Updated: September 11, 2026, 9:03 PM IST
| Berlin
جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے تارکینِ وطن سے متعلق اے ایف ڈی کی پالیسی کو ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دینے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اے ایف ڈی نے مرز کے خلاف فوجداری شکایت درج کراتے ہوئے ان کے بیان کو ’’مجرمانہ نوعیت‘‘ کا حامل اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
جرمن اخبار’ BILD‘ کے مطابق، جرمنی کی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی (AfD) نے چانسلر فریڈرک مرز کے خلاف فوجداری شکایت درج کرائی ہے۔ مرز نے جماعت کی تارکینِ وطن سے متعلق پالیسی کو ہنرمند کارکنوں کے حوالے سے ’’نسلی تطہیر‘‘ قرار دیا تھا۔ اے ایف ڈی پارلیمانی گروپ کے پارلیمانی سیکریٹری اسٹیفن برانڈنر نے کہا کہ مرز کے بیانات ’’مجرمانہ نوعیت‘‘ کے حامل اور ’’ناقابلِ قبول‘‘ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی گروپ ’’آئین کی مکمل پاسداری‘‘ کرتا ہے۔ اتوار کو مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کی حیران کن انتخابی کامیابی کے بعد پارلیمنٹ میں پہلی مرتبہ جماعت کا سامنا کرتے ہوئے مرز نے ایک ہنگامہ خیز بحث کے دوران کہا کہ یہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت نسل پرستانہ انداز میں بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم چلا کر جرمن معیشت کے ایک اہم ستون کو شدید نقصان پہنچائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کے ذریعے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کی پانچ کوششوں کو بے اثر کیا: اینتھروپک
مرز نے بدھ کو پارلیمنٹ میں دیگر جماعتوں کے ارکان کی تالیوں کے درمیان کہا، ’’’ری مائیگریشن‘ کی اصطلاح دراصل نسل اور جلد کے رنگ کی بنیاد پر نسلی تطہیر کا دوسرا نام ہے۔ ‘‘انتہا پسندوں کے نزدیک ’’ری مائیگریشن‘‘ سے مراد ایسے افراد کی بڑے پیمانے پر ملک بدری ہے جن کا تعلق تارکینِ وطن کے پس منظر سے ہے۔ جرمنی کا داخلی خفیہ ادارہ، وفاقی دفتر برائے تحفظِ آئین، ری مائیگریشن کو ایک ایسے تصور کے طور پر بیان کرتا ہے جس کا مقصد ’’نسلی بنیادوں پر معاشرے تشکیل دینا اور تمام غیر ملکیوں کو بے دخل کرنا‘‘ ہے۔ سیکسنی انہالٹ میں اپنے انتخابی منشور میں اے ایف ڈی نے ’’ری مائیگریشن‘‘ کی پالیسیوں کا مطالبہ کیا تھا، جس کے تحت مسترد شدہ پناہ کے درخواست گزاروں اور غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے کی بات کی گئی ہے۔