعہ ۱۴۴؍ بھی نافذ کی گئی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی نظر بندی کے احکامات کی مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ناکہ بندی کرکے ۱۰۰؍ سے زائد فلسطینی اساتذہ کو اسکول جانے سے روکا
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف نے واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پرامن اور سیاسی ہو گا۔ ایکس پر جاری کئے گئے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مقصد اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کیلئےپرامن جدوجہد کرنا ہے، ہم کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے۔ ‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہمارے لوگ اور اراکین پارلیمان گرفتارکئےجا رہے ہیں۔ جن کے ہاتھ میں اختیار اور طاقت ہے، وہ ایک مرتبہ حالات پر نظر کریں۔ اِس وقت ایم این ایز، ایم پی ایز اور اہلخانہ کی گرفتاریوں سے حالات کشیدہ ہوں گے۔ عظمیٰ بی بی اور نورین بی بی کی حراست کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ملک کو اس وقت مزید تصادم نہیں، سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔‘
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو، وزرا اورحامیوں کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے مغربی دیوار کے احاطے میں داخل
تھری ایم پی او کیا ہے؟
عمران خان کی بہنوں کو تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا ہے۔ تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کو حفاظتی حراست میں رکھنے کیلئے وسیع اختیارات دیتا ہے، جنہیں عوامی تحفظ یا امن و امان کیلئے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ قانون ایک طے شدہ مدت کیلئے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراستکیلئے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں اس سے پہلے بھی عوامی احتجاج یا سیاسی جماعتوں کے جلسوں سے قبل سیاسی لیڈروں کو نظربند کیا جاتا رہا ہے۔ تھری ایم پی او کے قانون کے مطابق متاثرہ شخص اس فیصلے کو صوبائی حکومت کے سامنے چیلنج کر سکتا ہے۔