فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، جہاں عدالت نے فلم سازوں پر برہمی کااظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے نام پر کسی برادری یا مخصوص طبقے کو نیچا دکھایا جائے۔ اگلی سماعت ۱۹؍ فروری کو ہے۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 3:12 PM IST | New delhi
فلم ’’گھوس خور پنڈت‘‘ کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، جہاں عدالت نے فلم سازوں پر برہمی کااظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے نام پر کسی برادری یا مخصوص طبقے کو نیچا دکھایا جائے۔ اگلی سماعت ۱۹؍ فروری کو ہے۔
نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی فلم گھوس خور پنڈت‘‘ کو لے کر پیدا ہونے والا تنازع اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ عدالت نے فلم کے عنوان اور مواد کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے فلم ساز کو سخت سرزنش کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے نام پر کسی برادری یا مخصوص طبقے کو نیچا دکھایا جائے۔ عدالت نے اس معاملے کو سماجی ہم آہنگی سے متعلق قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ فلم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) اور فلم کے پروڈیوسر و ہدایتکار نیرج پانڈے کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ صرف ایک فلم یا اس کے نام تک محدود نہیں بلکہ اس کے سماج پر پڑنے والے وسیع اثرات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پران نے طویل عرصے تک بطور ویلن فلموں پر راج کیا
واضح ہو کہ عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت ۱۹؍ فروری کو مقرر کی ہے۔ گزشتہ سماعت کے دوران جسٹس بی وی ناگرتنا نے کہا کہ آزادیٔ اظہار کسی بھی برادری کے کسی حصے کو بدنام کرنے کا لائسنس نہیں ہے۔ ایسے نام ملک میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب معاشرہ پہلے ہی مختلف قسم کے تناؤ اور تقسیم کا سامنا کر رہا ہو۔ عدالت نے کہا، ’’جب معاشرے میں اتنی دراڑیں موجود ہیں تو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟‘‘ عدالت نے کہا کہ بھارت جیسے متنوع ملک میں مذہب، ذات اور برادریوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا آئینی ذمہ داری ہے۔ آئین سازوں نے ملک میں بھائی چارہ قائم رکھنے پر خاص زور دیا تھا تاکہ تنوع کے باوجود سماجی یکجہتی برقرار رہے۔ ایسے میں فلموں اور تخلیقی ذرائع ابلاغ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کمال خان کا دعویٰ: راجپال کے پاس ۵۰؍ کروڑ کی جائیداد، بیوی کو جیل کیوں نہیں؟
فلم ساز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ تنازع کے بعد فلم کا ٹریلر سوشل میڈیا سے ہٹا لیا گیا ہے اور فلم کا نام تبدیل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے فلم سازوں سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ایک تحریری حلف نامہ داخل کریں اور واضح طور پر بتائیں کہ فلم کا نیا نام کیا ہوگا اور اس میں کسی برادری کے خلاف کوئی قابلِ اعتراض مواد شامل تو نہیں ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلم کا عنوان ’’گھوس خور پنڈت‘‘ ایک مخصوص برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور اسے منفی انداز میں پیش کرتا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عنوانات معاشرے میں غلط پیغام دیتے ہیں اور سماجی و فرقہ وارانہ تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ سے فلم کی ریلیز اور آن لائن اسٹریمنگ پر پابندی لگانے کی درخواست کی گئی ہے۔