Updated: July 16, 2026, 11:48 AM IST
| Doha
خلیجی ممالک کیلئے ایران کے ساتھ تعلقات ایک پیچیدہ مسئلہ ہیں۔ خطے کے یہ ممالک امریکہ کے اتحادی ہونے کے باوجود ایران کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں، کیوں کہ ایران ان کا جغرافیائی ہمسایہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے۲۰۲۲ء میں ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے، جبکہ سعودی عرب اور ایران نے۲۰۲۳ء میں چین کی ثالثی سے تعلقات معمول پر لانے پر اتفاق کیا۔
ایران امریکہ جنگ کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
خلیجی ممالک ایران کی جانب سے حملوں پر شدید ناراض ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ جنگ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے، جبکہ قطر اور عمان امریکہ کے ساتھ اُس کا تنازع ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی خطے کیلئے ایک نئی سیکوریٹی آزمائش پیدا کر دی ہے، ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کے بعد بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن میں فضائی دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جبکہ امریکہ نے بھی ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناندیڑ: کلکٹر کی عوام سے ایس آئی آر فارم جمع کروانے کی اپیل
حالیہ کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی ہے، جب کہ ایران نے امریکی مفادات اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ محاذ آرائی خلیجی ریاستوں کو ایک مشکل صورت حال میں لے آئی ہے، کیوں کہ وہ ایک طرف امریکا کے اہم اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے جغرافیائی ہمسائے ہیں۔ امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ میں وسیع فوجی موجودگی خلیجی ممالک کے لیے ایک دوہری حقیقت بن گئی ہے، خطے میں تقریباً۵۰؍ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور بحرین، قطر، کویت، اردن، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق امریکی فوجی اڈے خلیجی ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن اسی موجودگی کی وجہ سے وہ ایرانی حملوں کا ممکنہ ہدف بھی بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک ایک ایسے توازن میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں امریکہ کیساتھ تعلقات ان کی سلامتی کا اہم ستون ہیں، مگر ان ہی تعلقات نے انھیں علاقائی کشیدگی میں شامل بھی کر کے رکھا ہوا ہے۔ خلیجی ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جدید فضائی دفاعی نظاموں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ’ پی اے سی ۳‘ نظام موجود ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات بھی تھاڈ، پیٹریاٹ اور دیگر جدید دفاعی نظام استعمال کرتا ہے۔ قطر، کویت، بحرین اور عمان نے بھی مختلف نوعیت کے دفاعی نظام حاصل کیے ہیں، جن میں پیٹریاٹ،این اے ایس اےایم ایس اور دیگر میزائل شکن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: دھولیہ میں انہدامی کارروائی کے دوران مقامی باشندوں کی لوٹ مار
یہ نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا، خصوصاً جب حملہ مسلسل اور طویل مدت تک جاری رہے۔ ایران نے کم قیمت والے مقامی ساختہ ڈرونز، خصوصاً شاہد طرز کے ڈرونز، پر نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔ ان ڈرونز کی تیاری مہنگے دفاعی میزائلوں کے مقابلے میں بہت کم لاگت میں ممکن ہے۔ اس صورت حال نے خلیجی ممالک اور امریکا کے لیے ایک نیا چیلنج پیدا کر دیا ہے، کیوں کہ ایک نسبتاً سستا ڈرون روکنے کے لیے کئی ملین ڈالر مالیت کا دفاعی میزائل استعمال کرنا پڑ سکتا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی معیشتوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی بحری راستے سے ہوتی ہے۔ یواے ای، بحرین، کویت اور قطر خاص طور پر اس صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں، کیوں کہ ان کی کئی اہم برآمدی بندرگاہیں اسی راستے سے وابستہ ہیں۔ماہرین کے مطابق کوئی بھی طویل جنگ عالمی توانائی کی منڈیوں، تیل کی قیمتوں اور خلیجی ممالک کی معاشی سرگرمیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔