• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی کا گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ، ملک گیر احتجاج کا انتباہ

Updated: September 24, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi

کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ۴۸؍ گھنٹے میں استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ پارٹی نے ایس آئی آر عمل کو منجمد کرنے اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar. Photo: INN
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ گیانیش کمار مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایات پر کام کر رہے ہیں۔ سی جے پی نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ۴۸؍ گھنٹوں کے اندر استعفیٰ نہیں دیا تو وہ ملک گیر احتجاج شروع کریں گے۔ سی جےپی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا، ’’گیانیش کمار کے استعفیٰ دئیے بغیر ہم یہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔‘‘ سی جے پی کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کا یہ مطالبہ بدھ کودی انڈین ایکسپریس کی اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ دو الیکشن کمشنرز نے ۱۰؍ ماہ کے دوران ووٹر لسٹوں کی خصوصی اور تفصیلی نظرثانی سے متعلق فیصلوں پر ۱۴؍ مرتبہ اعتراضات اٹھائے تھے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں پر باقاعدہ اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ کچھ فیصلے ان کے علم میں لائے بغیر کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امیت شاہ کی میٹنگوں سے مسلم افسران کی بے دخلی کی رپورٹنگ: مکتوب میڈیا پر مقدمہ

اطلاعات کے مطابق ان کے اعتراضات نئے ووٹرز کے اندراج، فارم ۶؍ میں تبدیلیوں (فارم ۶؍ نئے ووٹرز کے اندراج کیلئے استعمال ہوتا ہے)، مغربی بنگال میں ووٹرز کو شامل کئےجانے کے خلاف اپیلوںاور گوا میں ووٹرز کے ڈیٹا کو ہینڈل کرنے سمیت دیگر امور پر تھے۔ ایک تحریری اعتراض میں سندھو کے حوالے سے بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے دونوں کمشنرز کے مشورے کے خلاف کام کیا اور انہوں نے اس اقدام کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا۔ ان دونوں الیکشن کمشنرز نے ڈجیٹل ووٹر لسٹ کے ڈیٹا بیس تک رسائی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

دہلی میں پریس کانفرنس کے دوران دپکے نے دعویٰ کیا کہ گیانیش  کمار مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ’’ہدایات پر کام کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ حکمراں جماعت بی جے پی آخرگیانیش کمار کا دفاع کیوں کر رہی ہے۔ دپکے نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی ’’نظام میں اصلاحات‘‘چاہتی ہے تاکہ الیکشن کمشنرز کا تقرر شفاف انداز میں ہو اور وہ کسی کے ’’چہیتے‘‘نہ ہوں۔ تاہم یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ تمام انتخابات کو فی الحال روک دیا جائے، ایس آئی آر کو فوری طور پر ’’منجمد‘‘کیا جائے اور ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کے اس پورے عمل کی آزادانہ انکوائری کرائی جائے۔ سی جےپی نے مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹوں کو واپس یوں بحال کیا جائے جیسی وہ ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے جنوری ۲۰۲۵ء میں تھیں۔ خبر رساں ایجنسی اسکرول کی رپورٹ کے مطابق، جون ۲۰۲۵ء میں اس عمل کے آغاز کے بعد سے ہی ایس آئی آر کے نفاذ کے طریقہ کار اور رفتار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ خدشات بھی ظاہر کئےجا رہے ہیں کہ اس سے اصلی ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں جس سے انتخابی نتائج پر اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی اخبارات کی سرخیاں: ایس آئی آر کے فیصلوں پر الیکشن کمشنرز کے اعتراضات سرِفہرست

کاکروچ جنتا پارٹی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ الیکشن کمشنرز کے تقرر سے متعلق ۲۰۲۳ء کے قانون کو منسوخ کیا جائے۔ سی جے پی کے مطابق، ’’سول سوسائٹی کی فعال شمولیت کے ساتھ ایک نیا قانون تیار کیا جائےاور انتخاب کا ایسا آزادانہ عمل اپنایا جائے جو عوام کا اعتماد بحال کر سکے۔‘‘ اس قانون کے مطابق، الیکشن کمیشن کے سربراہ اور دیگر دو اعلیٰ اراکین کی تقرری ایک سلیکشن کمیٹی کی سفارشات پر کی جاتی ہے، جس میں وزیر اعظم، مرکزی کابینہ کا ایک وزیر اور لوک سبھا کااپوزیشن لیڈر شامل ہوتاہے۔ اس کمیٹی کی تشکیل کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی بات پر اختلافِ رائے ہو تو اپوزیشن لیڈر کے مقابلے میں حکومت کو ۲؍ (۱:۲)کی اکثریت حاصل ہوتی ہے۔ بدھ کو، سپریم کورٹ نے اس قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو بڑی بینچ کے پاس بھیج دیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی بدھ کو کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور رپورٹ میں دی گئی معلومات پر سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ بدھ کو دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد، الیکشن کمیشن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ’’ابتدائی مراحل اور مسودے کی تیاری کے دوران کمیشن کے اراکین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات یا تجاویز، ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کیلئے معمول کی انتظامی کارروائی کا حصہ ہیں۔‘‘ الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا،’’کسی بھی ادارے کے غور و خوض کے عمل میں مختلف آراء اور مشاہدات کا ہونا ایک عام بات ہے۔ حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے یہ چیزیں فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ ہوتی ہیں۔‘‘ کمیشن نے مزید کہا کہ منظوریوں، فیصلوں، ہدایات اور اقدامات کے ایک بہت بڑے مجموعے کو نظر انداز کرتے ہوئے ۱۰؍ ماہ کے دوران لکھے گئے چند مخصوص اندرونی نوٹس کو اچھالنا ’’صرف تصویر کا ایک رخ پیش کرنے کے مترادف ہے‘‘۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK