روس سے تیل کی خریداری کے حوالے سے جاری مختلف بیانات کے درمیان ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تیل کی درآمد کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت قومی مفاد اور ہم وطنوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 3:07 PM IST | New Delhi
روس سے تیل کی خریداری کے حوالے سے جاری مختلف بیانات کے درمیان ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تیل کی درآمد کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت قومی مفاد اور ہم وطنوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
روس سے تیل کی خریداری کے حوالے سے جاری مختلف بیانات کے درمیان ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ تیل کی درآمد کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت قومی مفاد اور ہم وطنوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے پیر کو سوالوں کے جواب میں کہا کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کو اپنی ضرورت کے لیے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرنا پڑتا ہے اور یہ مختلف ممالک اور ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن کہا کہ ہندوستان تیل کی درآمد کے معاملے میں کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی پہلے سے ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ ہم وطنوں کو سستا تیل فراہم کرنے کے لیے متنوع ذرائع سے سپلائی کی حکمت عملی پر کام کرتا رہا ہے۔ مسری نے کہا کہ ’’توانائی کے معاملے میں ہماری پہلی ترجیح اپنے صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم وطنوں کو وافر توانائی، مناسب قیمت پر اور قابل اعتماد و محفوظ سپلائی چین سے ملے۔‘‘ مسری کا یہ بیان امریکہ کے ان مسلسل دعوؤں کے درمیان آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان نے روس سے تیل کی درآمد پر روک لگانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا تھا کہ ہم وطنوں کی توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مجھے ہراساں نہ کریں: نصیرالدین شاہ کا رپورٹرس کو جواب
روپیہ ایک پیسہ کمزور
انٹر بینکنگ کرنسی مارکیٹ میں پیر کو روپیہ ایک پیسہ کمزور ہوا اور کاروبار کے اختتام پر ایک ڈالر۶۶ء۹۰؍ روپے کا رہا۔ ہندوستانی کرنسی مسلسل دوسرے دن کمزور ہوئی ہے۔ گزشتہ کاروباری دن پر یہ ۳۱؍ پیسے ٹوٹ کر۶۵ء۹۰؍ روپے فی ڈالر پر بند ہوئی تھی۔ روپے میں آج کافی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ ایک پیسہ گر کر۶۶ء۹۰؍ روپے فی ڈالر پر کھلا اور کاروبار کے دوران اوپر کی جانب۳۷ء۹۰؍ روپے جبکہ نیچے کی جانب ۷۷ء۹۰؍روپے فی ڈالر تک گیا۔
یہ بھی پڑھئے:ہند۔پاک ورلڈ کپ میچ: حتمی فیصلہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کریں گے
کمرشیل بینکوں کی جانب سے ڈالر کی خریداری بڑھانے سے روپے پر دباؤ رہا تاہم دیگر تمام عوامل نے اسے سہارا دیا۔ دنیا کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر انڈیکس میں ۶ء۰؍ فیصد کی بڑی گراوٹ سے روپے کو تقویت ملی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے بھی روپے کی گراوٹ محدود رہی۔