بیسٹ کے قیام کو ۱۵؍ جولائی ۲۰۲۶ء کوایک صدی مکمل ہوگئی۔
EPAPER
Updated: July 16, 2026, 12:29 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
بیسٹ کے قیام کو ۱۵؍ جولائی ۲۰۲۶ء کوایک صدی مکمل ہوگئی۔
بیسٹ کے قیام کو ۱۵؍ جولائی ۲۰۲۶ء کوایک صدی مکمل ہوگئی۔ چند بسوں اور چند ہزار مسافروں سے شروع ہونے والا بیسٹ کا یہ سفر الگ الگ مراحل سےگزر کر آج روزانہ ۳۵؍ تا ۳۸؍لاکھ مسافروں تک پہنچ چکا ہے جبکہ ایک دن کی آمدنی ۴؍کروڑروپے سےزائد ہے۔بیسٹ کےبیڑے میں آج ۲۷۰۰؍بسیں ہیں جس میں۲۴۹؍بسیں بیسٹ کی ذاتی، بقیہ کرایے پرچلائی جانے والی ہیںاوران میں ۹۰؍ فیصد الیکٹرک بسیں ہیں۔
بسوں سے قبل ٹرام چلتی تھی۔ ۱۰۰؍ سال مکمل ہونے پربیسٹ انتظامیہ کی جانب سے صد سالہ تقریبات منانے کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا ہے مگر یہ کہاجارہا ہےکہ منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ویسے ۷؍ اگست کو ہرسال ’بیسٹ دن ‘ کے طور پرمنایا جاتا ہے اورمختلف تقریبات کا انعقاد کیاجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بی ایل او کی ڈیوٹی سے پریشان ٹیچر کی خودکشی کی کوشش
بیسٹ کے تاریخی پس منظرکے لحاظ سے یہ بھی بتایا گیاہے کہ بیسٹ کے قیام کے پہلے سال ۲۴؍بسیں لائی گئیں اورمسافروں کی تعداد ۶؍لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ ابتدائی دور میں افغان چرچ سے کرافورڈ مارکیٹ، دادر ٹی ٹی سے پارسی کالونی اورکنگز سرکل سے اوپیرا ہاؤس، لیمنگٹن روڈ اور آرتھر روڈ روٹ پر بسیں شروع کی گئیں۔ اس کے بعد شہریوں کی ضرورت اورکثرت کی مناسبت سے روٹ میںاضافہ کیاجاتا رہا ۔آج شہر اورمضافات میں ۲۷؍ ڈپو کی حدود میںسیکڑوں روٹ پر بیسٹ بسیں چلائی جارہی ہیں اورتقریباً ۳۸؍لاکھ مسافر اپنی منزل تک پہنچتے ہیں۔
بیسٹ کی موجودہ تلخ سچائی یہ بھی ہےکہ اس پر ہزاروں کروڑ روپے قرض کا بوجھ ہے۔ اس کانتیجہ یہ ہے کہ بیسٹ کے ٹریفک اور بجلی شعبے کے ۴۰؍ ہزار سے زائد ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرض حاصل کرنا پڑتا ہے۔