مسلسل احتجاج کے باوجود حکومت ٹھیکیداروں کی ۹۶؍ ہزار کروڑ روپے کی بقایا رقم ادا نہیں کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 12:01 PM IST | Mumbai
مسلسل احتجاج کے باوجود حکومت ٹھیکیداروں کی ۹۶؍ ہزار کروڑ روپے کی بقایا رقم ادا نہیں کر رہی ہے۔
ریاست کے سرکاری ٹھیکیداروں کے حکومت پر مجموعی طور پر ۹۶؍ ہزار کروڑ روپے بقایا ہیں متعدد احتجاج اور مطالبات کے باوجود یہ رقم ادا نہیں کی گئی ہے، اب تمام ٹھیکیداروں نے آئندہ ۷؍ اپریل سے ریاست گیر ہڑتال کا علان کیا ہے۔ ۷؍ اپریل سے پہلے حکومت نے ان کی بقایارقم ادا نہیں کی تو ریاست کے مختلف علاقوں میں جاری سرکاری تعمیراتی کام بند کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ مختلف محکموں کے تعمیراتی کام جو ٹھیکے پر دیئے جاتے ہیں ، ان ادائیگی سرکاری ضابطوں کے مطابق کی جاتی ہے۔ ٹھیکیداروں کو کہنا ہے کہ انہوں نے اپنا کام مکمل کر دیا ہے اور ضابطوں کی خانہ پری بھی ہو گئی ہے لیکن حکومت پیسے دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ سال بھی اس تعلق سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جا چکا ہے۔
اطلاع کے مطابق ریاستی حکومت کے آبی وسائل، شہری ترقی، دیہی ترقی اور سیاحت جیسے محکموں کیلئے کئے گئے تعمیراتی کاموں بل زیر التوا ہیں۔ اگر ان ٹھیکیداروں نے ہڑتال کرد ی تو ریاست میں سڑکیں، پل اور دیگر ترقیاتی کام ٹھپ ہو جانے کا امکان ہے۔ حکومت کئی پروجیکٹ رک جائیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ڈرائیونگ ٹیسٹ نظام میں بڑی اصلاحات کا اعلان، ٹیسٹ کوٹہ میں اضافہ
یاد رہے کہ پچھلے سال حکومت پر ٹھیکیداروں کے مجموعی طور پر ایک لاکھ ۱۶؍ہزار کروڑ روپے بقایا تھے۔ اس وقت احتجاج کی وجہ سے، ریاستی حکومت نے ٹھیکیداروں کو ۲۰؍ ہزار کروڑ روپے روپے ادا کئے، لیکن باقی رقم ابھی تک ادانہیں کی۔ یعنی مجموعی رقم کا ۸۰؍ فیصد حصہ اب بھی بقایا ہے۔ بار بار مطالبات کے باوجود حکومت اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے۔ لہٰذا مہاراشٹر اسٹیٹ کنٹریکٹرس فیڈریشن نے سرکاری کاموں کے بائیکاٹ کا انتباہ دیا ہے، جس سے سڑکیں، پل اور دیگر ترقیاتی کام ٹھپ ہو جائیں گے۔ بقایا جات کی وجہ سے ٹھیکیدار مالی مشکلات کا شکار ہیں اور کئی منصوبوں کا کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو اس کا ریاست کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ کیونکہ حکومت نے جن پروجیکٹوں کو شروع کیا ہے۔ رقم نہ ملنے کی وجہ سے ٹھیکیدار ان نئے پروجیکٹوں پر کام نہیں کر پا رہے ہیں۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ لاڈلی بہن اسکیم پرہر سال ۴۰؍ ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے والی حکومت اس کے ترقیاتی کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو ان کی محنت کا پیسہ کیوں نہیں دے رہی ہے؟