Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل غزہ جنگ میں شریک فوجیوں کی دماغی صحت سے متعلق ڈیٹا چھپا رہا ہے: ہاریٹز

Updated: May 07, 2026, 10:14 PM IST | Tel Aviv

ہاریٹز کا کہنا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ کے آغاز سے اسرائیلی فوج، اپنے اہلکاروں میں نفسیاتی مسائل کے معاملات کی بے مثال تعداد سے نمٹ رہی ہے۔ اس دوران فوج نے ذہنی صحت کے افسران کی تعداد میں اضافہ کیا، خصوصی علاج کے مراکز قائم کئے اور مبینہ طور پر ۲۰۲۴ء کے آخر تک خودکشی کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کو سرکاری مطبوعات میں شائع نہیں ہونے دیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اسرائیلی روزنامے ’ہاریٹز‘ (Haaretz) میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج مبینہ طور پر غزہ جنگ سے منسلک نفسیاتی عوارض کی وجہ سے ملازمت سے نکالے گئے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں مکمل معلومات چھپا رہی ہے۔ اخبار نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ جنگ کے دوران اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے فارغ کئے گئے فوجیوں کی تعداد کے بارے میں تمام ڈیٹا فراہم نہیں کر رہی ہے۔ 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہاریٹز نے ۲۰۲۵ء میں فوجی ترجمان سے تفصیلی اعداد و شمار طلب کئے تھے، لیکن اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا اور اسرائیل کے ’فریڈم آف انفارمیشن قانون‘ کے تحت دوبارہ درخواست دینے کی ہدایت دی گئی۔ ڈیٹا کیلئے ایک باضابطہ درخواست جون ۲۰۲۵ء کے اوائل میں جمع کرائی گئی تھی۔ تاہم، اخبار کے مطابق، فوج نے قانونی ڈیڈ لائن کے باوجود ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ قانون کے تحت حکام کو ۳۰ دنوں کے اندر جواب دینا لازمی ہے، جبکہ توسیعی مدت صرف خاص حالات میں ۱۲۰ دنوں تک ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران پر دباؤ بڑھانے کیلئے امریکہ مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے

ہاریٹز نے بتایا کہ فوج نے تقریباً ایک ماہ بعد اخبار کو آگاہ کیا کہ اس نے ۳۰ دن کی توسیع لی ہے لیکن اعداد و شمار تاحال پیش نہیں کئے گئے۔ رپورٹ میں ملٹری پرسنل ڈائریکٹوریٹ اور ترجمان کے دفتر کے گمنام افسران کا حوالہ دیا گیا ہے، جنہوں نے الزام لگایا کہ حساس ڈیٹا کو اکثر اس صورت میں مؤخر کر دیا جاتا ہے جب اسے فوج کے امیج یا مقاصد کیلئے نقصان دہ سمجھا جائے۔

رپورٹ میں ایک ریزرو افسر کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج میں ایسے افسران موجود ہیں ”جو اعداد و شمار اور ڈیٹا سے چھیڑ چھاڑ کرنا اور ایسی معلومات کو چھپانا جانتے ہیں جو فوج کیلئے اطمینان بخش نہیں ہوتیں۔“ افسر نے مبینہ طور پر کہا کہ ”اگر فوجی ترجمان کو کسی صحافتی یا سیاسی دعوے کی تردید کیلئے معلومات کی ضرورت ہو، تو وہ اسے چند گھنٹوں میں حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ فوج نہیں چاہتی کہ عوام اس بات کو جانیں کہ ”فوجی کس حد تک نفسیاتی دباؤ کا تجربہ کر رہے ہیں۔“ رپورٹ کے مطابق، فوج کے ذہنی صحت کے شعبے کے حکام کا خیال ہے کہ اگر فوجیوں کے درمیان نفسیاتی صدمے کی شرح مکمل طور پر ظاہر کر دی جائے، تو یہ عوامی حوصلے پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بین گویر اور اُس کی بیوی کو فوری طور پر ماہرِ نفسیات کی ضرورت: عرب کنیسٹ رکن

اخبار کا کہنا ہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ جنگ کے آغاز سے اسرائیلی فوج، اپنے اہلکاروں میں نفسیاتی مسائل کے معاملات کی بے مثال تعداد سے نمٹ رہی ہے۔ مبینہ طور پر فوجیوں نے شدید ذہنی پریشانی، تھکن اور جنگی فرائض پر دوبارہ واپس آنے میں ناکامی کا تجربہ کیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ فوج نے ذہنی صحت کے افسران کی تعداد میں اضافہ کیا، خصوصی علاج کے مراکز قائم کئے اور مبینہ طور پر ۲۰۲۴ء کے آخر تک خودکشی کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار کو سرکاری مطبوعات میں شائع نہیں ہونے دیا۔

گزشتہ سال جولائی میں ہاریٹز کے دباؤ اور ’ہاتزلاچہ‘ (Hatzlacha) نامی تنظیم کی پٹیشن کے بعد، فوج نے محدود اعداد و شمار جاری کئے جن سے ظاہر ہوا کہ جنگ کے پہلے سال کے دوران نفسیاتی وجوہات کی بنا پر ۷۲۴۱ فوجیوں اور افسران کو فارغ کیا گیا تھا۔ اخبار کی جانب سے نقل کئے گئے ذرائع کے مطابق، مانا جاتا ہے کہ یہ تعداد اسرائیلی فوجی تاریخ میں اب تک ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کچھ افسران کا مبینہ طور پر کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK