Inquilab Logo Happiest Places to Work

سروے: برطانیہ میں مصنوعی ذہانت پر عوامی اعتماد میں کمی

Updated: August 02, 2026, 10:16 PM IST | London

برطانیہ میں کیے گئے ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ابتدائی جوش و خروش میں نمایاں کمی آئی ہے اور رازداری، سیکوریٹی، ملازمتوں کے خاتمے اور چیٹ بوٹس سے متعلق خدشات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اس ٹیکنالوجی کا استعمال محدود یا ترک کرنے لگے ہیں۔

Artificial Inteligence.Photo:INN
مصنوعی ذہانت۔ تصویر:آئی این این

 برطانیہ میں کیے گئے ایک نئے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ابتدائی جوش و خروش میں نمایاں کمی آئی ہے اور رازداری، سیکوریٹی، ملازمتوں کے خاتمے اور چیٹ بوٹس سے متعلق خدشات کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اس ٹیکنالوجی کا استعمال محدود یا ترک کرنے لگے ہیں۔کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ فار دی فیوچر آف ڈجیٹل سوسائٹی اور اے آئی اِن دی یو کے کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق ۴۲؍ فیصد شرکا نے بتایا کہ انہوں نے چیٹ بوٹس کا استعمال کم کر دیا ہے، جبکہ نصف سے زائد افراد کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد کے ساتھ بڑے خطرات بھی وابستہ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:جسپریت بمراہ سری لنکا ٹیسٹ سیریز سے باہر، بورڈ نے آرام کا مشورہ دیا


رپورٹ تیار کرنے والے محققین نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کنگز کالج لندن کے مطابق مصنوعی ذہانت کے استعمال میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ڈیٹا کی رازداری، سیکیورٹی اور قانونی تقاضوں سے متعلق خدشات ہیں جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ بہت سے افراد پہلے سے رائج طریقۂ کار پر ہی کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
دو ہزار سے زائد برطانوی شہریوں پر کیے گئے اس سروے میں ۵۲؍ فیصد شرکا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے خطرات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں، جو گزشتہ سروے کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ ہے، جبکہ اے آئی کے بارے میں مثبت رائے رکھنے والوں کی شرح کم ہو کر ۳۴؍ فیصد رہ گئی۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بہت سے افراد خود کو چیٹ بوٹس اور دیگر اے آئی نظام استعمال کرنے پر مجبور محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں مستقبل میں مصنوعی ذہانت سے مکمل طور پر بچنا مشکل یا ناممکن ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ملازمت حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے لوگوں پر مصنوعی ذہانت سیکھنے اور استعمال کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے  تاہم جو افراد جان بوجھ کر اس کا استعمال نہیں کرتے، ضروری نہیں کہ وہ مہارت سے محروم ہوں۔ کنگز کالج لندن سے وابستہ محقق جیک اسٹیلگو نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی کمپنیاں عموماً یہ سمجھتی ہیں کہ وقت کے ساتھ لوگ کسی ٹیکنالوجی کو زیادہ پسند کرنے لگتے ہیں، مگر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں یہ تصور درست ثابت نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھئے:رام گوپال ورما اور اُرمیلا ماتونڈکر کی ’خفیہ شادی‘ کا دعویٰ، حقیقت کیا ہے؟


انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے سب سے بڑے حامی افراد بھی وقت گزرنے کے ساتھ اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں زیادہ فکرمند ہو گئے ہیں اور اسی طبقے میں اس کے استعمال سے ہچکچاہٹ بھی زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔کنگز کالج لندن کی محقق کیٹ ڈیولن نے کہا کہ لوگوں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے واضح اختیارات اور مؤثر کنٹرولز فراہم کیے جانے چاہییں تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکیں کہ کب اور کس حد تک اے آئی استعمال کرنی ہے اور ضرورت پڑنے پر اس سے دستبردار بھی ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK