Inquilab Logo Happiest Places to Work

بشار الاسد حکومت کے حامی مفتی اعظم احمد بدرالدین عدالت کے کٹہرے میں

Updated: July 07, 2026, 12:03 PM IST | Agency | Damascus

۷۷؍ سالہ عالم دین پر الزام ہے کہ اپنے منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے اسد حکومت کی جانب سے مظاہرین پر بم برسانے اور انہیں نشانہ بنانے کی حمایت کی تھی ۔

Ahmed Badreddine Hassoun.Photo:INN
احمد بدرالدین حسون
شام میں بشارالاسد حکومت کا تختہ پلٹ ہونے کے بعد نئی حکومت کے قیام کو  ایک سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا  ہے۔ اب وہاں ان لوگوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ جاری ہے جو بشارا الاسد حکومت میں شامل تھے یا حکومت کے حامی تھے۔ انہی میں سے ایک ہیں اس وقت کے مفتی اعظم احمد بدرالدین حسون ، جنہیں نئی حکومت نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ہے اور اب ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا ہے۔ 
 
 
احمد بدرالدین کے خلاف  مقدمے کی پہلی سماعت گزشتہ دنوں دمشق میں واقع محل انصاف میں ہوئی۔ ۷۷؍ سالہ سابق مفتیٔ اعظم پر الزام ہے کہ وہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور قتل پر اکسانے کے معاملات میں ملوث رہے ہیں۔ عدالت میں پیش کی جانے والی چارج شیٹ کے مطابق ’حسون کے بیانات، جو انھوں نے اپنے سرکاری منصب کے تحت دیے، مسلح تنازع کے دوران افسران اور اہلکاروںکی جانب سے کئے جانے والے مظالم کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کرتے تھے۔‘ یاد رہے کہ احمد بدرالدین حسون بشرالاسد حکومت کے حامی رہے ہیں ۔انہیں ’بیرل مفتی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے شام کے مختلف علاقوں خصوصاً حلب پر بیرل بموں کے استعمال کی حمایت کی تھی ۔ 
احمد بدرالدین حسون کون ہیں؟
احمد بدرالدین حسون ۲۵؍ اپریل ۱۹۴۹ء کو حلب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ ادیب حسون ایک صوفی عالم تھے۔وہ ۱۹۶۷ء میں مصر گئے جہاں انھوں جامعہ الازہر سے شافعی فقہ میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔انھوں نے حلب کی مساجد میں امام اور خطیب کے طور پر خدمات انجام دیں اور ایک سماجی تنظیم کی سربراہی بھی کی جس نے صحت کے ادارے قائم کئے۔ ۱۹۹۰ء میں وہ شامی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور ۱۹۹۸ء تک رکن رہے۔ ۲۰۰۵ء میں وہ شام کے مفتی اعظم بنائے گئے حتیٰ کہ ۲۰۲۱ء میں ایک صدارتی حکم کے تحت یہ عہدہ ختم کر دیا گیا۔حسون کا عروج بعث پارٹی اور اسد خاندان کے اقتدار کے ساتھ منسلک رہا۔ وہ شامی سیکوریٹی اداروں کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ ۲۰۱۱ء کی شامی بغاوت کے آغاز سے ہی انھوں نے بشار الاسد حکومت کی حمایت کی اور مظاہروں کو ’غیر ملکی سازش‘ قرار دیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان کا منصب سزائے موت کی منظوری کے عمل میں بھی استعمال ہوتا رہا۔دسمبر ۲۰۲۴ء میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد حسون کو نئی قیادت کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا۔
فروری ۲۰۲۵ء میں مظاہرین نے ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اور اسی سال مارچ میں ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا جسکے بعد انھیں دمشق ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ شروع کیا گیا اور اب پہلی سماعت کے بعد اسے ۱۶؍ جولائی تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
  کہا جاتا ہے کہ جب مفتی احمد بدرالدین جب عدالت میں اپنی صفائی میں بیان دینے کیلئے کھڑے ہوئے تو وہ قرآن شریف کی ایک آیت پڑھنے لگے ۔ اس پر جج نے یہ کہہ کر ٹوکا کہ ’’آپ یہاں واعظ کرنے کیلئے نہیں کھڑے ہیں بلکہ عدالت کے سوالوں کے جواب دینے کیلئے کھڑے ہیں۔‘‘ اس سماعت کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ جس پر صارفین نے الگ الگ رائے پیش کی ہے۔  اس سماعت اور مفتی احمد بدرالدین کے خلاف کارروائی کو درست قرار دے رہے ہیں تو کچھ کی نظر میںایک عالم دین کے ساتھ ایسا سلوک صحیح نہیں ہے۔
 
 
حسون کا مقدمہ سابق صدر بشار الاسد کے قریبی افراد کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی ایک کڑی ہے جسے عبوری انصاف کے عمل کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔بہت سے شامیوں کو امید ہے کہ انصاف بلا امتیاز ہو گا جبکہ ماہرین کہتے ہیں کہ شام کا عدالتی نظام دہائیوں سے کمزور رہا۔اس کے باوجود کچھ حلقے ان مقدمات کو ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیتے ہیں۔شامی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ جنگی جرائم پر کسی قسم کی عام معافی نہیں دی جائے گی۔بہت سے شامی باشندوں کیلئے یہ مقدمہ نئی قیادت کیلئے بڑا امتحان ہے اور سابق مفتی اعظم کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام کی نمایاں ترین علامتوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ شام میں پیش آئے واقعات کی براہ راست رپورٹنگ بہت کم ہوئی ہے۔ اس لئے ان واقعات کی تصدیق کرنا بے حد مشکل ہے۔  

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK