جیت اور ہار کا فرق ایس آئی آر میںکاٹے گئے ووٹوں سے کم ہونے کےمعاملہ میں علاحدہ پٹیشن داخل کرنے کی ہدایت۔
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دیگر کو ہدایت دی ہے کہ وہ حالیہ اسمبلی انتخابات میں اُن حلقوں کے حوالے سے نئی عرضیاں دائر کریں جہاں بی جے پی کی جیت کا فرق ایس آئی آر کے دوران حذف کئے گئے ووٹوں کی تعداد سے کم تھا۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے اس معاملے پر اُس وقت تبصرہ کیا جب سینئر وکیل اور ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے کورٹ میں نشاندہی کی کہ ۳۱؍نشستوں پر جیت کا فرق کاٹے گئے ووٹوں سے کم ہے۔ انہوں نے جسٹس باغچی کے اس مشاہدے کا بھی حوالہ دیا کہ جیت کا فرق حذف کئے گئے ناموں کی تعداد سے کم ہو گاتو عدالت شکایات پر غور کر سکتی ہے۔
پیر کو سماعت کے آغاز میں کلیان بنرجی نے کہاکہ’’ میرے ایک امیدوار کی شکست کا فرق۸۶۲؍ووٹ تھا جبکہ اس حلقے میں ایس آئی آر میں کاٹے گئے ووٹوں کی تعداد ۵؍ ہزار ۵۵۰؍ ہے۔‘‘انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ایسی ۳۱؍ سیٹیں ہیں جہاں ہار اور جیت کا فرق ایس آئی آر میں حذف شدہ ووٹوں سے کم ہے۔
اس پر جسٹس باغچی نے کہاکہ’’ ایس آئی آر اور نتائج کے تعلق سے جوکچھ بھی کہنا ہے، اس کیلئے علیحدہ عبوری درخواست (انٹرین اپلی کیشن) دائر کرنی ہوگی۔‘‘سینئر وکیل ڈی ایس نائیڈو جو عدالت میں الیکشن کمیشن کی پیروی کررہے تھے ،نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا قانونی حل الیکشن پٹیشن ہے۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ الیکشن کمیشن یہ جواب اپنے جوابی حلف نامہ میں دے سکتا ہے۔ کلیان بنرجی سپریم کورٹ میں اپنی پارٹی کی سربراہ ممتا بنرجی کی پیروی کررہے ہیں۔ یہ باتیں ایس آئی آر سے متعلق مقدمہ کے سماعت کے دوران ہوئیں۔ کلیان بنرجی نے کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس سیوَگنانم کے ایس آئی آر اپیلیٹ ٹریبونل سے استعفیٰ دینے کا ذکر کیا۔ یہ ٹریبونل اُن افراد کی اپیلوں کی سماعت کر رہا تھا جن کے نام ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے نکال دیئےگئے ہیں۔جسٹس سیوگنانم ان۱۹؍ ججوں میں شامل تھے جنہیں کلکتہ ہائی کورٹ نے ایس آئی آر سے متعلق اپیلوں کی سماعت کیلئے ٹریبونل کا جج مقرر کیا تھا۔ایک درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل مینکا گرو سوامی نے کہا کہ یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ ایس آئی آر میں کاٹے گئے ووٹوں کے خلاف اپیلوں کے فیصلے میں ۴؍سال لگ سکتے ہیں۔اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے جواب دیاکہ وہ دیکھیں گے کہ ان اپیلوں کے فیصلے کے عمل میں کیا بہتری لائی جا سکتی ہے۔ یاد رہے کہ بنگال میں ۹۰؍ لاکھ سے زائد نام کاٹے گئے ہیں۔ ۲۷؍ لاکھ سے زائد نام ایسے ووٹرس کے ہیں جنہیں معمولی غلطیوں کی وجہ سے’منطقی تضاد‘ کے نام پر حق رائے دہی سے محروم کردیاگیاہے۔