مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے آج بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ملک میں اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے ۲۸۱۴؍ کروڑ روپے کے مالیاتی انتظام والی سرمایہ جاتی اخراجات امدادی اسکیم کو منظوری دی ہے۔
EPAPER
Updated: November 04, 2026, 9:07 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے آج بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ملک میں اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے ۲۸۱۴؍ کروڑ روپے کے مالیاتی انتظام والی سرمایہ جاتی اخراجات امدادی اسکیم کو منظوری دی ہے۔
حکومت نے اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے۲۸۱۴؍کروڑ روپے کے مالیاتی انتظام والی `سرمایہ جاتی اخراجات امدادی اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے آج بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے ملک میں اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے ۲۸۱۴؍ کروڑ روپے کے مالیاتی انتظام والی سرمایہ جاتی اخراجات امدادی اسکیم کو منظوری دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’بزدلی اور آمریت‘، ’’ستلج‘‘ کے ہدایت کار ہنی تریہن نئی سینسر بورڈ گائیڈ لائنز پر برہم
مرکزی وزیر نے کہا کہ پانچ سال کی مدت پر مشتمل اس اسکیم کا مقصد لیتھیم، نکل اور کوبالٹ جیسی اہم معدنیات کی گھریلو پروسیسنگ کی صلاحیت کو فروغ دینا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور ملک میں ایک مضبوط سپلائی چین تیار کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ اسکیم مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء سے ۳۱۔۲۰۳۰ء تک نافذ رہے گی۔ اس کے تحت لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ کے لیے چار پلانٹ قائم کیے جائیں گے۔ ان میں لیتھیم پروسیسنگ کے دو پلانٹ ہوں گے، جن میں ہر ایک کی کم از کم صلاحیت ۳۰؍ ہزار ٹن ہوگی۔ اسی طرح نکل پروسیسنگ کے دو پلانٹ قائم کیے جائیں گے، جن میں ہر ایک کی کم از کم صلاحیت ۵۰؍ ہزار ٹن مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:پاکستان کا سری لنکا کے خلاف ہوم ٹیسٹ سیریز کے لیے نیا منصوبہ
اسکیم کے تحت اہل سرمایہ کاری پر۳۰؍ فیصد سرمایہ جاتی سبسڈی دی جائے گی۔ لیتھیم کے ایک مستفید کو زیادہ سے زیادہ ۵۰۰؍ کروڑ روپے اور نکل کے ایک مستفید کو زیادہ سے زیادہ ۹۰۰؍ کروڑ روپے کی مالی امداد مل سکے گی۔ مستفیدین کا انتخاب دو مرحلوں کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں درخواست گزاروں کی تکنیکی اہلیت کا جائزہ لیا جائے گا اور صرف کامیاب درخواست گزار ہی دوسرے مرحلے میں مالی بولی میں حصہ لے سکیں گے۔ ہر معدنیات کے لیے دو، دو مستفیدین کا انتخاب کم سے کم لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ یعنی جس بولی دہندہ کی جانب سے سب سے کم سرمایہ جاتی امداد کا مطالبہ کیا جائے گا، اسے ترجیح دی جائے گی۔ مالی ترغیب کی ادائیگی مقررہ اہداف اور کام کی پیش رفت کی بنیاد پر تین مرحلوں میں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسکیم آتم نربھر بھارت کے ہدف کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اس سے ملک میں اہم معدنیات کی مکمل ویلیو چین تیار کرنے، گھریلو سطح پر ویلیو ایڈیشن بڑھانے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔