• Sun, 20 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہوانا، کیوبا: بجلی کا بحران شدید تر، واحد مسجد مسلمانوں اور ضرورت مندوں کا سہارا

Updated: September 19, 2026, 10:08 PM IST | Havana

گزشتہ دن کیوبا میں اس سال کا ۷؍ واں بڑا بلیک آؤٹ، بعض علاقوں میں بجلی کی بندش ۶۰؍ گھنٹے تک پہنچ رہی ہے۔ اس بحران کے درمیان دارالحکومت ہوانا کی واحد فعال مسجد عبداللہ سے شہریوں کو امدادی سامان کے ساتھ شمسی توانائی سے فون چارج کرنے کی مفت سہولت اور ادویات دی جارہی ہیں۔

Havana`s Abdullah Mosque. Photo: X
ہوانا کی عبداللہ مسجد۔ تصویر: ایکس

کیوبا شدید توانائی اور معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور ایسے میں ہوانا کے قدیم علاقے ہابانا ویئخا میں قائم ملک کی واحد باقاعدہ مسجد عبداللہ مسجد صرف عبادت گاہ نہیں رہی بلکہ محدود وسائل کے درمیان سبھی کے لیے مدد اور رابطے کا ایک اہم مرکز بھی بن گئی ہے۔ مسجد میں بیرونِ ملک سے پہنچنے والے امدادی سامان میں قرآن مجید کے ہسپانوی تراجم، جائے نماز، حلال وٹامنز، بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات اور شمسی توانائی سے چلنے والے موبائل فون چارجرز شامل ہیں۔ یہ سامان ایسے وقت پہنچ رہا ہے جب بجلی اور ضروری اشیاء کی قلت نے عام زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ مسجد سے متعلق تازہ رپورٹ کے مطابق ہابانا ویئخا عام حالات میں سیاحوں سے بھرا رہنے والا علاقہ ہے، جہاں نوآبادیاتی عمارتوں کے درمیان ہوٹل، ریستوران اور دکانیں موجود ہیں۔ اسی علاقے کی ایک نسبتاً پرسکون گلی میں عبداللہ مسجد واقع ہے۔ یہ مسجد ۲۰۱۵ء میں ایک سابق میوزیم کی عمارت میں قائم ہوئی تھی۔ اس میں اب ۲؍ ہزار مصلیان کی گنجائش ہے۔ سعودی عرب کے تعاون سے کیوبا کے ساتھ مل کر اس کی اندرونی تزئین و آرائش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا CNN، MS NOW اور پولیٹیکو کو وہائٹ ہاؤس سے باہر رکھنے کا اعلان

مسجد کے امام الیکسیس عقیل سانچیز تامایو کے مطابق کیوبا میں تقریباً ۸؍ ہزار مسلمانوں کی چھوٹی سی برادری موجود ہے، جس میں مقامی نومسلموں کے ساتھ غیر ملکی طلبہ، سفارتی عملہ اور دیگر مقیم افراد بھی شامل ہیں۔ مسجد میں ۳؍ ائمہ خدمات انجام دیتے ہیں، جن میں ۲؍ فلسطینی ہیں۔ جمعہ کی نماز کی امامت باری باری کی جاتی ہے۔ امام کے مطابق ۲۰۱۵ء میں رمضان کے دوران مسجد کے افتتاح کے بعد یہ کیوبا کی مسلم برادری کا مرکزی مقام بن گئی۔

مگر مسجد کے اردگرد کی زندگی اس وقت شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ ایندھن، خوراک اور ادویات کی قلت کے ساتھ بجلی کی بندش نے معمولات زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ایک الگ حالیہ رپورٹ کے مطابق کیوبا میں ضروری ادویات کی دستیابی معمول کی سطح کے صرف تقریباً ۳۰؍ فیصد تک رہ گئی ہے، جبکہ کئی خاندان بیرونِ ملک مقیم رشتہ داروں یا مقامی امدادی نیٹ ورک کے ذریعے دوائیں حاصل کر رہے ہیں۔ اسی ضرورت کے پیش نظر عبداللہ مسجد تک پہنچنے والی امداد میں موبائل فون کے شمسی چارجرز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ مسلسل بجلی کی بندش کے دوران موبائل فون ہی بیرونی دنیا سے رابطے، خاندانوں سے بات چیت اور ضروری معلومات حاصل کرنے کا اہم ذریعہ بن جاتا ہے۔ مسجد تک پہنچنے والی امداد میں ادویات اور دیگر ضروری اشیاء بھی شامل ہیں، جس سے یہ جگہ مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی باہمی مدد کا مرکز بنتی دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ، ڈنمارک اور امریکہ کے درمیان آرکٹک سیکوریٹی معاہدہ اگلے ہفتے متوقع

بحران کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ۱۹؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو کیوبا کا قومی بجلی کا نظام ایک بار پھر مکمل طور پر بیٹھ گیا۔ سرکاری بجلی کمپنی کے مطابق بجلی کے قومی نظام کا مکمل انقطاع ہوا اور بحالی کے لیے ہنگامی کارروائی شروع کی گئی۔ یہ ۲۰۲۶ء میں ملک کا ۷؍ واں بڑا ملک گیر بلیک آؤٹ ہے۔ جمعہ کی شام تک ہوانا میں صرف تقریباً ۵؍ فیصد صارفین کو بجلی واپس مل سکی تھی۔ ملک کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی بحال کرنے کے لیے محدود ’’مائیکرو گرڈ‘‘ قائم کیے گئے، جبکہ اسپتالوں اور ہنگامی مراکز کو ترجیح دی گئی۔ تازہ رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں دارالحکومت کے بعض علاقوں میں بجلی کی بندش ۳۰؍ گھنٹے سے زیادہ اور دور دراز صوبوں میں ۶۰؍ گھنٹے سے بھی زیادہ تک پہنچ چکی ہے۔

کیوبا کی بجلی کی پیداوار کا نظام پرانا ہے اور ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ سرکاری حکام نے تازہ بلیک آؤٹ کی وجہ بجلی کی ترسیلی لائنوں میں خرابی اور غیر مستحکم موسمی حالات کو قرار دیا ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے جنوری سے عائد توانائی پابندیوں نے ایندھن کی درآمد اور بجلی گھروں کے لیے ضروری پرزہ جات کی دستیابی کو مزید محدود کیا ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے بحران کی ذمہ داری کیوبا کی حکومت کی پالیسیوں اور انتظامی مسائل پر عائد کی جاتی ہے، جبکہ ہوانا امریکی پابندیوں کو بنیادی وجہ قرار دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس میں پارلیمانی انتخابات کا آغاز ، یوکرین جنگ کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات

عبداللہ مسجد کے امام سانچیز تامایو نے موجودہ حالات کو کیوبا کے عوام کے لیے سخت قرار دیتے ہوئے کہا، ’’ہم مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یقین ہے کہ ہماری زندگی میں پیش آنے والی ہر چیز اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ ہم اسی حوصلے کے ساتھ اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ مسجد کے مستقبل سے متعلق بھی منصوبہ موجود ہے۔ امام کے مطابق ہوانا کی بندرگاہ کے قریب ایک زیادہ بڑی مسجد بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، جس میں موجودہ مسجد کے مقابلے میں زیادہ سہولتیں اور اضافی خدمات فراہم کرنے کی گنجائش ہوگی۔ اس منصوبے کے لیے بھی ریاض کی حمایت کا ذکر کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK