• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

قوانین کی پابندی کے تحت اذان کے حق میں مداخلت نہ کی جائے: الٰہ آباد ہائی کورٹ

Updated: October 06, 2026, 10:06 PM IST | Allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے اذان سے متعلق ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اذان اسلام کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن آواز کے متعلق بنائے گئے قوانین کی پابندی کرنا بھی ضروری ہے۔ تاہم عدالت نے انتظامیہ اور پولیس کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ شور کے قوانین کے زیر نظر مسجد میں اذان دینے کے حق میں مداخلت نہیں کی جانی چاہئے ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ آواز سے متعلق جو حد طے کی گئی ہے اس کے مطابق ہی اذان دی جائے اور ان قوانین کی پابندی کریں چاہے حکام ہو یا عوام ، بصورت دیگر کارروائی کی جائے گی۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود انتظامیہ اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ ا لٰہ آباد ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ سہارنپور ضلع کی ایک مسجد میں’’پانچ وقت کی اذان دینے کے حق‘‘ صوتی آلودگی کے قوانین کی سختی کے تحت مداخلت نہ کریں۔ جولائی میں عدالت میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں ضلع انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت دینے کیا مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ گگل ہیڑی علاقے کے پتھیڑ گاؤں میں واقع عائشہ مسجدکے انتظامیہ کو پانچوں وقت کی اذان دینے اور اس کیلئے لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت دیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق، لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت دینے والے عدالتی فیصلوں کے باوجود، مقامی انتظامیہ انہیں ایسا کرنے سے روک رہا تھا ۔ تاہم، ریاستی حکومت کے وکیل نے بنچ کے سامنے موقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کو سرے سے اذان دینے سے نہیں روکا گیا تھا، بلکہ ان سے صرف یہ کہا گیا تھا کہ وہ نوائس پولوشن رولز ۲۰۰۰ء  کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کریں، جن کے تحت ڈیسی بل کے لحاظ سے آواز کی ایک مقررہ حد طے کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ: ۳؍ نئے ججوں کا تقرر، عدالتِ عظمیٰ میں ججوں کی تعداد بڑھ کر۳۷؍ ہو گئی

مئی ۲۰۲۰ء کے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے کچھ اوقات بھی طے کئے گئے ہیں۔ ۲۰۲۰ء کے اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اذان اسلام کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر یا آواز بڑھانے والے دیگر آلات کے ذریعے اذان دینا مذہب کا ایسا لازمی حصہ نہیں ہے جس کیلئے آئین کی دفعہ ۲۵؍ کے تحت بنیادی حق کا تحفظ ضروری ہو۔ اس لئے، ضلع انتظامیہ کی جانب سے رات ۱۰؍ بجے سے صبح ۶؍ بجے کے درمیان کسی بھی صورت میں لاؤڈ اسپیکر یا آواز بڑھانے والے آلات کے استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

۲۰۲۰ء کے حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اگر متعلقہ حکام کے پاس ایسی کوئی درخواست آتی ہے تو اس پر قانون اور نوائس پولیوشن کے قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔درخواست گزاروں نے عدالت میں یقین دہانی کرائی کہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے متعلق کسی قانون یا عدالتی حکم کے خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اذان کے دوران تمام قواعد و ضوابط کی سختی سے پاسداری کی جائے گی۔ طرفین کے دلائل سننے کے بعد، جسٹس اجیت کمار اور جسٹس گریما پرشاد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یکم اکتوبر کے حکم میں درخواست گزاروں کو ایک حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت کی کہ وہ نوائس پولیوشن رولز ۲۰۰۰ء اور ہائی کورٹ کے ۲۰۲۰ء کے فیصلے پر مکمل عمل کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: گیانیش کمار کے خلاف احتجاج: عدالت نے ۱۷؍ طلبہ اور صحافیوں کو ضمانت دی

بنچ نے اپنے حکم میں مزید کہا، ’’تاہم، یہ پولیس اور ضلع انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست گزار حلف نامے میں دئیے گئے اپنے وعدے پر قائم رہیںاور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو حکام کے پاس قانون کے مطابق مناسب کارروائی کرنے کا اختیار رہے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK