ایڈوکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر میں سپریم کورٹ کے سابق جج ابھئے ایس اوکا کا اظہار خیال۔
EPAPER
Updated: August 03, 2026, 10:59 AM IST | Nadeem Asran | Mumbai
ایڈوکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر میں سپریم کورٹ کے سابق جج ابھئے ایس اوکا کا اظہار خیال۔
گزشتہ روز ایڈوکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں سپریم کورٹ کے سابق جج ابھئے ایس اوکا کے علاوہ کئی قانون داں شریک ہوئے تھے ۔ اس دوران آئین کی دفعہ ۱۹(۱) (الف) اور آرٹیکل ۲۱؍ کو موضوع بنایا گیا تھا جس میں مقررین کو اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالنی تھی کہ حکومتیں اس پر عمل کررہی ہیں یا نہیں؟
یہ بھی پڑھئے:سروے: برطانیہ میں مصنوعی ذہانت پر عوامی اعتماد میں کمی
اس موقع پر سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ابھئے ایس اوکا نے افسوس کا اظہار کیا اور تنقید کرتے ہوئے حکومتوں کو خبر دار کیا کہ ’’ جب تک پر امن احتجاج اور حق کا تحفظ نہیں کیا جائے گا ، جمہوریت کا برقرار رہنا مشکل ہے۔‘‘ آئین کی مذکورہ دفعات کی روشنی میں جج اوکا نے مزید کہا کہ’’ شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کریں جو حکمرانوں کو پسند ہوں۔ہمیں آزادی حاصل ہوئے ۷۵؍ سال ہوچکے ہیں لیکن آئین کی دفعہ ۱۹(۱) (الف)اور آرٹیکل ۲۱؍ کو بالکل فراموش کر دیا گیاہے اور یہی وجہ ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی قبول کرنے میں حکومتیں مسلسل ناکام رہی ہیں۔ اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارا جمہوری نظام ایسا نہیںہے کہ احتجاج کرنے والوں یا کسی اسٹینڈ اپ کامیڈین کی باتوں سے حکومت خوفزدہ ہوجائے لیکن انتہائی افسوس اور فکر مندی کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اقتدار میں موجود لیڈران اختلاف رائے رکھنے والوں کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ احتجاج کرنے والے مظاہرین یا تنقید کرنے والوں پر مقدمات درج کر دیتے ہیں ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان کے نقشے سے شمال مشرق غائب، لولینا بورگوہین نے اعتراض کیا
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ میں نے شاذو نادر ہی دیکھا ہے کہ حکومتیں آزادی اظہار رائےکے اصولوں کا احترام کرتی ہوں ۔ میں ایسے سو مقدمات گنا سکتا ہوں جو آزادی اظہار رائے رکھنے اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج کئے گئے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل ۱۹؍کے تحت دی گئی آزادی اور آرٹیکل۲۱؍کے تحت زندگی اور شخصی آزادی کا حق ہر ہندوستانی کو حاصل ہے کیونکہ اختلاف رائے کو جمہوریت کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ حکومتوں کو عوام کے سوالات ، احتجاج ، مطالبات اور تنقیدوں کا جواب صبر و تحمل سے دینا چاہئے اور بات چیت کے ذریعہ حل نکالا جانا چاہئے۔‘‘