Inquilab Logo

انہدامی کارروائی کے خلاف ہاکرس کا ۱۵؍جگہوں پر احتجاج

Updated: July 10, 2024, 10:29 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

مظاہرین نے ریاستی حکومت سے شہری انتظامیہ اور پولیس کے ذریعہ کی جانے والی انہدامی کارروائی روکنے اور ہاکرس ایکٹ ۲۰۱۴ء نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

Under `Jan Wadi Hawkers Sabha`, the hawkers are protesting against the demolition operation. Photo: Inquilab
’جن وادی ہاکرس سبھا‘ کے تحت پھیری والے انہدامی کارروائی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ تصویر:انقلاب

بامبے ہائی کورٹ کی ہدایت پر بی ایم سی نے غیر قانونی ہاکرس کے خلاف بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائی شروع کی ہے جس سے ہاکرس کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔  اسی لئے سینٹرآف انڈین ٹریڈ یونینس (سی آئی ٹی یو) سے وابستہ ’جن وادی ہاکرس سبھا‘کے تحت منگل کوشہرومضافات کی ۱۵؍جگہوں پر احتجاج کیا گیا جس میں سیکڑوں ہاکرس نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہےکہ ریاستی حکومت شہری انتظامیہ اور پولیس کے ذریعہ کی جا نے والی انہدامی کارروائی کو روکنے کا حکم دے اور ہاکرس ایکٹ ۲۰۱۴ء کو  نافذ کرے۔
منگل کو ملاڈ ،گوریگائوں، جوگیشوری، اندھیری ، مرول، مانخورد اور دیگر کئی مقامات پر’ جن وادی ہاکرس سبھا ‘کے تحت زبردست احتجاج کیا گیا ۔ملاڈ میں کیلاش بھگت، جمنا پرساد گپتا، راجیش آریہ، کلپناناتھ بھگت، رادھےشیام گپتا، رویندر دھیکالے، دنیش گپتا ، اُمیش گپتا اور پرمود گپتا وغیرہ کی قیادت میں پُرزور احتجاج کیا گیا۔ یہاں سیکڑوں پھیری والوں نے مظاہرے میں حصہ لیا اور انہدامی کارروائی کی سخت مخالفت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت فوری طور پر ہاکرس قانون کونافذ کرنے کا منصوبہ بنائے ۔۲۰۱۴ء کے سروے میں حصہ لینے والے ہاکرس کے خلاف انہدامی کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ اس قانون میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ ہر ۵؍ سال بعد سروے اور ہاکرس کی تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں قانونی قراردیا جاسکے اور ان کی روزی روٹی کو یقینی بنایا جاسکے لیکن ریاستی حکومت اس معاملہ میں تاخیر کر رہی ہے جس کا خمیازہ ہاکرس کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 
 ملاڈ کی طرح گوریگائوں مغرب اور جوگیشوری مشرق میں بھی ریلوے اسٹیشنوں کے قریب ہاکرس نے احتجاج کیا۔ 
 مانخورد میں سینٹرآف انڈین ٹریڈ یونینس(سی آئی ٹی یو) کی ریاستی کمیٹی کی رکن سنگیتا کامبلے کی قیادت میں زبردست احتجاج کیا گیا ۔ اس موقع پر سنگیتا کامبلے نے ریاستی حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے ہاکرس کو قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ۲۰۱۴ء میں بھی اس علاقے میں کوئی سروے نہیں ہوا تھا ۔ اس لئے یہاں کے ہاکرس اب بھی اس معاملے میں ایک قدم پیچھے ہیں۔ لہٰذا قانون نافذ کرنے والے ادارے یہاں کے ہاکرس کا سروے کریں اور ان کی تصدیق کی جائے تاکہ وہ اپنا کاروبار کر کے اپنے اہل خانہ کی کفالت کرسکیں۔
اندھیری مغرب میں ریلوے اسٹیشن کے قریب احتجاج کرنے والے مذکورہ تنظیم کے صدر کے کے نارائن اور دیگر ۱۰؍ ہاکرس کو ڈی این نگر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ بعدازیں انہیں احتجاج ختم ہونے کے بعد رہا کردیا۔ مرول پائپ لائن پر بھی ہاکرس نےاحتجاج کیا۔

ہاکرس کے مطالبات
اپریل ۲۰۱۴ء کے ایکٹ کو نافذ کیاجائے۔ ریاستی حکومت فوری طور پر منصوبہ بنا کر مذکورہ قانون  میں موجود ابہام کو دور کرے۔ایکٹ میں ممبئی شہر کی آبادی کی مناسبت سے ۲ء۵؍ فیصد ہاکرس کو لائسنس دیا جائے۔ سروے کو تقریباً ۱۰؍ سال ہوچکے ہیں، اس دوران بہت سے نئے ہاکرس آئے ہیں لہٰذا تمام ہاکرس کا سروے کیا جائے۔ ۲۰۱۴ء کے سروے میں حصہ لینے والے تمام ہاکرس اور جن ہاکرس نے سروے میں حصہ نہیں لیا ہےاور اب وہ سروےمیں شامل ہوناچاہتے  نیز جن ہاکرس نےپرائم منسٹر سندھی یوجنا اور دیگر اسکیم کے تحت قرض لیا ہے، انہیں سٹی ہاکر کمیٹی میں ووٹر کے طور پر شامل کیا جائے  اور ان کی مکمل فہرست ویب سائٹ پر شائع کی جائے۔ ۲۰۱۴ء کے سروے میں حصہ لینے والے تمام ہاکرس کو فوری طور پر لائسنس جاری کیا جائے ۔شہری انتظامیہ اور پولیس   کے ذریعہ ہاکرس کے خلاف جاری انہدامی کارروائی فوری طور پر بند کی جائے۔ اینٹی ہاکرس پالیسی واپس لی جائے۔ سوشل میڈیا پر شکایات کی بنیاد پر ہاکرس کے خلاف کارروائی بند کی جائے۔ قرض لینے والے ہاکرس کو ان کی موجودہ جگہ پر کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK