• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی عرب : مکہ معظمہ کے لیے ’ممکنہ خطرے‘ کا انتباہ جاری

Updated: September 24, 2026, 10:01 PM IST | Riyadh

سعودی عرب نے ایک مہینے میں دوسری بار مکہ معظمہ کیلئے’’ ممکنہ خطرے ‘‘کا انتباہ جاری کیا ہے، سعودی عرب کے مغربی ساحل، بشمول بحیرہ احمر کے صوبے ینبع کے ساتھ طائف، جدہ اور تبوک کو بھی اسی طرح کی وارننگز موصول ہوئیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

سعودی سول ڈیفنس نے جمعرات کو اسلام کے مقدس ترین مقام کے حامل مقدس شہر مکہ کے لیے الرٹ جاری کیا، ایسی وارننگز جو عام طور پر میزائل کے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس نے کہا کہ مملکتکے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کی جانب سے ممکنہ خطرے کے بارے میں وارننگ پیغامات بھیجنے کے بعد مکہ اور سعودی عرب کے کئی دیگر حصوں کو الرٹ پر رکھا گیا۔سعودی سول ڈیفنس کی ڈائریکٹوریٹ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’مکہ شہر میں نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کی جانب سے ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے وارننگ جاری کی گئی ہے،‘‘اور رہائشیوں کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ مغربی کنارے میں مزید ’محاذِ کشیدگی‘ نہیں چاہتا: وزیر خارجہ مارکو روبیو

سول ڈیفنس نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں، اور فوری طور پر قریب ترین محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں، جیسے کہ کسی عمارت کے اندر یا کھڑکیوں سے دور کسی اندرونی کمرے میں، اور خطرہ ٹلنے تک وہیں رہیں۔لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا کہ وہ کھلی جگہوں، کھڑکیوں، شیشے، بالکونیوں اور چھتوں سے دور رہیں؛ ہجوم یا خطرناک علاقوں سے بچیں؛ اور خطرہ ختم ہونے تک اپنے گھروں یا عمارتوں سے باہر نہ نکلیں۔جو لوگ پہلے سے باہر تھے انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ قریب ترین عمارت میں داخل ہوں یا کسی مضبوط رکاوٹ کے پیچھے پناہ لیں۔ جو لوگ وارننگ موصول ہونے کے وقت گاڑی چلا رہے تھے انہیں کہا گیا کہ وہ سڑک کے کنارے رکیں، پلوں اور بلند عمارتوں سے دور رہیں۔ مزید برآںسعودی سول ڈیفنس نے لوگوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ تصاویر نہ لیں اور خطرناک مقامات کے قریب نہ جائیں۔جو لوگ کسی بھی خطرے کو محسوس کریں انہیں مکہ، مدینہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں۹۱۱؍ پر، اورمملکت کے دیگر حصوں میں۹۹۸؍ پر رابطہ کرنے کو کہا گیا۔ حکام نے رہائشیوں پر بھی زور دیا کہ وہ سرکاری ذرائع سے جاری ہدایات پر عمل کریں۔یہ الرٹس چند منٹ بعد ہٹا دیے گئے۔ 
واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں، یہ الرٹ اکثر یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے حملوں سے پہلے آتے رہے ہیں۔یہ ایک مہینے سے بھی کم عرصے میں دوسری بار ہے کہ حکام نے مکہ کے لیے اس طرح کی وارننگ جاری کی ہے۔سعودی عرب کے مغربی ساحل کے دیگر علاقوں کے لیے بھی الگ الگ وارننگز جاری کی گئیں، بشمول بحیرہ احمر کے صوبے ینبع کے ساتھ طائف، جدہ اور تبوک کے علاقے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے، سعودی عرب نے حوثیوں پر الزام لگایا کہ انہوں نے مکہ کو ایک ڈرون سے نشانہ بنایا جسے مار گرایا گیا۔ جبکہ حوثیوں نے الزامات کی تردید کی ہے۔ 
دریں اثناء ایران کے حمایت یافتہ حوثی اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت تہران کی امریکہ کے ساتھ جنگ کے دوران نئی لڑائی میں ملوث ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے مملکت پر سمندری ناکہ بندی کا اعلان کیا اور بحیرہ احمر میں اس کے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔اس مہینے کے شروع میں، حوثیوں نے سعودی حمایت یافتہ حکومتی افواج سے علاقہ چھیننے کے بعد باب المندب آبنائے کے اوپر واقع اسٹریٹجک ساحلی علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا، جو سعودی تیل کی برآمدات کے لیے اہم ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہند-یو اے ای-فرانس نے سہ فریقی تعاون کا جائزہ لیا، اہم امور پرگفتگو

۲۰۲۲ء کی سعودی-حوثی جنگ بندی جولائی میں اس وقت ختم ہو گئی جب حوثیوں نے ایک ایرانی پرواز کو براہ راست صنعا ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت دی۔ اس کے بعد سعودی زیرقیادت افواج نے صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنایا تاکہ لینڈنگ کو روکا جا سکے یا اس پر سزا دی جا سکے۔اس کے بعد حوثیوں نے جنوبی سعودی عرب کی طرف جوابی حملے شروع کیے۔سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے فائر کیے گئے۶؍ بیلسٹک میزائل مار گرائے گئےبعد میں، سعودی اتحاد نے کہا کہ اس نے حوثیوں کے فائر کیے گئے چھ بیلسٹک میزائل روک لیے۔یمن میں سعودی زیرقیادت اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ ان کی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے فائر کیے گئے چھ بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔المالکی نے مزید کہا، ’’ حوثی ملیشیا کی طرف سے کشیدگی اور خلاف ورزیوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK