• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیٹرول اور ڈیزل والی گاڑی مالکان کی مشکلوں میں اضافہ

Updated: February 23, 2026, 1:02 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

ہائی کورٹ کے حکم پر بنائی گئی خصوصی کمیٹی نے شہر میں آلودگی کا سبب بننے والی پیٹرول اور ڈیزل کی پرانی گاڑیوں کو ختم کرنے کیلئے ان پر اضافی ٹیکس عائدکرنے کی سفارش کی۔ اسی طرح سی این جی اور الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کی حوصلہ افزائی کیلئے ا نہیں مالی مراعات دینے کا مشورہ دیا۔

The High Court had formed a special committee and ordered it to submit a report on the inspection of old vehicles. Photo: INN
ہائی کورٹ نے خصوصی کمیٹی تشکیل دے کر پرانی گاڑیوں کی جانچ سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ تصویر:آئی این این

ایسی گاڑیاں جو اب بھی ڈیزل اور پیٹرول سے چل رہی ہیں اور جن کے پرانی ہونے اور خصوصی طور پر بی ایس تھرڈ ماڈل کی گاڑیوں کےفضائی آلودگی کا سبب بننے کی اطلاع پر گزشتہ سال ہائی کورٹ نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی اور اسے گاڑیوں کی جانچ اور اس کی حالت سے متعلق رپورٹ اور مشورہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ مذکورہ کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں اس سے ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مالکان کی مشکلوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ کمیٹی نے پرانی گاڑیوں جس میں بی ایس تھرڈ ماڈل کی گاڑیاں بھی شامل ہیں، پر زائد ٹیکس لگانے کی سفارش کی ہے۔ 
۷؍ ممبران پر مشتمل کمیٹی جس کی سربراہی سابق بیوروکریٹ سدھیر کمار شریواستو کررہے ہیں ، نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کو مراحلہ وار ختم کرنے کی ہدایات کے باوجود اب بھی بے شمار گاڑیاں شہر کی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں اور فضائی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں ۔ ان پرانی گاڑیوں میں وہ گاڑیاں شہر کی فضا کو آلودہ کرنے کی ذمہ دار ہیں جو بی ایس تھرڈماڈل کی ہیں ۔ شہر کو ان گاڑیوں اور آلودگی سے پاک کرنے کیلئے ایک ٹھوس حکمت عملی کو اپناتے ہوئے ان گاڑیوں پر زائد ٹیکس عائد کیا جانا چاہئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آج سے مہاراشٹر اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر کے بغیر ایک اور اجلاس

کمیٹی نے پرانی گاڑیوں کو ختم کرنے اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے نمٹنے کیلئے ایندھن والی گاڑیوں کو جلد سے جلد سی این جی میں منتقل کرنے اورایسا نہ کرنے کی صورت میں ڈیزل اور پیٹرول کا استعمال کرنے والی گاڑیوں خصوصی طور پر بی ایس تھرڈ ماڈل انجن کی گاڑیوں پر زائد ٹیکس عائد کر نے کا مشورہ دیا ہے ساتھ ہی کمیٹی نے سی این جی اور الیکٹرک گاڑی چلانے والوں اور ان کے مالکان کی حوصلہ افزائی کیلئےمالی مراعات دینے کی بھی تجویز پیش کی ہے۔ کمیٹی کے بقول الیکٹرک اور سی این جی سے چلنے والی گاڑیوں کے مالکان کو مالی مراعات دینےاور ڈیزل اور پیٹرول سےچلنے والی گاڑیوں کے مالکان پر زائد ٹیکس عائد کرنے کی صورت میں وہ جلد سے جلد اپنی گاڑیوں کو سی این جی میں منتقل کی کوشش کریں گے۔ کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر اور مضافات کو پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی پرانی گاڑیوں کے سبب ہونے والی فضائی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لئے سی این جی اورالیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کیلئے اسٹیشنوں میں اضافہ کرنا بھی از حد ضروری ہےتاکہ ممبئی میٹرو پولیٹن ریجن میں سپلائی کی قلت کے سبب انہیں کسی بھی قسم کی دشواریوں کو سامنا نہ کرنا پڑے۔ 
سفارشات میں بیسٹ بسوں کے جدید ترین ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ممبئی الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ انڈرٹیکنگ نے بسوں کو الیکٹرک میں تبدیل کرکے نہ صرف جدید سہولتوں سے آراستہ کرتے ہوئے ان کی سائز کو کم کیا ہے بلکہ مسافروں کو بیٹھنے کیلئے آرام دہ سیٹ بھی فراہم کی ہےجس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 
پیش کی گئی سفارشات کے ذریعہ پرانی گاڑیوں کو سی این جی میں تبدیل کرنےکا مقصد عوامی ذرائع نقل و حمل کے نظام کو مضبوط کرنا بتایا گیا ہے۔ یہی نہیں پرانی گاڑیاں ۴؍ سے ۱۲؍ فیصد فضائی آلودگی کا سبب ہیں ۔ کمیٹی نے خصوصی طور پر شہر کی سڑکوں پر دھول کو بھی فضائی آلودگی کا اہم سبب قرار دیا ہے ساتھ ہی کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ دھول اور پرانی گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں سے فضائی آلودگی شہریوں کے لئے انتہائی نقصاندہ ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے سڑک کی دھول کو ویکیوم اور سکشن سویپنگ مشینوں سے صاف کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK