Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انوکھی شہزادی

Updated: May 01, 2026, 4:59 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

اسکاٹ لینڈ کے معروف ادیب جارج میکڈونالڈ کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی لائٹ پرنسس‘‘ The Light Princessکا اردو ترجمہ۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

کسی ملک پر ایک بادشاہ کی حکومت تھی۔ اس کے پاس سب کچھ تھا، سوائے اولاد کے۔ بادشاہ اور ملکہ کے پاس وسیع سلطنت تھی، شاندار محل تھے، وفادار رعایا تھی، اور ہر وہ آسائش موجود تھی جس کا تصور کیا جا سکتا ہے مگر وہ ایک بچے کے منتظر تھے۔ 
برسوں کے انتظار کے بعد، آخرکار وہ دن آیا جب محل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ اس کی آمد نے اس خاموش خلا کو بھر دیا جو عرصے سے ان کی زندگی میں موجود تھا۔ بادشاہ نے جشن کا اعلان کیا، محل کو سجایا گیا، اور دور دور سے مہمانوں کو دعوت دی گئی۔ یہ صرف ایک جشن نہیں تھا بلکہ ایک اعلان تھا کہ اب ان کی زندگی مکمل ہو گئی ہے۔ نام رکھنے کی تقریب بڑے اہتمام سے منعقد ہوئی۔ شاہی دربار روشن تھا، دیواروں پر مشعلیں جل رہی تھیں، اور ہر طرف خوشی کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ دربار میں مختلف پریاں مدعو تھیں، جو نومولود شہزادی کو دعائیں دینے آئی تھیں۔ ہر پری نے آگے بڑھ کر اسے کوئی نہ کوئی خوبی عطا کی، کسی نے حسن، کسی نے ذہانت، اور کسی نے خوشی۔ مگر ایک پری کو دعوت نہیں دی گئی تھی۔ وہ پری جو برسوں سے دربار سے دور رکھی گئی تھی، جسے لوگ بھولنا چاہتے تھے مگر جو خود کو بھولنے نہیں دیتی تھی۔ وہ اچانک ظاہر ہوئی۔ 
کمرے کی روشنی جیسے مدھم ہو گئی، اور ایک سرد سی ہوا دربار میں پھیل گئی۔ سب کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ گئیں، جہاں وہ کھڑی تھی، خاموش مگر اپنی موجودگی سے سب کو بے چین کرتی ہوئی۔ بادشاہ پریشان ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جس کا اسے خوف تھا۔ 
’’تم نے مجھے دعوت نہیں دی...‘‘ اس نے آہستہ سے کہا مگر اس کی آواز میں ایک ایسی گہرائی تھی جو کمرے کے ہر کونے تک پہنچ گئی۔ کسی نے جواب نہیں دیا۔ خاموشی ہی اس کا جواب تھی۔ وہ آگے بڑھی۔ اس کی نظر سیدھی شہزادی پر جا ٹھہری۔ 
’’تو یہ ہے تمہاری خوشی...‘‘ اس نے کہا۔ پھر اس نے ہاتھ اٹھایا۔ اور ایک جملہ کہا جو سب کچھ بدل دینے والا تھا۔ ’’یہ بچی... کبھی وزن محسوس نہیں کرے گی۔ ‘‘ یہ الفاظ سادہ تھے، مگر ان کے اثرات غیر معمولی تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر

ایک لمحے کیلئے سب کچھ خاموش ہو گیا۔ پھر ایک اور پری آگے بڑھی، وہ جو ابھی تک اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اس نے جلدی سے کہا، ’’میں اس بددعا کو مکمل ختم تو نہیں کر سکتی، مگر اسے نرم کر سکتی ہوں۔ ‘‘
اس نے شہزادی کو دیکھا، اور آہستہ سے کہا، ’’وہ خوش رہے گی... مگر وہ زمین سے بندھی نہیں رہے گی...‘‘ یہ ایک ادھوری حفاظت تھی۔ ایک ایسی حفاظت جو مسئلے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک نئی شکل دے دیتی ہے۔ 
شروع میں کسی کو اس بددعاکا مکمل مطلب سمجھ نہیں آیا۔ شہزادی کسی عا م بچے کی طرح تھی، وہ ہنستی تھی، کھیلتی تھی، اور اس کے چہرے پر وہی معصومیت تھی جو ہر بچے میں ہوتی ہے۔ مگر آہستہ آہستہ ایک عجیب بات سامنے آنے لگی۔ وہ کبھی گرتی نہیں تھی۔ جب بھی وہ لڑکھڑاتی، وہ گرتی نہیں بلکہ ہوا میں ہلکی سی معلق ہو جاتی، جیسے اسے نیچے آنے سے کوئی روک رہا ہو۔ شروع میں یہ سب کو دلچسپ لگا، ایک عجیب سی کرامت، مگر جلد ہی یہ احساس ہونے لگا کہ یہ کوئی عام بات نہیں ہے۔ وہ چلتی نہیں تھی۔ وہ تیرتی تھی۔ اس کے قدم زمین کو چھوتے تو تھے، مگر اس میں وہ وزن نہیں تھا جو ایک انسان کو زمین سے جوڑتا ہے۔ وہ ہلکی تھی، اتنی ہلکی کہ کبھی کبھی وہ ہوا کے ساتھ بہنے لگتی، اور اسے پکڑنا پڑتا۔ بادشاہ اور ملکہ پریشان ہونے لگے۔ انہوں نے مختلف حکیموں کو بلایا، مختلف علاج آزمائے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ 
شہزادی کی عمر بڑھنے لگی۔ وہ خوبصورت تھی، اس کی ہنسی میں عجیب سی کشش تھی، اور آنکھوں میں ایسی روشنی تھی جو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ مگر اس کے اندر ایک کمی تھی۔ وہ غم سے نابلد تھی۔ وہ کبھی سنجیدہ نہیں ہوتی تھی۔ وہ ہر وقت اور ہر بات پر ہنستی تھی، جیسے دنیا میں کوئی بھی چیز اتنی اہم نہ ہو کہ اس پر غور کیا جائے۔ اگر کوئی اسے ڈانٹتا، تو وہ ہنس دیتی۔ اگر کوئی اسے سنجیدہ بات بتاتا، تو وہ اسے کھیل سمجھ لیتی۔ یہ صرف اس کے جسم کا ہلکاپن نہیں تھا۔ یہ اس کے وجود کا ہلکاپن تھا۔ 
محل کے اردگرد کی دنیا میں ایک جگہ ایسی تھی جہاں شہزادی خود کو سب سے زیادہ آزاد محسوس کرتی تھی، اور وہ جگہ تھی محل کے پیچھے واقع وہ وسیع جھیل، جس کا پانی ہمیشہ پرسکون رہتا تھا اور جس کی سطح پر آسمان کا عکس ایک مکمل تصویر کی طرح ٹھہرا رہتا تھا۔ یہ جھیل صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ ایسی جگہ تھی جہاں شہزادی کی عجیب حالت کسی حد تک ہم آہنگی پا لیتی تھی۔ جب وہ پانی کے قریب آتی، تو اس کے جسم کا وہ ہلکا پن جو اسے زمین پر بے چین کر دیتا تھا، یہاں ایک نعمت بن جاتا۔ وہ پانی میں اترتی، اور اس کا جسم بغیر کسی کوشش کے سطح پر تیرنے لگتا، جیسے وہ اسی کیلئے بنی ہو۔ پانی اسے تھام لیتا، اسے ایک ایسی نرمی دیتا جو زمین کبھی نہیں دے سکی تھی۔ وہ ہنستی، اچھلتی، اور اپنے آپ کو لہروں کے حوالے کر دیتی، اور اس لمحے میں وہ واقعی مکمل محسوس ہوتی۔ 
ایک دن، اسی جھیل کے کنارے ایک اور شخص آیا۔ وہ ایک شہزادہ تھا۔ وہ کسی اور سلطنت سے تھا، اور اس کا یہاں آنا محض اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سفر تھا جو اسے یہاں تک لے آیا تھا، شاید کسی انجانے مقصد کے تحت۔ وہ شکار کے بہانے اس علاقے میں آیا تھا لیکن اس کی نظریں جلد ہی اس جھیل پر ٹھہر گئیں، جیسے اس کے اندر کچھ تھا جو اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ وہ کنارے پر کھڑا تھا کہ اسے اچانک ایک ہنسی کی آواز سنائی دی۔ 
اور پھر اس نے پانی پر شہزادی کو تیرتے ریکھا۔ مگر یہ تیرنے کا عام انداز نہیں تھا۔ وہ پانی کے ساتھ کھیل رہی تھی، جیسے وہ اس کا حصہ ہو، جیسے وہ اس پر بوجھ نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ اس کی حرکت میں ایک ایسی آزادی تھی جو شہزادے نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔ شہزادہ آہستہ آہستہ قریب آیا۔ اس نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔ 
’’تم کون ہو؟‘‘ شہزادی نے پوچھا۔ جب شہزادے نے اسے

اپنے بارے میں بتایا تو وہ حسب عادت ہنس دی۔ شہزادہ حیران رہ گیا۔ کچھ وقت کے بعد شہزادہ اپنے کیمپ میں لوٹ گیا۔ 
دوسرے دن وہ پھر جھیل پر گیا جہاں شہزادی تیر رہی تھی۔ دونوں کے درمیان بات چیت بڑھنے لگی۔ وہ اب ہر دن اسے جھیل کے کنارے دیکھنے آتا، اس سے بات کرتا، اور اس کی ہنسی کو سنتا۔ مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ شہزادی کبھی سنجیدہ نہیں ہوتی تھی۔ یہ بات شہزادے کیلئے الجھن کا باعث بن گئی۔ ایک دن اس نے اس سے پوچھا، ’’کیا تم کبھی اداس بھی ہوتی ہو؟‘‘
شہزادی نے کچھ لمحوں کیلئے اسے دیکھا۔ پھر وہ ہنس دی، ’’اداس؟ وہ کیا ہوتا ہے؟‘‘ وہ واقعی نہیں جانتی تھی۔ وہ اداسی کو محسوس نہیں کر سکتی تھی۔ شہزادہ خاموش ہو گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون

اس کے ذہن میں ایک سوال آیا، ’’کیا وہ کسی ایسے شخص سے محبت کر سکتا ہے جو جذبات کو مکمل طور پر محسوس نہیں کرتا؟‘‘ لیکن یہ سوال بھی اسے شہزادی سے ملنے سے نہیں روک سکا۔ وہ روزانہ جھیل پر اس سے باتیں کرنے آتا۔ جھیل وہ واحد جگہ تھی جہاں شہزادی کا وجود کسی حد تک متوازن محسوس ہوتا تھا، جہاں اس کی ہنسی میں ایک مقصد پیدا ہوتا تھا، اور جہاں اس کی بے وزنی کسی کمی کے بجائے ایک ہم آہنگی میں بدل جاتی تھی۔ 
ایک صبح جب لوگ معمول کے مطابق جھیل کے کنارے آئے، تو انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ جھیل کا پانی کم ہو رہا تھا۔ یہ کوئی معمولی کمی نہیں تھی بلکہ ایک واضح تبدیلی تھی، جیسے جھیل آہستہ آہستہ اپنی زندگی کھو رہی ہو۔ سطح کم ہوتی جا رہی تھی، اور کناروں پر زمین ظاہر ہونے لگی تھی۔ ابتداء میں لوگوں نے اسے ایک عارضی مسئلہ سمجھا۔ مگر دن گزرتے گئے، اور پانی کم ہوتا گیا۔ جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ جھیل کسی قدرتی وجہ سے نہیں بلکہ کسی پوشیدہ مداخلت کی وجہ سے خالی ہو رہی ہے۔ تحقیق کی گئی۔ اور آخرکار یہ پتہ چلا کہ جھیل کا پانی ایک زیرِ زمین راستے سے دوسری جانب نکل رہا ہے، ایک ایسا راستہ جو کسی نے جان بوجھ کر کھولا تھا۔ ایسا اسی پری نے کیا تھا، جس نے شہزادی کو بددعا دی تھی۔ یہ اس کی ایک اور چال تھی، ایک ایسا وار جو براہِ راست نہیں تھا مگر اس کے اثرات زیادہ گہرے تھے۔ جھیل کے بغیر، شہزادی کے پاس کچھ نہیں بچتا۔ اور واقعی، جیسے جیسے پانی ختم ہونے لگا، ویسے ویسے شہزادی کے اندر بھی تبدیلی آنے لگی۔ وہ جھیل کے کنارے کھڑی رہتی، خالی زمین کو دیکھتی، اور اس کے چہرے پر پہلی بار وہ تاثر نظر آنے لگا جو پہلے کبھی نہیں تھا۔ وہ ہنس نہیں رہی تھی۔ وہ خاموش تھی۔ یہ خاموشی نئی تھی۔ شہزادہ بھی یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے جھیل کو دیکھا، اس کی حالت کو، اور پھر شہزادی کو۔ 
پھر اس نے ایک مشکل فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ پانی واپس نہ آیا، تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس پانی کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ اس زیرِ زمین راستے کو بند کرنا ہوگا۔ مگر یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ وہ ایک تنگ، اندھیری سرنگ تھی، جہاں پانی تیزی سے بہہ رہا تھا، اور جہاں کھڑا رہنا بھی مشکل تھا۔ اس سوراخ کو بند کرنے کیلئے کسی کو وہاں کھڑا ہونا ہوگا۔ اپنے جسم اور پوری وقت کے ساتھ، اور شاید ہمیشہ کیلئے۔ شہزادے نے شہزادی کی ہنسی کی واپسی کیلئے سوراخ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ 
’’اگر پانی واپس آ جائے...‘‘ اس نے آہستہ سے کہا، ’’تو کیا تم خوش ہو گی؟‘‘
شہزادی نے اس کی طرف دیکھا۔ اس بار وہ نہیں ہنسی۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس نے کسی سوال پر غور کیا۔ 
’’ہاں ...‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ شہزادہ اداسی سے مسکرایا۔ اور کچھ لمحوں کے بعد سرنگ کی طرف گیا۔ اس نے سوراخ میں اپنا جسم کچھ اس طرح رکھا کہ پانی دوسری جانب سے نہ نکل سکے۔ پانی کا بہاؤ تیز تھا۔ لیکن اس نے خود کو مضبوطی سے تھام لیا۔ آہستہ آہستہ، پانی کا بہاؤ رکنے لگا۔ اور جھیل دوبارہ بھرنے لگی۔ 
شہزادی نے جب جھیل میں پانی دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ اس کے اندر کچھ بدل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب وہ رو رہی تھی۔ اور اسی لمحے، وہ زمین پر گر پڑی۔ اب وہ بے وزن نہیں رہی تھی۔ اس نے وزن محسوس کیا تھا۔ دل کا وزن۔ اس کے ساتھ ہی جھیل کا پانی تیزی سے واپس آ رہا تھا، جیسے وہ اپنی کھوئی ہوئی جگہ کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے بے تاب ہو۔ سطح آب آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی، کنارے دوبارہ ڈوبنے لگے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایک غیر مطبوعہ اور طبع زاد کہانی: آئرش جادو

شہزادی زمین پر بیٹھی تھی۔ وہ پہلی مرتبہ ہوا میں نہیں بلکہ زمین پر تھی۔ اس کے دل میں احساس جاگ رہا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ زمین پر رکھے، جیسے وہ اس حقیقت کو محسوس کرنا چاہتی ہو، جیسے وہ یقین کرنا چاہتی ہو کہ وہ اب واقعی اس دنیا کا حصہ ہے۔ 
کچھ دیر بعد اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، اور وہ زارو قطار رونے لگی۔ یہ آنسو محبت جیسے گہرے احساس کا اظہار تھے۔ وہ جھیل کو دیکھ رہی تھی۔ اور اسے سب کچھ سمجھ میں آ رہا تھا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ پانی کیوں واپس آ رہا ہے، اور کس قیمت پر۔ اسی لمحے اس کے اندر ایک اور احساس پیدا ہوا، خوف۔ 
وہ اچانک کھڑی ہوئی، اس کا جسم لڑکھڑایا، کیونکہ وہ ابھی بھی اس نئے وزن کی عادی نہیں تھی۔ اس نے خود کو سنبھالا اور جھیل کی طرف دوڑنے لگی۔ وہ دوڑ رہی تھی۔ ہر قدم کے ساتھ زمین اس کے وجود کو محسوس کر رہی تھی، اور وہ زمین کو۔ وہ جھیل کے کنارے پہنچی، اور بغیر سوچے سمجھے پانی میں اتر گئی۔ 
وہ تیرتی ہوئی اس جگہ تک پہنچی جہاں اسے اندازہ تھا کہ شہزادہ ہوگا۔ اس نے ڈبکی لگائی اور شہزادے کو تلاش کرنے لگی۔ کچھ دیر بعد وہ اسے نظر آیا۔ وہ سرنگ کے دہانے پر تھا۔ اس کا جسم پانی کے بہاؤ کے خلاف جما ہوا تھا۔ وہ کمزور نظر آرہا تھا۔ شہزادی کا دل تیزی سے دھڑکنے اس کیلئے یہ دھڑکن بھی نئی تھی۔ یہ اسی وزن کا حصہ تھا جو اس نے ابھی محسوس کیا تھا۔ 
وہ شہزادے کے قریب گئی، اور اسے پکڑ لیا۔ اس کا جسم سرد تھا، مگر ابھی بھی مکمل طور پر بے جان نہیں تھا۔ شہزادی اسے کھینچ کر اوپر لے آئی۔ یہ مشکل کام کرنے میں اس کی سانس پھولنے لگی تھی۔ وہ اسے کنارے تک لے آئی۔ 
’’آنکھیں کھولو...‘‘ اس نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ یہ پہلی بار تھا جب اس نے کسی چیز کی اس شدت سے خواہش کی تھی۔ 
کچھ دیر بعد شہزادے نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ اس کی سانس کمزور تھی، مگر وہ زندہ تھا۔ شہزادی نے جب اسے آنکھیں کھولتے دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئی۔ 
’’تم... اب ہنس نہیں رہی...‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔ شہزادی کی آنکھو میں کے آنسو آگئے۔ 
’’نہیں ...‘‘ اس نے کہا، ’’میں اب بہت کچھ سمجھ رہی ہوں ...‘‘ اسی لمحے شہزادی کو محسوس ہوا کہ کچھ مکمل ہو گیا۔ پری کی بددعا ختم ہو چکی تھی۔ مگر یہ کسی جادوئی عمل سے نہیں ہوا تھا۔ یہ اس احساس سے ہوا تھا جو اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا۔ محبت کا احساس۔ 
جھیل مکمل بھر چکی تھی۔ پانی پرسکون ہو گیا تھا۔ اس میں آسمان صاف نظر آ رہا تھا۔ اور اس منظر میں ایک خاموش تکمیل تھی۔ 
کچھ دنوں بعد محل میں جشن منایا گیا۔ بادشاہ اور ملکہ اپنی ’’مکمل‘‘ بیٹی کو دیکھ کر خوشی سے سرشار تھے۔ وہ اب بدل چکی تھی۔ شہزادہ اس کے قریب کھڑا تھا۔ کچھ عرصے بعد ان دونوں کی دھوم دھام سے شادی ہوگئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK