Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایڈتھ کلارک: امریکہ کی پہلی پروفیشنل خاتون الیکٹریکل انجینئر

Updated: May 01, 2026, 4:53 PM IST | Mumbai

Edith Clarke نے برقی نظام کے تجزیہ اور ڈیزائن میں اہم ترین تبدیلیاں کیں جس سے جدید پاور گرڈ کی بنیاد پڑی، وہ گرافیکل کیلکولیٹر کی موجد تھیں۔

Edith Clarke is an example for women in the field of engineering. Photo: INN
ایڈتھ کلارک انجینئرنگ کے میدان میں خواتین کیلئے مثال ہیں۔ تصویر: آئی این این

ایڈتھ کلارک بیسویں صدی کی اُن ممتاز سائنسدانوں اور انجینئروں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے برقی توانائی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ کلارک نے الیکٹریکل پاور سسٹمز کے تجزیے میں تخصص حاصل کیا۔ انہیں اسمارٹ گرڈ(ایسا نظام جو مستقبل کے برقی نیٹ ورک کو ترقی دینے، مستحکم رکھنے اور قابلِ اعتماد بنانے میں مدد دیتا ہے) کی بنیاد رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ وہ پہلی شخصیت تھیں جنہوں نے پاور نیٹ ورکس کے بارے میں ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے اینالائزر کا استعمال کیا۔ امریکی محکمۂ توانائی کے مطابق ان کی کوششیں اسمارٹ گرڈ(Smart Grid) ٹیکنالوجی کی جانب پہلا قدم تھیں۔ اور انہیں اسمارٹ گرڈ کی ’’فاؤنڈنگ مدر‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ 
ایڈتھ کلارک۱۰؍ فروری۱۸۸۳ء کوہاورڈ کاؤنٹی، میری لینڈ میں پیدا ہوئی تھیں۔ بچپن ہی میں یتیم ہو جانے کے باعث انہیں زندگی کے ابتدائی مراحل میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے تعلیم کو اپنا سہارا بنایا۔ انہوں نے ریاضی اور فلکیات میں دلچسپی لیتے ہوئے وسار کالج سے۱۹۰۸ء میں بیچلر آف سائنس(بی ایس) کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ۱۹۱۹ء میں انہوں نے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(ایم آئی ٹی ) سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا۔ وہ اس ادارے سے یہ ڈگری لینے والی پہلی خاتون تھیں۔ انجینئرنگ کا شعبہ اس دور میں خواتین کیلئے ایک غیر روایتی میدان تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مریم مرزا خانی: ایرانی ریاضی داں، ’’ فیلڈز میڈل‘‘ جیتنے والی پہلی خاتون

ایڈتھ کلارک نے جنرل الیکٹرک میں ملازمت اختیار کی جہاں انہوں نے پاور سسٹمز کے تجزیے پر کام کیا۔ اس زمانے میں پیچیدہ برقی حساب کو ہاتھ سے کرنا نہایت مشکل تھا، لہٰذا کلارک نے ایک خاص کیلکولیٹنگ ڈیوائس ایجاد کی جسے’’کلارک کیلکولیٹر‘‘کہا جاتا ہے جو ٹرانسمیشن لائنز کے حساب کو آسان بنانے میں مددگار ثابت ہوئی۔ 
ان کی سب سے بڑی خدمات میں پاور سسٹمز کے استحکام اور تجزیے کیلئے نئے طریقہ کار وضع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے ’’symmetrical components‘‘ کے نظریے کو عملی طور پر استعمال کرتے ہوئے پیچیدہ تھری فیز سسٹمز کے مسائل کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیاجو آج بھی الیکٹریکل انجینئرنگ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق کو ایک کتاب کی صورت میں بھی پیش کیا جس کا عنوان’’Circuit Analysis of A-C Power Systems‘‘تھا جو اس میدان میں معیاری حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: نوبیل یافتہ احمد حسن زویل کو’’ فادر آف فیمٹوکیمسٹری‘‘ کہا جاتا ہے

ایڈتھ کلارک تدریسی شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔ یونیورسٹی آف ٹیکساس میں وہ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئیں جہاں وہ انجینئرنگ کی پہلی خاتون پروفیسر بھی بنیں۔ ان کی تدریس اور تحقیق نے آنے والی نسلوں کے انجینئروں پر گہرا اثر ڈالا۔ ایڈتھ کلارک کو اپنی زندگی میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا، جن میں امریکن انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل انجینئرزکی فیلوشپ بھی شامل ہے۔ ایڈتھ کلارک کا انتقال ۲۹؍ اکتوبر۱۹۵۹ءکو امریکہ میں ہوا تھا۔ 
(وکی پیڈیا )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK