کوپ ۲۸؍ میں رکازی ایندھن کو منصفانہ اور مساوی طریقے سے ترک کرنے پر عالمی اتفاق رائے قائم ہونے کے تین سال بعد بھی اس سمت میں پیش رفت کے طریقۂ کار اور مالی وسائل کے حوالے سے صورت حال پوری طرح واضح نہیں ہے۔
EPAPER
Updated: November 05, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi
کوپ ۲۸؍ میں رکازی ایندھن کو منصفانہ اور مساوی طریقے سے ترک کرنے پر عالمی اتفاق رائے قائم ہونے کے تین سال بعد بھی اس سمت میں پیش رفت کے طریقۂ کار اور مالی وسائل کے حوالے سے صورت حال پوری طرح واضح نہیں ہے۔
کوپ ۲۸؍ میں رکازی ایندھن کو منصفانہ اور مساوی طریقے سے ترک کرنے پر عالمی اتفاق رائے قائم ہونے کے تین سال بعد بھی اس سمت میں پیش رفت کے طریقۂ کار اور مالی وسائل کے حوالے سے صورت حال پوری طرح واضح نہیں ہے۔ کونسل آن انرجی، انوائرنمنٹ اینڈ واٹر (سی ای ای ڈبلیو) کی نئی تحقیق کس کی توانائی منتقلی؟ موسمیاتی مذاکرات میں رکازی ایندھن سے دور ہونے کے بیانیے کا جائزہ میں کوپ ۳۰؍ کی صدارت کی جانب سے رکازی ایندھن سے متعلق روڈ میپ پر موصول ہونے والی ۲۱؍ تجاویز (۱۱۵؍ ممالک کی جانب سے) کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’کنگ‘‘ کے گیت ’’تو مل جائے‘‘ کیلئے ایڈ شیرن کے سامنے صرف ایک شرط رکھی گئی تھی
تحقیق کے مطابق توانائی کی منتقلی محض اخراج میں کمی یا توانائی کے ذرائع کی تبدیلی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا ترقی پذیر ممالک میں روزگار، بجٹ اور صنعتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے یہ منتقلی اسی وقت منصفانہ ہو سکتی ہے جب اس میں سب کو شامل کیا جائے۔کوپ ۳۱؍ کی صدارت نے ۲۰۳۵ء تک عالمی سطح پر بجلی کے استعمال کو ۳۵؍ فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سی ای ای ڈبلیو کے تجزیے کے مطابق ہندستان میں موجودہ رجحانات کی بنیاد پر ۲۰۳۵ء تک توانائی کی حتمی کھپت میں بجلی کا حصہ تقریباً ۲۷؍ فیصد ہو جائے گا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی مساوات برقرار رکھنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک ۴۰؍ سے۴۵؍ فیصد کا بلند ہدف مقرر کر سکتے ہیں، جبکہ ہندوستان جیسے ممالک اپنی رفتار کے مطابق اسے حاصل کر سکتے ہیں۔
سی ای ای ڈبلیو کی ایک اور تحقیق ہولڈنگ اپ دی مرر کے مطابق ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ (بیسک گروپ) سمیت صرف سات ممالک ۲۰۳۰ء کے لیے اپنے قومی سطح پر طے شدہ تعاون (این ڈی سی) کے اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس کے برعکس یورپی یونین، برطانیہ، سوئزرلینڈ اور کنیڈا جیسی ترقی یافتہ معیشتیں اپنے اہداف سے پیچھے چل رہی ہیں۔ ہندوستان نے اپنی مجموعی نصب شدہ بجلی پیداوار کی صلاحیت میں غیر فوسل توانائی کا ۵۰؍ فیصد حصہ رکھنے کا ہدف مقررہ مدت (۲۰۳۰ء) سے پانچ سال پہلے ہی ۲۰۲۵ء میں حاصل کر لیا تھا، جو جولائی ۲۰۲۶ءتک بڑھ کر ۵۴؍ فیصد ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی رینکنگ: مچل اسٹارک پھر ٹیسٹ کرکٹ کے نمبر ایک گیند باز بن گئے
یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جنوری ۲۰۲۶ء تک ایک سال کے دوران یورپی یونین کو ہندوستان کی خام ایلومینیم کی برآمدات میں تقریباً ۴۲؍ فیصد کمی آئی ہے۔ سی ای ای ڈبلیو نے تجویز پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کا فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی (یو این ایف سی سی سی)، عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) اور اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی سے متعلق تنظیم (انکٹاڈ) کے اشتراک سے ایک مستقل تکنیکی کمیٹی قائم کی جائے، جو ترقی پذیر ممالک پر اس طرح کی پالیسیوں کے اثرات کا جائزہ لے۔
سی ای ای ڈبلیو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جیمز ابراہم اور ادارے کے سینئر عہدیداروں نے زور دیا ہے کہ کوپ ۳۱؍ میں منصفانہ منتقلی کا نظام نافذ کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کے پروگرام شروع کرنے اور ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کو مالی امداد فراہم کرنے کے انتظامات کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔