ایک نوجوان شدید زخمی، مہلوکین کی لاشیں بذریعہ طیارہ احمدآباد لے جائی گئیں۔ ڈرائیور کے نشہ میں ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار۔
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 10:35 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
ایک نوجوان شدید زخمی، مہلوکین کی لاشیں بذریعہ طیارہ احمدآباد لے جائی گئیں۔ ڈرائیور کے نشہ میں ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار۔
اتوار کی صبح حاجی علی علاقہ میں اندوہناک حادثہ ہوا۔ ایک انتہائی تیز رفتار بی ایم ڈبلیو کار کوسٹل روڈ بریج کے ڈیوائڈر سے ٹکرا کر اُچھلی اور ہوا میں ۲؍ بار پلٹی کھائی پھر پُل سے نیچے جاگری۔ اس حادثہ میں ۳؍ نوجوان ہلاک ہوگئے جبکہ ۱۷؍ سالہ نوجوان شدید زخمی ہوگیا جسے اسپتال داخل کرایا گیا ہے ۔کار میں سوار چاروں نوجوانوں کا تعلق احمدآباد سے ہے۔ یہ سب لوگ ممبئی کے جوہو اور کرلا میں واقع کالجوں میں زیر تعلیم تھے اور کرایے کے مکان میں رہائش پذیر تھے۔پوسٹ مارٹم کے بعد ان کی لاشیں بذریعہ طیارہ احمد آباد لے جائی گئیں۔
حادثہ کے فوراً بعد کار سواروں کو نائر اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ناہیدہ نے ۳؍ افراد کو مردہ قرار دے دیاجن کے نام سنئے گجّر (۲۱)، آدتیہ جکاسنیا (۱۹) اور دھیریا شیٹھ (۱۷) بتائے گئے ہیں۔ ۲۳؍ سالہ آدتیہ اوسول شدید زخمی ہے جسے اس کے اہلِ خانہ نے بعد میں نائر اسپتال سے بریچ کینڈی اسپتال میں منتقل کردیا۔ حادثہ کے وقت سنئےکار چلا رہا تھااور یہ کار اسی کے اہلِ خانہ کی ہے۔ یہ تاجر خاندان ہے اور انہوں نے اس کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیو کار جس کا نمبر ’ڈی ڈی ۰۱ سی ۶۳۰۲‘ ہے، کا رجسٹریشن ’دیو دمن‘ سے کرایا تھا جو ’یونین ٹیریٹری‘ (مرکزی حکومت کے زیر انتظام علاقہ) ہے اور یہاں رجسٹریشن کیلئے احمد آباد کے مقابلے کم پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:انڈیگو میں ۲؍ سال سے کم عمر بچوں کے سفر کی فیس ۳؍ ہزار
تاڑدیو پولیس اسٹیشن کی سینئرانسپکٹر مینا جگتاپ کے مطابق یہ حادثہ صبح ۵؍ بجکر ۲۰؍ منٹ پر پیش آیا اور کار مرین ڈرائیو سے حاجی علی کی طرف (شمال کی سمت میں) جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا کہ آیا ڈرائیور نشے میں تھا یا نہیں اور جانچ کی بعد ہی یہ بھی معلوم ہوسکے گا کہ کار کس رفتار سے چلائی جارہی تھی۔ تقریباً ۲۴؍ میٹر اونچے بریج سے نیچے گرنے اور تیز رفتارہونے کی وجہ سے کئی سو فٹ دورجاکر گرنے کی وجہ سے کار تہس نہس ہوگئی ہے۔ یہ کار لالہ لاجپت رائے کالج کے قریب جس جگہ گری ،وہاں گاڑیوں کیلئے پارکنگ لاٹ بنانے کا کام جاری ہے۔
۲۰۲۵ء میں ایک تیزرفتار کار سمندر میں جاگری تھی
اس سے قبل ۶؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو رات تقریباً ۱۱؍ بجے ایک ایرٹیگا کار ورلی کوسٹل روڈ سے سمندر میں جاگر گئی تھی۔ پولیس نے کارکے ڈرائیور فرشوگر باٹلی والا (۲۹) کو بحفاظت پانی سے نکالا تھا جو مبینہ طور پرنشہ میں تھا۔