• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گوگل کے اے آئی ماڈل سے زراعت میں انقلابی تبدیلیاں

Updated: September 01, 2026, 9:05 AM IST | New Delhi

موجودہ اور مستقبل کی غذائی تحفظ سے متعلق تشویشات کو دور کرنے کے لیے زراعت کے موجودہ طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے تیار کردہ دو اے آئی ماڈلز اس کوشش میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

A I Farming.Photo:INN
اے آئی سے زراعت۔ تصویر:آئی این این

موجودہ اور مستقبل کی غذائی تحفظ سے متعلق تشویشات کو دور کرنے کے لیے زراعت کے موجودہ طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ کے تیار کردہ دو اے آئی ماڈلز اس کوشش میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔یہ دونوں ماڈلز ایگری کلچرل لینڈ اسکیپ انڈراسٹینڈنگ  (اے ایل یو) اور ایگری کلچرل مانیٹرنگ اینڈ ایونٹ ڈیٹیکشن  (اے ایم ای ڈی) سیٹیلائٹ سے حاصل کردہ تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے کھیتوں کی سرحدوں کی نقشہ نگاری (میپنگ) کرتے ہیں اور زرعی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پروفیشنل سروسیز میں ہر۱۰؍ میں سے ۸؍ جین زی ملازمین ملازمت چھوڑنے کے خواہش مند

خاص طور پر ہندوستان کے زرعی نظام کی مدد کے لیے بنائے گئے ان ماڈلز کے نتائج کو ایشیا-بحرالکاہل  اور افریقہ کے ۱۱؍ ممالک کے ماہرین کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔ ان ماڈلز کے آؤٹ پٹ اے پی آئی کی شکل میں اور گوگل ارتھ پر مفت دستیاب کرائے گئے ہیں۔ اے ایل یو ڈیٹا لیئر عالمی سطح پر گوگل ارتھ کی مقبول ترین لیئرز میں سے ایک ہے۔ دراصل عالمی زرعی و غذائی شعبہ مسلسل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۲۰۲۵ء میں دنیا کی موجودہ آبادی کے۲۵؍ فیصد سے زائد افراد غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے تھے، جس کے لیے عالمی غذائی پیداوار میں ۵۰؍ فیصد تک اضافہ ناگزیر ہے۔ ان ماڈلز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے حل تیار کیے جا رہے ہیں جو ہندوستانی اور عالمی زرعی شعبے دونوں کو مستحکم کرتے ہیں۔ ان میں پائیدار زراعت کے طریقوں سے لے کر کسانوں کی قرض تک بہتر رسائی، مضبوط پالیسی فیصلے اور موثر وسائل کی منتقلی شامل ہیں۔
اسے  چند مثالوں سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ کاربن فارم نے چاول کی کاشت کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے والے پروگراموں میں کھیت کی سطح پر حد بندی کو خودکار بنانے کے لیے اے ایل یو اے پی آئی اور جیمنی کا استعمال کیا ہے۔ یہ ۲۰۳۰ء تک ۲۰؍ لاکھ ہیکٹر میں کم کاربن والی چاول کی کاشت کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اے ایل یو اور اے ایم ای ڈی اے پی آئی کا استعمال کرتے ہوئے، ٹیرا اسٹیک نے ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا ہے جس نے ۱۴؍ کروڑ ہیکٹر سے زائد زرعی زمین کا نقشہ تیار کیا ہے۔ اس سے کھیتوں میں ذاتی طور پر جانے کی ضرورت کم ہو گئی ہے اور زراعت کے معاملے میں تیزی سے اور زیادہ درست فیصلے لینے میں مدد مل رہی ہے۔
تلنگانہ کا ایڈیکس  پلیٹ فارم ریاست کے ۵۰؍ لاکھ سے زائد کسانوں کو فائدہ پہنچانے والی جدت طرازیوں کے لیے اے ایل یو اور اے ایم ای ڈی کا استعمال کر رہا ہے۔ اس میں ریاست کی کرشی واس  ایپلیکیشن کا ایک پائلٹ پروجیکٹ بھی شامل ہے۔ یہ فصل، موسم کے پیٹرن اور مقامی کیڑوں کے حملے پر درست اور انتہائی مقامی مشورے فراہم کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کی نئی جیو-اے آئی-فار-اسٹیٹس  پہل زرعی پائیداری کی نگرانی کو مضبوط کرنے کے لیے اے ایل یو اور اے ایم ای ڈی کو اپنے عالمی کراپ گرڈز ڈیٹا کے ذخیرے میں شامل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کرناٹک کے محکمہء آبی وسائل  نے آبپاشی کو مضبوط کرنے کے لیے اے ایل یو اور اے ایم ای ڈی کو مقامی موسم اور ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کے ساتھ مربوط کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:میدویدف کی یو ایس اوپن میں شاندار واپسی

ان ماڈلز کے استعمال پر تبصرہ کرتے ہوئے، گوگل ڈیپ مائنڈ کے شعبہء زراعت اور پائیدار ترقیاتی تحقیق کے سربراہ آلوک تالیکر نے کہا’’ہماری اینتھرو کرشی ٹیم ایسے ہدف شدہ زرعی حلوں کی حمایت کے لیے وقف ہے جو پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور موسمیاتی اثرات کو کم کرنے دونوں کا کام کرتے ہیں۔ ہندوستان میں تیار کردہ ہمارے اے آئی ماڈلز کا کسانوں کے قرض، فصل کے مشوروں اور پالیسی فیصلوں میں بڑھتا ہوا استعمال ہندوستانی اور عالمی دونوں سطحوں پر ہمارے نقطہء نظر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ جیسے جیسے یہ ماڈلز مزید ممالک میں وسعت پائیں گے، ہم غذائی تحفظ اور زرعی لچک جیسی اہم عالمی ترجیحات کے لیے نئی امکانات کی امید کرتے ہیں۔‘‘ جیسے جیسے مختلف شعبوں میں ان کا استعمال بڑھ رہا ہے، گوگل اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی اینتھرو کرشی ٹیم ڈیٹا پر مبنی معلومات فراہم کرنے اور زیادہ پیداواری، لچکدار اور پائیدار مستقبل کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK