Inquilab Logo Happiest Places to Work

بغرض زیارت ایران جانے والے گروپ کی ۳۱؍دن بعدوطن واپسی

Updated: March 26, 2026, 11:01 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

زائرین کے اس گروپ میں شامل مانخورد کے میکینکل انجینئر نے سینئرلیڈر علی لاریجانی کے جنازے میں شرکت کی اورایران کےحالات بتانے کے ساتھ مشکل سفر کی روداد بیان کی۔ انہوں نے بتایا کہ بدترحالات کے باوجود ا یرانیوں کا جذبہ قابل دید اور لائق سلام وستائش تھا۔

Syed Reza Abbas Rizvi With His Brother At Sahar Airport.Photo:INN
سید رضا عباس رضوی سہار ایئرپورٹ پر اپنے بھائی کے ساتھ- تصویر:آئی این این
ایران میں زیارت کی غرض سے جانے اور جنگ کے سبب اپنے ۱۰؍ساتھیوں کے ساتھ پھنس جانے والےمانخورد کے علی رضا عباس کی کافی مشکلات کے ساتھ ممبئی واپسی ممکن ہوسکی۔ وہ براہ آرمینیا وطن عزیز لوٹ سکے۔ نمائندۂ انقلاب نے ان سے تفصیل سے بات چیت کی ۔ 
سید رضا عباس رضوی،مکینیکل انجینئرہیں اور  مانخورد میں اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہیں ، آبائی وطن شاہ گنج جون پورہے۔ وہ ایران میں زیارت کے لئے اپنے رفقاء کے ۱۰؍رکنی گروپ کے ساتھ ۲۲؍ فروری کو ممبئی سے ۱۰؍ دن کے لئے روانہ ہوئے تھے مگر امریکہ اور اسرائیل کے ایران پرحملے اورایران کی جوابی کارروائی کے سبب پیدا شدہ حالات کی وجہ سےخاصے پریشان ہوئے۔ حالانکہ طے شدہ شیڈیول ۲؍ مارچ کو واپسی کاتھا۔ ۲۸؍ فروری کو رہبر معظم سید علی خامنہ ای کو شہید کردیا گیا، اس وقت وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مشہد سے نیشاپور بذریعہ ٹیکسی جارہے تھے، راستے میں یہ خبرملی، رات میں واپسی پر مشہد میں ہوٹل پہنچ کر تفصیل سے خبر دیکھی تو پتہ چلا کہ جنگ کے سبب حالات خراب ہیں۔ اس کے بعدہندوستانی سفارت خانہ گئے وہاں کسی سے ملاقات نہیں ہوسکی، البتہ وہاں سے انجل ویاس نام کے آفیسرکا نمبر ملا ، ان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی انڈین گورنمنٹ کی جانب سے کوئی ایڈوائزری جاری کی گئی ہے۔ البتہ انہوں نے دوسرے ممالک آرمینیا یا آذربائیجان ہوتے ہوئے ہندوستان واپسی کے لئے ویزا کی خاطر ایک لنک شیئر کی ۔اس پر ہم لوگوں نے یہ درخواست کی کہ کسی طرح بارڈر تک پہنچادیا جائے مگر انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ جس ملک کا ویزا ملنے کا امکان ہوگا ہم آپ کو مطلع کردیں گے مگرسارا خرچ آپ حضرات کو کرنا ہوگا۔ اس کے بعد ہم سب قُم کیلئے روانہ ہوئے  وہاں ۳؍ دن رکنا پڑا۔یہاں ایران کے سینئر لیڈر علی لاریجانی کے جنازے میں شریک ہونے کا بھی موقع ملا۔ 
سید رضا بتاتے ہیں کہ مشہد میں توحالات بہتر رہے مگر قم میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں ،اس کے باوجود ایرانیوں کا جذبہ قابل دید اور لائق سلام وستائش تھا۔ عورتیں ، مرد بچے بوڑھے حتی ٰکہ خواتین اپنے شیر خواربچوں کو لے کر باہر نکلتی تھیں اور جھنڈا لہراتی تھیں۔ ایران حکومت کی جانب سے بھی شہریوں کا پورا خیال رکھاجارہا تھا اورکسی چیز کی کمی نظرنہیںآئی ۔ 
 
 
رمضان المبارک میںآخری روزے کو ۴؍ بجے انڈین ایمبیسی کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی کہ آرمینیا نے کنفرم کردیا ہے وہاں جاکر رقم ادا کرکے ویزا لیا اور شبِ عید معصومۂ قم کے روضہ پرگزار کر وہاں سے نکلے ۔ وہاں سے ۱۶؍گھنٹے کا وین کے ذریعے سفر کرتے ہوئے ایران اور آرمینیا بارڈرپہنچے، یہاں جاکر انٹرنیٹ ملا۔ آرمینیا ہوتے ہوئے ضروری کاغذی کارروائی کے بعد ۱۱؍گھنٹے کا سفر کرتے ہوئے ایروانا ایئرپورٹ پہنچے تو رات ہونے کے سبب ایک ہوٹل میں ٹھہرنا پڑا۔ یہاں سے اپنے عزیز واقارب کے توسط سے دوسرے دن کا ٹکٹ خریدا۔ ایروانا ایئرپورٹ سے براہ دبئی فلائٹ ملی اور ساڑھے ۶؍ گھنٹے کی مسافت کے بعد دبئی اترے، یہاں ساڑھے ۵؍ گھنٹے رُک کر پھر ممبئی کے لئے روانگی ہوئی ، اس طرح طویل مسافت طے کرتے ہوئے ۲۳؍ مارچ کی صبح ممبئی پہنچے۔
 
 
اس دوران سب سے پریشان کن سفرآرمینیا بارڈر سے ایروانا ایئرپورٹ جانے کا تھا۔اولاً یہاں زبان کا مسئلہ دوسرےسخت موسم اور شدید برف باری اور تیسرے انتہائی دشوار گزار راستہ جو پوری طرح سے پہاڑوں سے ہوکر گزرتا ہے۔ یہاں سے ٹیکسی والے نے انڈین ۹۲؍ ہزار روپے مانگے مگر اتنی رقم نہیں تھی چنانچہ چند کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد دوسرا ٹیکسی والا ۴۵؍ ہزار روپے میں ایئرپورٹ جانے کے لئے تیار ہوا، اس طرح دو ٹیکسیوں میں ہم لوگ ایئرپورٹ پہنچے۔سید رضا عباس کے مطابق اگر یہ مشکل حالات نہ ہوتے تو ٹیکسی اور ہوائی جہاز کا کرایہ۱۳؍ ہزار روپے تھا اور رٹرن ٹکٹ ۲۶؍ ہزار روپے میں لیا گیا تھا مگرجنگ کے حالات کے سبب آنے کا ایک آدمی کا ٹکٹ ۵۱؍ہزار روپے میں ملا وہ بھی کافی دشواری کے بعد۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK