گورنر کوشیاری ۲؍ دن کے اندر استعفیٰ دیں،اُدھو کا مطالبہ

Updated: November 29, 2022, 10:43 AM IST | Agency | Mumbai

سابق وزیر اعلیٰ نے گورنر کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں’مہاراشٹر بند‘ کی دھمکی دی ،ادھو ٹھاکرے نے گورنر کیلئے`’پارسل‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ `یہ پارسل جو امیزون سے آیا ہے، چلا جائے تو اچھا ہے ورنہ بھیج دیا جائے گا،شندےپر بھی تنقید، کہا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ کون ہے ؟

Uddhav Thackeray has targeted Koshyari as well as Shinde. Picture:INN
ادھو ٹھاکرے نے کوشیاری کے ساتھ ساتھ شندے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تصویر :آئی این این

ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا نےمہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کے خلاف آخری محاذ کھول دیا ہے۔  سابق  وزیر اعلیٰ  ادھوٹھاکرے نے گورنر سے دو دن کے اندر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا اورمستعفی نہ ہونے کی صورت میں مہاراشٹر بند کی دھمکی دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بند کے دوران کوئی فساد نہیں ہوگا، لیکن اس کا اثر دور رس ہوگا۔ ادھو ٹھاکرے نے گورنر کے لیے `’پارسل‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ `یہ پارسل جو امیزون سے آیا ہے، چلا جائے تو اچھا ہے ورنہ بھیج دیا جائے گا۔
 نیوز پورٹل ٹی وی ۹؍ کی ایک خبر کے مطابق ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ وہ اس کے لیے دو دن انتظار کریں گے۔ اس کے بعد مہاراشٹر میں زبردست احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے عوام چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ گورنر کے خلاف بیان دیتے ہوئے شیوسینا ادھو ٹھاکرے گروپ کے سربراہ  نے مزید کہا کہ گورنر اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ انہیں راج بھون میں نہیں ، اولڈ ایج ہوم میں رہنا چاہئے۔اس کے ساتھ ہی ادھو نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ایکناتھ شندے پر بھی سخت  الفاظ میں تنقید کی۔  ادھو نے کہا کہ  وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں وزیر اعلیٰ کون ہے، کوئی ہے بھی یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دہلی کی مدد سے حکومت چلا رہے ہیں ،کیا وہ گورنر کے خلاف کچھ کہہ سکیں گے؟
شیواجی پر تبصرہ پر ہنگامہ
 واضح رہےکہ حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران، مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے ایک تناظر میں چھترپتی شیواجی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں پرانے زمانے کا بتایا تھا اور کہا تھا کہ اس زمانے میں نتن گڈکری مثالی شخصیت ہیں۔ اس بیان پر اسی پرگرام میں مخالفت کی گئی تھی جس کے بعد اس معاملے کو ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیوسینا نے طول دیا۔ اس بیان کے خلاف مہاراشٹر میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ اب ادھو ٹھاکرے نے خود مہاراشٹر میں بند کی   د ھمکی دی  ہے۔ انہوں نے  اس کیلئے ۲؍ دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دو دنوں میں وہ گورنر کے استعفیٰ دینے اور مہاراشٹر چھوڑ کر جانے کا انتظار کریں گے۔
لاتور میں گورنر کو ہٹانے کیلئے میمورنڈم  
 شیواجی کے تعلق سےگورنر کے اس بیان  پر ممبئی ہی نہیں پورے مہاراشٹر میں ہنگامہ  ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا سے وابستہ کئی تنظیمیں موٹر سائیکل ریلیاں اور جلوس نکال کر مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں پارٹی کارکنوں نے لاتور میں بائیک ریلی نکالی تھی اور صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے نام تحصیلدار کو میمورنڈم سونپا تھا۔ اس میں شیوسینکوں نے گورنر کو فوری طورپر واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا  جوابی حملہ
 دوسری طرف وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے بیان کا جواب دیا ہے۔ ٹی وی ۹؍ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ جو لوگ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریات کو بھول گئے ہیں، وہ کم از کم ہمیں نصیحت نہ کریں، خاص طور پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے معاملے میں۔ شندے نے کہا کہ انہیں ادھو ٹھاکرے سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کو مسترد کردیاگیا ہے ، اس لیے وہ مایوسی کا شکار  ہیں۔
اُدھو کو دوسروں پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں
 وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے گروپ کو ادھو ٹھاکرے گروپ  کے ذریعے کامکھیا دیوی  کے درشن کیلئے گوہاٹی جانے پر سخت نشانہ  بنائے جانے پر بی جےپی لیڈر موہت کمبوج نے کہا ہےکہ ادھو ٹھاکرے کودوسروں پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔  ایکناتھ شندے کے ساتھ بی جے پی لیڈر موہت کمبوج بھی گوہاٹی میں کامکھیا دیوی کے درشن کیلئے گئے تھے۔  وزیر اعلیٰ  ایکناتھ شندے پر مسلسل حملوں کے جواب میںموہت کمبوج نے ادھو ٹھاکرے گروپ کونشانہ بنایا۔موہت کمبوج نے کہا کہ جو لوگ نہیں جانتے کہ ان کی پارٹی میں کیا چل رہا ہے، انہیں دوسری پارٹی پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جنہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا ایم ایل اے انہیں چھوڑنے والا ہے، دوسروں پر الزام لگانا انہیں زیب نہیں دیتا۔ بہتر ہو گا کہ وہ پہلے اپنی پارٹی پر توجہ دیں۔ موہت کمبوج نے نہ صرف ادھو ٹھاکرے پر بلکہ ایم پی سنجے راؤت پر بھی تنقید کی۔ کمبوج نے کہا کہ سنجے راوت گزشتہ تین ماہ سے جیل  میں تھے، اس لئے اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے۔ اس لیے فی الحال  وہ جو کہنا چا ہیں،انہیں کہنے دیاجائے۔ کمبوج نے کہا کہ سنجے راؤت کے پاس فی الحال صبح سے شام تک منفی باتیں کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد سے وہ ذہنی طور پر بیمار  ہیں۔ موہت کمبوج  کے بیان پر فی الوقت سنجے راؤت کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK