’پروجیکٹ سن کیچر‘ کے تحت 4 TPU چپس مدار میں پہنچیں گی، مقصد تابکاری، حرارت اور خلا میں کمپیوٹنگ کی صلاحیت جانچنا ہے۔
EPAPER
Updated: September 25, 2026, 10:06 PM IST | Mountain View
’پروجیکٹ سن کیچر‘ کے تحت 4 TPU چپس مدار میں پہنچیں گی، مقصد تابکاری، حرارت اور خلا میں کمپیوٹنگ کی صلاحیت جانچنا ہے۔
گوگل مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کو زمین سے خلا تک منتقل کرنے کے اپنے تجرباتی منصوبے Project Suncatcher میں اگلے ہفتے ایک اہم قدم اٹھانے جارہا ہے۔ کمپنی یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ایک تجرباتی سیٹیلائٹ خلا میں بھیجے گی جس میں گوگل کی ۴؍ Tensor Processing Units (TPUs) نصب ہوں گی۔ یہ مشن کسی مکمل فعال خلائی ڈیٹا سینٹر کا آغاز نہیں بلکہ اس بات کی جانچ کا پہلا عملی مرحلہ ہے کہ AI چپس خلا کے انتہائی سخت ماحول میں قابلِ اعتماد طریقے سے کام کرسکتی ہیں یا نہیں۔ یہ سیٹیلائٹ SpaceX Falcon 9 راکٹ کے Transporter-18 rideshare مشن کے ذریعے کم زمینی مدار (Low Earth Orbit) میں پہنچایا جائے گا۔ سیٹیلائٹ کو گوگل نے Planet Labs کے تعاون سے تیار کیا ہے اور اسے MVP یعنی Minimum Viable Product کا نام دیا گیا ہے۔ اس میں موجود 4 TPUs کی مجموعی کمپیوٹنگ صلاحیت تقریباً ایک عام ڈیٹا سینٹر سرور کے برابر ہوگی، یعنی یہ مشن ابھی بڑے پیمانے پر AI ماڈلز چلانے والے ڈیٹا سینٹر سے بہت دور ہے۔
We’re sending TPUs to space (yes, really).
— Google (@Google) September 24, 2026
After years of research, we’re launching a satellite to evaluate if and how Google Tensor Processing Units (TPUs) hold up in orbit.
The test mission, as part of our latest moonshot — Project Suncatcher — is designed to gather data… pic.twitter.com/LaPuYonb3w
گوگل کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے AI چپس خلا کے ماحول میں کتنی دیر اور کتنی قابلِ اعتماد کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ زمین کے ماحول سے باہر موجود تابکاری الیکٹرانک سرکٹس کو متاثر کرسکتی ہے اور کمپیوٹر کے ڈیٹا میں ’’bit flips‘‘ پیدا کرسکتی ہے، جن میں کسی بائنری قدر کا 0 سے 1 یا 1 سے 0 میں تبدیل ہونا شامل ہے۔ گوگل نے زمین پر تابکاری کے تجربات کیے ہیں، لیکن کمپنی کے مطابق حقیقی مداری ماحول میں براہ راست تجربہ اس ٹیکنالوجی کی عملی حدود سمجھنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ حرارت کو خلا میں خارج کرنا ہے۔ زمین پر ڈیٹا سینٹرز میں سرورز اور AI چپس کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہوا اور کولنگ سسٹم استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن خلا کے خلا میں روایتی airflow cooling کام نہیں کرتی۔ گوگل نے اس کے لیے heat pipes اور radiators پر مشتمل نظام تیار کیا ہے، جو چپس سے پیدا ہونے والی حرارت کو سیٹلائٹ کے بیرونی radiators تک پہنچا کر خلا میں خارج کرے گا۔
ابتدائی تجربے میں AI چپس مسلسل گھنٹوں کام نہیں کریں گی۔ دستیاب تکنیکی تفصیلات کے مطابق حرارت خارج کرنے کی موجودہ صلاحیت کی وجہ سے TPUs کو تقریباً ۱۵؍ منٹ کے وقفوں میں چلایا جائے گا، جس کے بعد انہیں ٹھنڈا ہونے کے لیے بند کرنا پڑے گا۔ گوگل اس دوران اپنے Gemini ماڈلز سے متعلق مختصر AI کام بھی چلانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ اصل مداری ماحول میں کمپیوٹنگ کس طرح انجام پاتی ہے۔ Project Suncatcher کا بنیادی تصور یہ ہے کہ مستقبل میں سورج کی تقریباً مسلسل دستیاب توانائی کو استعمال کرتے ہوئے مدار میں AI کمپیوٹنگ مراکز قائم کیے جائیں۔ زمین کے مقابلے میں مدار میں موجود شمسی پینلز کو سورج کی روشنی زیادہ مسلسل مل سکتی ہے، جس سے توانائی سے بھرپور AI کمپیوٹنگ کے لیے ایک ممکنہ نیا راستہ پیدا ہوسکتا ہے۔ گوگل کا تصور ایسے سیٹیلائٹس کے نیٹ ورک کا ہے جو آپس میں تیز رفتار لیزر روابط کے ذریعے جڑے ہوں اور مل کر بڑے AI workloads پر کارروائی کریں۔
گوگل نے نومبر ۲۰۲۵ء میں Project Suncatcher کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ طویل مدتی مقصد شمسی توانائی سے چلنے والے ایسے سیٹیلائٹس کا نیٹ ورک بنانا ہے جن میں اس کے TPU چپس نصب ہوں۔ کمپنی کے ابتدائی منصوبے کے مطابق 2027 میں مزید ۲؍ سیٹیلائٹس لانچ کرکے ان کے درمیان high-bandwidth laser communication کا تجربہ کیا جائے گا۔ اس نظام کے ذریعے مستقبل کے کئی مداری کمپیوٹنگ یونٹس ایک دوسرے سے رابطہ کرکے ایک بڑے distributed AI computing system کے طور پر کام کرسکیں گے۔ تاہم گوگل کے موجودہ تجربے کو ’’خلائی ڈیٹا سینٹر‘‘ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق اس پہلے مشن کا مقصد بنیادی طور پر مداری ڈیٹا جمع کرنا اور ممکنہ failure points کی نشاندہی کرنا ہے، نہ کہ تجارتی سطح پر صارفین کو AI کمپیوٹنگ فراہم کرنا۔ ماہرین نے بھی بڑے پیمانے پر اس تصور کو عملی شکل دینے میں لانچ لاگت، تابکاری سے تحفظ، حرارت خارج کرنے، سیٹیلائٹ کی تیاری اور بڑے پیمانے پر مطلوبہ انفرااسٹرکچر جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
اس منصوبے میں گوگل اکیلا نہیں ہے۔ SpaceX اور Starcloud سمیت دیگر کمپنیاں بھی مدار میں ڈیٹا سینٹرز یا کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر کے امکانات پر کام کررہی ہیں۔ اس دلچسپی کی ایک بڑی وجہ AI کی تیزی سے بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضرورت ہے، جس کے لیے زمین پر ڈیٹا سینٹرز کو زیادہ بجلی، زمین اور کولنگ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ خلا میں شمسی توانائی کے وسیع تر استعمال کو بعض ماہرین مستقبل کی اس ضرورت سے نمٹنے کا ممکنہ ذریعہ سمجھتے ہیں، اگرچہ اس تصور کی معاشی اور تکنیکی افادیت ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ گوگل خود بھی اس منصوبے کے تجارتی مستقبل کے بارے میں محتاط ہے۔ کمپنی کی تازہ وضاحت کے مطابق موجودہ مشن بڑے پیمانے پر خلائی AI انفرااسٹرکچر قائم کرنے سے پہلے سیکھنے کا مرحلہ ہے۔ اگر ابتدائی تجربات کامیاب رہتے ہیں تو ۲۰۲۷ء کے مزید تجربات سیٹیلائٹس کے درمیان لیزر روابط اور بڑے کمپیوٹنگ کلسٹرز کی بنیاد رکھنے میں مدد دیں گے۔ گوگل کے مطابق Project Suncatcher کو کسی عملی تجارتی پروڈکٹ میں تبدیل ہونے میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔