• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے ساتویں ماہ میں عالمی تیل کی قیمتوں میں ۳؍ فیصد اضافہ

Updated: September 24, 2026, 10:04 PM IST | New Delhi

عالمی تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو تقریباً ۳؍فیصد کا اچھال آیا اور بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت ۳؍فیصد بڑھ کر۲۴ء۱۰۶؍ ڈالر فی بیرل ہوگئی، تاہم بعد میں معمولی کمی آئی۔ ایران جنگ کے ساتویں ماہ میں تنازع کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی برقرار رہنے کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

OIl Price.Photo:INN
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این

عالمی تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو تقریباً ۳؍فیصد کا اچھال آیا اور بین الاقوامی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت ۳؍فیصد بڑھ کر۲۴ء۱۰۶؍  ڈالر فی بیرل ہوگئی، تاہم بعد میں معمولی کمی آئی۔ ایران جنگ کے ساتویں ماہ میں تنازع کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی برقرار رہنے کے باعث قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:ویر داس کو’ ’فُل والیوم‘‘ کے لیے تیسری بار انٹرنیشنل ایمی میں نامزدگی ملی

گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی تھی، کیونکہ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ کسی معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے تیل اور گیس کی ترسیل بحال ہوسکتی ہے۔ اسی دوران دنیا بھر کے رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک میں جمع ہوئے تھے۔ تاہم بدھ کو ہونے والی ملاقاتوں سے تنازع ختم کرنے کی سمت کسی قابل ذکر پیش رفت کے اشارے نہ ملنے کے بعد یہ امیدیں دم توڑ گئیں۔ جنگ نے مغربی ایشیا میں ٹینکروں کی آمدورفت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
امریکی معیار خام تیل کی قیمت جمعرات کی صبح تقریباً ۲؍ فیصد بڑھ کر ۹۴؍ ڈالر فی بیرل سے کچھ کم ہوگئی، جبکہ امریکی منڈیوں کے کھلنے سے قبل برینٹ کی قیمت ۲؍ فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ ۱۰۵؍ڈالر فی بیرل سے اوپر رہی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت اب بھی تقریباً ۷۲؍ ڈالر فی بیرل کی اس سطح سے کافی زیادہ ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ جنگ شروع کیے جانے سے قبل ریکارڈ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:جیانی انفانٹینو تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے: امریکی عدالتی کمیٹی

امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات اس ہفتے دوبارہ شروع ہوئے ہیں، تاہم اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافہ ایران کی اس وارننگ کے بعد بھی ہوا ہے کہ امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملوں کی صورت میں ایران توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحیرہ احمر میں بحری جہاز رانی کے خلاف وسیع تر ردعمل دے سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر بحر ہند تک بھی پھیل سکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ہفتے ایران کے ٹھکانوں پر دوبارہ حملے کرنے کی بارہا دھمکی دی ہے، جس سے تنازع کی سمت اور عالمی توانائی کی رسد پر اس کے سنگین ممکنہ اثرات کے حوالے سے پہلے سے موجود غیر یقینی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK