ناسا نے عوام کو ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے، جس کے تحت وہ اپنے نام زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن تک بھیج سکتے ہیں۔ یہ نام ڈریگن فلائی نامی روبوٹک خلائی مشن کے ذریعے ٹائٹن تک پہنچائے جائیں گے، جہاں یہ مشن سائنسی تحقیق انجام دے گا۔
EPAPER
Updated: October 31, 2026, 8:02 PM IST | Washington
ناسا نے عوام کو ایک منفرد موقع فراہم کیا ہے، جس کے تحت وہ اپنے نام زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن تک بھیج سکتے ہیں۔ یہ نام ڈریگن فلائی نامی روبوٹک خلائی مشن کے ذریعے ٹائٹن تک پہنچائے جائیں گے، جہاں یہ مشن سائنسی تحقیق انجام دے گا۔
اگر آپ کو خلائی ذرات اور کائنات کے رازوں میں دلچسپی ہے اور آپ کبھی خلا میں جانے کا خواب دیکھتے ہیں تو ممکن ہے کہ زندگی میں یہ خواب پورا نہ ہو سکے، لیکن امریکی خلائی ادارہ ناسا (NASA) آپ کو ایک منفرد موقع فراہم کر رہا ہے، جس کے ذریعے آپ اپنا نام نظامِ شمسی کے دور دراز علاقے تک پہنچا سکتے ہیں۔ ناسا کے مشن ’’ڈریگن فلائی‘‘ (Dragonfly) کے تحت ایک روبوٹک ہیلی کاپٹر زحل کے چاند ٹائٹن (Titan) پر اترے گا۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مشن ہوگا۔ ناسا نے عوام کو دعوت دی ہے کہ وہ اپنے نام اس فہرست میں شامل کروائیں، جنہیں ڈریگن فلائی اپنے ساتھ ٹائٹن تک لے جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: حوثی زیرانتظام علاقوں میں سعودی عرب کے فضائی حملے،۱۴؍ افراد ہلاک
اپنا نام فہرست میں کیسے شامل کریں ؟
جو لوگ اس منفرد خلائی سفر کا حصہ بننا چاہتے ہیں، وہ ناسا کی ویب سائٹ کے اس لنک پر جا کر اپنے نام کا اندراج کروا سکتے ہیں :
https://go.nasa.gov/dragonfly-names
تفصیلات درج کرنے کے بعد ناسا کی ویب سائٹ آپ کے نام سے ایک خصوصی بورڈنگ پاس تیار کرے گی۔ اس میں آپ کا نام، مشن کی روانگی کی تفصیلات، ڈریگن فلائی کے طے کرنے کا تخمینہ شدہ فاصلہ اور ٹائٹن پر اس کی متوقع لینڈنگ کا وقت درج ہوگا۔ اس کے ساتھ اس روبوٹک ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی موجود ہوگی، جو زحل کے اس چاند کی سطح کا جائزہ لے گا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ ہماری سیٹوں کے بجائے مودی وارانسی کی خبر لیں‘‘
زحل کے چاند پر حیرت انگیز خلائی مشن
ناسا کے ہیڈکوارٹرز، واشنگٹن میں سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر نکی فاکس (Nicky Fox) نے کہا کہ ڈریگن فلائی مشن لوگوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ان کے مطابق، اس مشن کے ذریعے ناسا پہلی مرتبہ ایک روبوٹک ہیلی کاپٹر کے ذریعے سائنسی تحقیق کرے گا۔ اس کا مقصد زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کا جائزہ لینا اور وہاں زندگی کے وجود کیلئے سازگار حالات کے آثار تلاش کرنا ہے۔ ٹائٹن کو دور دراز دنیا میں زمین سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے اجرامِ فلکی میں شمار کیا جاتا ہے۔