Inquilab Logo Happiest Places to Work

حکومت ہوائی جہاز ایندھن کے دام پر سے سرچارج ہٹانے کیلئے ایئر لائنز سے بات کرے گی

Updated: June 25, 2026, 4:15 PM IST | New Delhi

ہوائی جہاز کے ایندھن کے دام اگر طویل عرصے تک کم رہتے ہیں تو حکومت ہوائی جہاز خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بڑھائے گئے سرچارج کو کم کرنے کے لیے بات کرے گی۔

Air Fuel.Photo:INN
ہوائی جہاز کا ایندھن۔ تصویر:آئی این این

ہوائی جہاز کے ایندھن کے دام اگر طویل عرصے تک کم  رہتے ہیں تو حکومت ہوائی جہاز خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مغربی ایشیا کے بحران کے دوران بڑھائے گئے سرچارج کو کم کرنے کے لیے بات کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے:پرینکا چوپڑا نے انجلینا جولی کے ساتھ نئے پروجیکٹ کی تصدیق کی


شہری ہوا بازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو نے جمعرات کو بنارس میں ایک پروگرام کے بعد میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی بازار میں ہوائی جہاز کے ایندھن کے داموں میں ابھی کمی ضرور آئی ہے لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ گراوٹ طویل عرصے کے لیے ہے یا بس کچھ دنوں کے لیے۔ انہوں نے کہا’’ہمیں کچھ وقت کے لیے اس پر نظر بنائے رکھنی ہوگی۔ دیکھنا ہوگا کہ قیمتیں طویل عرصے تک کم بنی رہتی ہیں یا یہ عارضی ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ مغربی ایشیا کا بحران شروع ہونے کے بعد مارچ اور اپریل میں ہوائی جہاز کے ایندھن کے دام تیزی سے بڑھے تھے۔ اسے دیکھتے ہوئے ہندوستانی فضائی کمپنیوں نے گھریلو اور بین الاقوامی پروازوں کے کرایوں میں فیول سرچارج بڑھا دیا تھا۔ نائیڈو نے کہا کہ حکومت فضائی کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ قیمتوں میں عدم استحکام کی وجہ سے آپریشنل نقطہ نظر سے گزشتہ چار مہینے ان کے لیے کافی دباؤ والے رہے ہیں۔ اس لیے، وزارت کچھ اور وقت کے لیے یہ دیکھنا چاہے گی کہ ہوائی جہاز کے ایندھن کے دام موجودہ سطح پر مستحکم رہتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھئے:جاپان: شمال مشرقی ساحل کے قریب طاقتور زلزلہ، سونامی کا خطرہ یا کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں


انہوں نے کہا’’ایک بار جب ہم مطمئن ہو جائیں کہ یہ طویل عرصے کے لیے مستحکم رہے گا، تو یقیناً ہم فضائی کمپنیوں سے  بات کریں گے۔ گزشتہ چار مہینوں میں جو بھی فیول چارجز یا اضافی چارجز لگائے گئے ہیں، ہم انہیں کم کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے فضائی کمپنیوں کو ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچانے کے لیے ۱۰؍ ہزار کروڑ روپے کی قیمتوں کے استحکام کی اسکیم  بھی شروع کی تھی جس سے انہیں راحت ملی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK