اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ لفظی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 3:10 PM IST | Rome
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ لفظی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی۔
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ لفظی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ظاہر کی۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اطالوی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے درمیان عوامی سطح پر ہونے والی تلخی کے بعد اب امریکہ کے ساتھ تعلقات کو معمول پر آنا چاہئے۔ ایک تقریب کے دوران انٹرویو دیتے ہوئے جارجیا میلونی نے کہا کہ میرا اس تنازع کو مزید طول دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کو جارجیا میلونی نے ڈونالڈ ٹرمپ پر اپنے بارے میں ایک من گھڑت کہانی بنانے کا الزام لگایا تھا۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر نے ایک اطالوی ٹی وی چینل کو بتایا تھا کہ فرانس میں ہونے والے حالیہ جی۷؍ سربراہی اجلاس کے دوران جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کیلئے منت سماجت کی تھی۔
اس پر اطالوی وزیر اعظم کی جانب سے فوری ردعمل آیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی صدر کے اس تبصرے پر حیران ہیں جو کہ مکمل طور پر من گھڑت ہیں۔
انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ وہ پرانے اور دیرینہ اتحادیوں کے مقابلے میں مغرب کے دشمنوں کے ساتھ کہیں زیادہ نرمی اور احترام سے پیش آتے ہیں۔ جارجیا میلونی نے ردعمل میں کہا تھا کہ امریکی صدر کے بیانات سراسر من گھڑت ہیں، میں سچ مچ حیران ہوں، میں نہیں جانتی کہ امریکہ کے صدر اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرتے ہیں؟ یہ پہلی بار نہیں ہے۔ میں صرف اتنا کہہ سکتی ہوں کہ یہ مایوس کن ہے کہ وہ مغرب اور امریکہ کے دشمنوں کے خلاف ایسی پختہ عزم کا مظاہرہ نہیں کرتے جن کے لیڈروں کے ساتھ وہ اس کے بجائے کہیں زیادہ نرمی سے پیش آتے ہیں۔ ایک بات ہے جو انہیں یاد رکھنی چاہئے کہ میں اور اٹلی کبھی کسی سے بھیک نہیںمانگتے ہیں۔