قتل کیس کا کلیدی مجرم اصغر علی پہلے ہی ۱۴؍ سال جیل میں گزار چکا ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 12:40 PM IST | Ahmedabad
قتل کیس کا کلیدی مجرم اصغر علی پہلے ہی ۱۴؍ سال جیل میں گزار چکا ہے۔
گجرات ہائی کورٹ ہرین پانڈیا قتل کیس میں مجرم اور شارپ شوٹر اصغر علی کی رحم کی درخواست سے متعلق ریاستی حکومت کو اہم ہدایات دی ہیں۔ اصغر علی ریاست کے سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ درخواست پر قانون کے مطابق غور کرے اور چھ ماہ کے اندر مناسب فیصلہ کرے۔درخواست گزار اصغر علی کی نمائندگی کرنے والے وکیل ہیمنت راول نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے۱۴؍ سال سے زیادہ جیل میں گزارے ہیں اور اس کا طرز عمل تسلی بخش رہا ہے ۔ اس کیلئےپہلے ریاستی حکومت کے پاس درخواست دائر کی گئی تھی لیکن طویل عرصے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ، اسلئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرنی پڑی۔حکومت نے عدالت کو بتایا کہ درخواست فی الحال زیر غور ہے اور مشاورتی کمیٹی کی رائے حاصل کر لی گئی ہے۔ معاملہ جلد متعلقہ حکام کو پیش کیا جائے گا۔ گجرات کے سابق وزیر داخلہ ہرین پانڈیا کو۲۶؍ مارچ۲۰۰۳ء کو احمد آباد میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران سی بی آئی نے دعویٰ کیا کہ یہ قتل۲۰۰۲ءکے گجرات فسادات کے انتقام میں کیا گیا تھا۔اصغر علی سمیت۱۸؍ ملزموں کے خلاف آئی پی سی اور پوٹا کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔۲۰۰۷ء میں سی بی آئی عدالت نے ۱۲؍ ملزموں کو قصوروار ٹھہرایا اور سزا سنائی۔ اس کے بعد۲۰۱۱ء میں گجرات ہائی کورٹ نے قتل کیس کے تمام ملزموں کو بری کر دیا تھا تاہم ۲۰۱۹ء میں، سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے، تمام۱۲؍ ملزموں کوعمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان میں سے اصغر نے رحم کی دخواست کی ہے جس پر ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے واضح طور پر کہا ہے کہ معافی کی درخواست کو غیر معینہ مدت کیلئے زیر التوا نہیں رکھا جا سکتا اور ۶؍ ماہ کے ا ندر اس پر فیصلہ ہونا چاہئے۔