اب تک ۲۳۶؍ معاملات سامنے آئے۔ ۶؍افراد کی موت کا اندیشہ۔ ایک موت کی تصدیق ۔شہر ومضافات کے دواخانوںپر گرمی سے ہونے والی بیماریوں میں مبتلا افراد کی بھیڑ ۔
گیٹ وے آف انڈیا پرتفریح کیلئے آنے والےکئی افراد تیزدھوپ کے سبب چھاؤں میں بیٹھے ہیں۔ تصویر:آشیش راجے
شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک کے مریضوں میں اضافہ ہوگیا جس کے پیش نظر ریاستی محکمہ صحت نے عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اپیل ہے جس کے علاوہ گزشتہ۷۰؍ دن میں گرم لہر (ہیٹ اسٹروک )سے متاثر ہونے والے ۲۳۶؍افراد میں سے ۶؍ کی موت کا اندیشہ ہے جس میں سے ایک موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس دوران شہر و مضافات کے دواخانوں میں جسم میں پانی کم ہونے ،چکر آنے ،دست ہو نے اور دھوپ لگنے سے راستے پر گر جانے والےافراد کی تعداد بھی بڑھی ہے۔
شہرومضافات میں شدید گرمی سے عوام بے حال ہیں ۔ گرمی کی شدت سے محفوظ رہنے کیلئے بالخصوص دوپہر کے اوقات میںلوگ گھروں سے باہر نکلنے سےگریز کر رہے ہیںجس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کم دکھائی دے رہا ہے ۔ گرمی کی وجہ سے دواخانوں میں جسم میں پانی کم ہونے ،چکر ،قے، دست، جسم اور سردرد ، کمزوری اور دھوپ لگنے سے راستے پر گر جانے والے مریض علاج کیلئے آ رہےہیں۔
جنوبی ممبئی کے متعدد ڈاکٹروں سے شدید گرمی سے متعلق بات چیت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ ’’ ان دنوں گرمی اور دھوپ لگنے سے بیمار ہونے والے افراد علاج کیلئے زیادہ آ رہے ہیں ۔ انہیں دوا کےساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے ، زیادہ پانی پینے اور دھوپ میں باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔‘‘
سیوڑی کے کولسہ بندر علاقے کے ۵۰؍ سالہ شخص محمد احمد نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ ہمارے علاقے میں کوئلے کے متعدد گودام ہیںجن میں شدید گرمی رہتی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ ۲؍ دن سے سخت بےچینی محسوس ہو رہی ہے ۔ جسم اور سر در د کے علاوہ کمزوری کی وجہ سے کام کرنے کا دل نہیں چاہتا ۔ ڈاکٹر کو ساری کیفیت بتا کردوا لی ہے ۔ ‘‘اسی علاقے کے ڈاکٹر قیصر جمال نے بتایا کہ ’’ شدیدگرمی کی وجہ سے مذکورہ امراض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ اتوار کی دوپہر تقریباً ۲؍بجے ۲؍خواتین آئی تھیں جن میں ایک خاتون کی عمر تقریباً ۵۰؍سال تھی ، وہ سیوڑی ریلوے اسٹیشن سے اپنے گھر جا رہی تھی ، اچانک راستے میں گرمی کی وجہ سے گر گئی۔ اچھا ہوا ان کی بہو ساتھ تھی،وہ انہیں دواخانہ لائی ۔ جانچ کے بعد میں نے خاتون کو ضروری دوا دینے کے علاوہ دواخانہ میں ہی کچھ دیر روک کر اوآرایس وغیرہ دیا ۔ طبیعت بحال ہونے پرگھر جانے کی اجازت دی ۔ ‘‘
ریاستی محکمہ صحت مطابق امسال یکم مارچ سے ۹؍مئی کے درمیان یعنی ۷۰؍ دن میں ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع میں ہیٹ اسٹروک کے کم از کم ۲۳۶؍کیس درج کئے گئے۔ اس کے ساتھ ہیٹ اسٹروک کی مشتبہ اموات کی تعداد ۶؍ رہی جن میں سے ایک شخص کی اس سے موت کی تصدیق ہوچکی ہے ۔ ہیٹ اسٹروک کے سب سے زیادہ ۸۶؍مریض اورنگ آباد میں ملے جبکہ شدید گرمی سے ممبئی کے مکینوں میں بھی ہیٹ اسٹروک کی علامتیں سامنے آئی ہیں۔
واضح رہے کہ محکمہ صحت عامہ کے حکام موسمیاتی تبدیلی اور انسانی صحت کے قومی پروگرام کے تحت ۲۰۱۹ء سے ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلق دیگر بیماریوں پر ضلع وار اعداد و شمارکی تفصیلات مرتب کر رہے ہیں ۔
محکمہ صحت عامہ کے حکام کے مطابق’’ اپریل سے ہیٹ ویو سے بیمار پڑنے والے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔یکم مارچ سے ۹؍مئی تک ہیٹ اسٹروک کی وجہ سے ۶؍ اموات کا ا ندیشہ ہے جن میں سے لاتور میں ہونے والی ایک موت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ باقی ۵؍ اموات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ۔۵؍ اموات میں سے ۲؍ کا تعلق اہلیہ نگر جبکہ باقی ۳؍کا تعلق اکولہ، لاتور اور شولاپور سے ہے ۔ ‘‘حکام نے عوام کو دھوپ میں زیادہ دیر تک رہنے سے گریز کرنے، زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور دوپہر کے اوقات میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔