• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جرمنی میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا آغاز، عوامی نقل و حمل کا نظام درہم برہم

Updated: February 27, 2026, 5:06 PM IST | Berlin

تجارتی یونین ورڈی کے لیڈران نے ٹرانسپورٹ ملازمین کے ہفتہ واری کام کے اوقات میں کمی، شفٹوں کے دورانیے کو کم کرنے، شفٹوں کے درمیان آرام کے طویل وقفے اور رات و سنیچر اتوار کو کام کرنے کے لئے زیادہ تنخواہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Transport Workers Protest in Germany. Photo: X
جرمنی میں ٹرانسپورٹ ملازمین کا احتجاج۔ تصویر: ایکس

جرمنی میں ہزاروں ٹرانسپورٹ ملازمین نے ۴۸ گھنٹے کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں عوامی نقل و حمل کی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ اس دو روزہ ہڑتال کے باعث ملک کے دارالحکومت برلن سمیت بڑے شہروں میں بسوں، ٹراموں اور سب وے سسٹمز جیسے معروف عوامی نقل و حمل کے ذرائع کا پہیہ جام ہوگیا ہے اور لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ہزاروں ٹرانسپورٹ ملازمین نے جمعہ کی صبح ۳ بجے سے ہڑتال شروع کردی ہے جو اتوار کی صبح تک جاری رہے گی۔ خبر لکھے جانے تک ہڑتال کو ۱۲ سے زائد گھنٹے مکمل ہوچکے ہیں اور اس کے شدید اثرات نظر آنے لگے ہیں۔ اس دوران زیادہ تر شہری ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس یا تو مکمل طور پر بند رہے یا انتہائی محدود ہنگامی ٹائم ٹیبل کے تحت چلائے گئے۔ سب سے زیادہ خلل صبح کے رش کے اوقات میں دیکھا گیا۔ برلن، ہیمبرگ، کولون، ڈسلڈورف، فرینکفرٹ، اسٹٹ گارٹ اور میونخ سمیت بڑے شہروں میں بسوں، ٹراموں اور ’یو بان‘ (U-Bahn) سروسیز کی غیر موجودگی نے مسافروں کو سفر کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: چینی کمپنی کا ملازمین کو ۲۴۰؍ کروڑ روپے بونس، ویڈیوز وائرل

اس ہڑتال کا اعلان جرمنی کی ایک بڑی تجارتی یونین، ورڈی (Ver.di) کی جانب سے کیا گیا ہے۔ یہ گروپ تقریباً ۱۵۰ کمپنیوں کے ایک لاکھ سے زائد ملازمین اور ٹرانسپورٹ ملازمین کی نمائندگی کرتی ہے۔ یونین اس وقت اجتماعی سودے بازی کے نئے معاہدے کے لئے مذاکرات کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ طویل شفٹوں، عملے کی کمی اور کام کے کٹھن حالات کی وجہ سے ملازمین پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

یونین کے لیڈران ہفتہ واری کام کے اوقات میں کمی، شفٹوں کے دورانیے کو کم کرنے، شفٹوں کے درمیان آرام کے طویل وقفے اور رات و سنیچر اتوار کو کام کرنے کے لئے زیادہ تنخواہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ورڈی کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد کمپنیوں کو واضح پیغام دینا ہے کہ عوامی نقل و حمل کے نظام کو پائیدار بنانے کے لئے بہتری لانا ناگزیر ہے۔ یونین کے نائب چیئرپرسن کرسٹین بہل نے کہا کہ کارکنوں کو فوری طور پر ریلیف کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کام کے حالات میں بامعنی تبدیلیوں کے بغیر طویل مدت میں خدمات جاری رکھنا مشکل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK