Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک سال سونا خریدنے سے گریز کے مشورہ سے سنار خوش نہیں

Updated: May 14, 2026, 2:58 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

صارفین میں بھی بے چینی۔ ۳؍ لاکھ مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا اندیشہ۔سناروں کی تنظیم نے وزیر اعظم سے اس معاملے میں نظرثانی کی اپیل کی۔

Craftsmen Are Seen Busy At Work In A Jewelry Factory. Photo: INN
زیورات بنانے کے ایک کارخانہ میں کاریگرکام میں مصروف نظر آرہے ہیں۔ (تصویر: آئی این این
 عالمی مسائل اور چیلنجوں سے نمٹنے نیز غیر ملکی زر مبادلہ کو بچانے کیلئے وزیراعظم نریندر مودی نے عوام کو مشورے دیئے تھے جن میں ایک سال تک سونے (گولڈ) کی خریداری کو  ٹالنے کی صلاح  بھی شامل  تھی  کیونکہ عوامی ضرورت کا ۹۰؍ فیصد سونا بیرونی ملکوں سے درآمد کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے فارین ایکس چینج ریزرو پر بوجھ پڑتا ہے۔ وزیر اعظم کے اس بیان سے سونے کے کاروباریوں، بیوپاریوں اور سناروں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔سناروں کی  تنظیم  کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے اعلان سے دکانداروں کے علاوہ اس پیشہ سے وابستہ شہر ومضافات کے تقریباً ۳؍ لاکھ کاریگروں اور مزدوروں کے بے روزگا ر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ویسے بھی ہمارے کاروبار کو کورونا  دو ر سے نحوست لگی ہے ، ایک تو سونے کا بھائو ۳؍گُنا بڑھ جانے سے کاروبار بری طرح متاثر ہے اور اب ایک سال تک سونا  خریدنے سے گریز کی نصیحت سے پریشانی مزید بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔  چنانچہ وزیر اعظم کے مذکورہ بیان پر ازسر نو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہوسکتا ہے تو سناروں کیلئے بھی لاڈلی بہن جیسی کوئی اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ ان کی بھی کچھ مالی مدد ہوسکے ۔ 
 
 
آل انڈیا گولڈ اسمتھ ورکرس فائونڈیشن کے صدر رنجیت دتا نے انقلاب کو بتایا کہ ’’سونے کا کاروبار کرنے والوں پر کورونا کی وباء کے دوران سے نحوست لگی ہے، حالانکہ کورونا ختم ہوئے ۵۔۴؍سا ل گزر چکے ہیں، اس کے باوجود کوروناکے دور کی مندی نے سوناروں کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ اس کے علاوہ اس مدت میں سونےکی ۳؍ گُنا قیمت بڑھنے سے کاروبار پر بہت برا اثر پڑا ہے ۔ مہنگا ہونے سے عام لوگوں نے سونا خریدنا کم کر دیا ہے ۔ اب بھی ہماری صنعت ان آزمائشوں سے نبردآزما ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم کے مذکورہ بیان نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے ۔ اس بیان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ورنہ سناروں کا برا حال ہو جائے گا ۔‘‘انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ شہرومضافات میں تقریباً ۳؍لاکھ افراد جو کاریگری اور مزدوری کے پیشے سے وابستہ ہیں ،ان کی روزی روٹی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ جنوبی ممبئی کے زویری بازار میں تقریباً ڈیڑھ  لاکھ کاریگر اور مزدور اس پیشہ سے منسلک ہیں۔ علاوہ ازیں مضافاتی علاقوں میں بھی ڈیڑھ لاکھ لوگ سونے کے زیورات بنانے کے کارخانوں میں کام کرتے ہیں۔ اگر سونے کی خریداری رک گئی تو ان سب کے بےروزگار ہونے کا ڈر ہے۔ لہٰذا وزیر اعظم نے جو بیان جاری کیا ہے ،اس پر دوبارہ غور کیا جائے اور سونے کی خریداری کو ٹالنے کامشورہ تبدیل کیا جائے ۔ اگر یہ ممکن نہیں ہے تو ان لوگوںکیلئے لاڈلی بہن جیسی اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ ان کی بھی کچھ مالی مدد ہوسکے۔‘‘
 
 
زویری بازار میں واقع اُمیدمل ترلوک چند جیولر س کے مالک اور انڈیابُلین اینڈ جیولرس کے ترجمان کمار جین کے مطابق ’’ وزیر اعظم کی اپیل سے سناروں کے علاوہ صارفین میں بھی خوف پایا جا رہاہے ۔ جو صارفین سونا خریدنا چاہتے ہیں ، وہ سہمے ہوئے ہیں ، فون کر کے دریافت کر رہےہیں کہ دکان کے پاس پولیس کا پہرہ تونہیں لگا ہے۔ہم انہیں بتا رہے ہیں کہ ایسا کچھ نہیں ہے ، تب وہ سونا خریدنے آ رہے ہیں۔ صارفین کو ضرورت سے زیادہ نہ سہی لیکن ضرورت کےمطابق سونا خریدنے کی اجازت دی جائے ۔ اگر سال بھر سونے کی خریداری کو ٹالنے کا مشورہ دیا گیاتوہماری صنعت بری طرح متاثرہوگی۔ وزیر اعظم  بیرونی ملکوں سے سونے کی درآمد کم کر کے غیر ملکی زر مبادلہ پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ملک میں گولڈ مونیٹائزیشن اسکیم متعارف کرائیں، اس اسکیم سے غیر ملکی زرمبادلہ کے مسئلہ پر قابو پایا جاسکتاہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK