Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہزاروں درخواستوں کے باوجود ریاستی حکومت پی این جی کنکشن دینے میں ناکام

Updated: July 16, 2026, 12:21 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

رسدوخوراک کے ریاستی وزیر نے۳؍ ماہ میں کنکشن لینے کو لازمی قرار دیا تھا لیکن ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی شکایت ہے کہ۴ ؍ ماہ قبل دی گئی درخواست کے باوجود نہ کنکشن فراہم کیا جارہا ہے ،نہ جواب دیا جارہا ہے ۔

Mahanagar Gas Limited (MGL) has confirmed that it has received thousands of applications for PNG. Photo: INN
مہانگرگیس لمیٹڈ (ایم جی ایل) نے پی این جی کیلئے ہزاروں درخواستیں موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ تصویر: آئی این این

ایران، امریکہ اور اسرائیل جنگ کے دوران ایل پی جی کی شدید قلت اور عوامی پریشانی  کے پیش نظر حکومت نے  ریاست کی  تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو تین ماہ میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی)   سروس حاصل کرنے اور نہ لینے کی صورت میں ایل پی جی   سروس بند کرنے کا انتباہ دیا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ شہریوں نے پی این   جی   سروس لینے  کیلئے ۴؍ ماہ قبل اور بعض نے گزشتہ سال درخواستیں دی تھیں لیکن نہ تو یہ سروس فراہم کرنے کے تعلق سے محکمہ کوئی ٹھوس جواب دے رہا اور نہ ہی سروس کب تک فراہم کی جائے گی ، اس تعلق سے ہی کوئی تفصیلات فراہم کررہا ہے ۔

رسدوخوراک کے ریاستی وزیر چھگن بھجبل نے مارچ ۲۰۲۶ءکو ایران، امریکہ اور اسرائیل   جنگ کے سبب ایل پی جی   سلنڈر وں کی قلت کے بعد  پی این   جی گیس کنکشن لینے کو لازمی قرار دیا تھا اور تین ماہ میں درخواست دے کر کنکشن حاصل کرنے اور نہ لینے کی صورت میں ایل پی جی  کی سپلائی بند کرنے کی وارننگ دی تھی جس کے بعد ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن میں ہزاروں گھروں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور ریستورانوں نے ۴؍ ماہ قبل پائپڈ نیچرل گیس کنکشن کیلئے درخواستیں دی تھیں لیکن مہانگر گیس لمیٹیڈ کی جانب سے پی این جی سروس فراہم کرنے کے تعلق سے خاموشی چھائی ہوئی ہے - اس تعلق سے انقلاب نے چند صارفین سے پی این   جی کیلئے پائپ لائن کی فراہم سے متعلق جاننا چاہا تو اکثر نے مہانگر گیس لمیٹیڈ کی جانب سے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیا ۔ مختلف علاقوں کی سوسائٹیوں اور فلک بوس عمارتوں کے مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ   درخواست دینے کے باوجود نہ تومعائنہ کیا جارہا  ہے اور نہ ہی پی  این  جی کنکشن سروس فراہم کرنے سے متعلق وقت بتایا جارہا ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: ٹی ای ٹی کا پرچہ آگرہ کے پرنٹنگ ہائوس سے ۸؍ ہزار روپے میں حاصل کیا گیا تھا

  اس ضمن  میںکھار کے یونین پارک میں واقع سات منزلہ سی لائن کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکریٹری ونود گڈوانی نے نامہ نگار کو بتایا کہ  ہماری سوسائٹی نے دو سال قبل  درخواست دی تھی لیکن آج تک   ایجنسی کے جواب کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں سوسائٹی۵؍ مرتبہ  گیس ایجنسی سے استفسار کرچکی ہے اور تین مرتبہ دفتر کے چکر کاٹ چکی ہے لیکن جواب ندارد ہے ۔

اس مسئلہ پر باندرہ کے چیپل روڈ کے رہنے والے سیلوین ڈیسوزا نے کہا کہ درخواست دینے کے باوجود جب دفتر جاکر کنکشن کے تعلق سے پوچھا جاتا ہے تو یہ کہاجاتا ہے کہ جلد ہی معائنہ کیلئے آفیسر آئیں گے لیکن آج تک معائنہ کیلئے کوئی  نہیں آیا جبکہ ہمیں آسانی سے کنکشن دیا جاسکتا ہے کیونکہ ہمارے پڑوس کی سوسائٹی میں کنکشن موجود ہے ۔

مہالکشمی کی ایسٹرل مینشن میں رہنے والے صادق کپاڈیا نے بتایا کہ ’’ہم نے دو سال قبل بھی درخواست دی تھی اور بارہا کنکشن لگانے کی اپیل کی تھی ۔ اس کے علاوہ ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد بھی نئے سرے سے درخواست دی تھی ۔  یہی نہیں میں نے  سات مرتبہ گیس  ایجنسی کو فون کیا، تین بار ای میل بھیجااور دو مرتبہ ایکس پر بھی پوسٹ کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: سیٹوں میں ۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا تو ہم ’حلقہ بندی بل‘ کی حمایت کریں گے: سپریہ سلے

ہوٹل اور ریسٹورنٹ نے بھی اسی نوعیت کی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ اسوسی ایشن آف ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹس (آہار) کے صدر وجے شیٹی نے بتایا کہ مارچ میں مرکزی حکومت نے گھریلو صارفین کو ایل پی جی کی فراہمی کو ترجیح دیتے ہوئے تجارتی اور صنعتی شعبوں کیلئے گیس سلنڈر کی سپلائی کم کر دی تھی  جس کے بعد تنظیم کے ۸؍ ہزار رکن اداروں میں سے تقریباً دو ہزار نے پی این جی کنکشن کیلئے درخواست دی تھی لیکن اب تک صرف ۱۰؍فیصد کو ہی کنکشن ملا ہے۔

اس ضمن میں مہانگر گیس لمیٹیڈ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ہزاروں درخواستیں موصول ہونے کی تصدیق تو کی ہے لیکن کنکشن کی فراہمی میں تکنیکی مسائل کا عذر پیش کرکے مزید تفصیلات دینے سے انکار کردیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK