وزیر اعلیٰ فرنویس نے اسمبلی میں کہا کہ حکومت عدلیہ کو مضبوط بنانے، ججوں کی تقرری کے عمل کو تیز کرنے اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
دیویندرفرنویس۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کم کرنے اور عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے کیلئے خالی عدالتی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ریاستی اسمبلی میں کہا کہ حکومت عدلیہ کو مضبوط بنانے، ججوں کی تقرری کے عمل کو تیز کرنے اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کو مکمل طور پر فعال بنانے کیلئے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔اسمبلی کے جاری اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ریاستی حکومت ججوں کی تقرری اور ترقی کے عمل میں تیزی لانے کیلئے بامبے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے ساتھ اعلیٰ سطح پر تال میل قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہونے والی باضابطہ ملاقات میں اس معاملے کو اولین ترجیح کے طور پر اٹھایا جائے گا تاکہ عدالتی نظام میں موجود افرادی قوت کی کمی جلد دور کی جا سکے ۔ دیویندر فرنویس نے کہا کہ حکومت شہریوں کو بروقت اور مؤثر انصاف فراہم کرنے کیلئے پوری طرح سنجیدہ ہے اور اسی مقصد کے تحت عدالتی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ریاست نے حساس مقدمات، خصوصاً پوکسو قانون سے متعلق معاملات کی فوری سماعت کیلئے ۱۳۸؍ فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم عدالتی افسران کی کمی کے باعث اس وقت صرف۵۸؍ عدالتیں ہی کام کر رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بامبے ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں جاری بھرتی کا عمل آخری مرحلے میں ہے اور جیسے ہی یہ مکمل ہوگا، باقی فاسٹ ٹریک عدالتوں کو بھی مرحلہ وار فعال کر دیا جائے گا، جس سے زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیے میں مدد ملے گی۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت عدالتی ضروریات کے سلسلے میں بامبے ہائی کورٹ سے مسلسل رابطے میں ہے۔ باقاعدہ اجلاس اور سرکاری خط و کتابت کے ذریعے عدالتوں کو درکار سہولتیں اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے۔ اسمبلی میں اراکین کی جانب سے خصوصاً پونے اور دیگر بڑے شہروں کی ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ جہاں مقدمات کا بوجھ زیادہ ہوگا اور اعداد و شمار نئی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ثابت کریں گے، وہاں حکومت اضافی عدالتیں قائم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے تمام اضلاع اور شہروں کے مقدمات کے اعداد و شمار کا تفصیلی جائزہ لے گی جہاں مقدمات کی تعداد غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔ اگر نئی عدالتوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو ان کے قیام کیلئے درکار انتظامی اور مالی منظوری بھی فراہم کی جائے گی ۔