نئی دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ سےملاقات کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کاپریس کانفرنس میں دعویٰ، ادھوٹھاکرے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 12:25 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
نئی دہلی میں وزیر داخلہ امیت شاہ سےملاقات کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کاپریس کانفرنس میں دعویٰ، ادھوٹھاکرے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اس اعتماد کا اظہار کیاہے کہ خواتین کے ریزرویشن بل اور پارلیمانی حلقوں کی نئی حد بندی کے بل پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں منظور کر لئے جائیں گے۔ نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں ایکناتھ شندے نے یہ دعویٰ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کے دوران ریاست میں ترقیاتی کاموں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ بھی دعویٰ کیا کہ شیو سینا ( ادھو ٹھاکرے) کے جو ۶؍اراکین پارلیمان نے شیو سینا (شندے)میں شمولیت اختیار کی ہے ،وہ پوری طرح سے آئینی ہے۔دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ممبران پارلیمان سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، بھاؤ صاحب وکچورے، اوم راجے نمبالکر اور ناگیش پاٹل اشٹیکر بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی کا پرچہ آگرہ کے پرنٹنگ ہائوس سے ۸؍ ہزار روپے میں حاصل کیا گیا تھا
نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ لوک سبھا حلقوں کی آبادی بڑھ کر۲۰؍ سے۲۵؍ لاکھ ہو گئی ہے۔ بہت بڑے حلقوں میں ترقیاتی کام کروانا مشکل ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کی از سر نو تشکیل ضروری ہے۔ اس سے عوام کو انصاف ملے گا۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ اب تک پارلیمنٹ میں خواتین کو ۵۰؍ فیصد ریزرویشن دینے کی بات ہوتی تھی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ بل لانے کی ہمت دکھائی۔ گزشتہ اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل کو اپوزیشن جماعتوں کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس کی قیمت اپوزیشن جماعتوں کو مغربی بنگال کے انتخابات میں چکانی پڑی۔ اب اگر انہوں نے اپنی شکست سے سبق سیکھا ہوگا تو یہ اچھی بات ہوگی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ امیت شاہ سے میٹنگ میں مہاراشٹر کے مختلف ترقیاتی مسائل جیسے کہ اراکین اسمبلی کے حلقوں میں آبپاشی کے مسائل، مراٹھواڑہ آبپاشی پروجیکٹ، ریلوے اور سڑکیں، پردھان منتری آواس یوجنا، شہری ترقی کے محکمے کے مسائل، دیہی ترقی، ترقی یافتہ ہندوستان پر اور نئے ۶؍ اور پرانے ۷؍ ان سبھی ۱۳؍ اراکین پارلیمان کے حلقہ انتخاب میں درپیش مسائل کے حل کیلئے مثبت تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے یقین دلایا ہےکہ یہ تجاویز آنے والی کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔
مرکزی کابینہ کی توسیع اور دیویندر فرنویس کو مرکز میں بھیجنے کے تعلق سے ایکناتھ شندے سے بار بار استفسار کرنے پر انہوںنے کہا کہ ’’ اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔‘‘
ایکناتھ شندے نے یہ بھی کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے شیو سینا کے تمام اراکین پارلیمان سے رابطہ کرنے کی ذمہ داری رکن پارلیمان ڈاکٹر شری کانت شندے کو سونپی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایل او کی ڈیوٹی سے پریشان ٹیچر کی خودکشی کی کوشش
پارٹی میں شامل ہونےوالے اراکین پارلیمان کےتعلق سے انہوںنے کہا کہ شیوسینا کے ساتھ دو تہائی اکثریت کے ساتھ آنے والے ممبران پارلیمان کے بارے میں تمام قانونی طریقہ کار مکمل کر لیا گیا ہے اور لوک سبھا اسپیکر کے ساتھ ضروری کارروائی جاری ہے۔ جمہوریت میں اکثریت اہم ہے ۔ انہوں نے یہ بھی اعتماد ظاہر کیا کہ لوک سبھا اسپیکر درست فیصلہ کریں گے۔
رام مندر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ایکناتھ شندے نے ادھو ٹھاکرے کا نام لئےبغیر تنقید کی۔ کہا کہ رام بھکتوں کی توہین کرنے والے ہی آج رام رکھشا کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنی پارٹی کو نہیں سنبھال سکے وہ آج رام رکھشا کے نام پر سیاست کر رہے ہیں۔