Updated: March 30, 2026, 5:12 PM IST
| Mumbai
ایران جنگ اب واضح طور پر پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔ لبنان میں حزب اللہ نے بڑے پیمانے پر حملوں کا دعویٰ کیا، جبکہ یمن سے اسرائیل پر ڈرون حملے ہوئے۔ اسی دوران خلیجی ممالک بھی نشانے پر آ گئے ہیں، جہاں کویت کے توانائی پلانٹ پر حملہ ہوا، جس سے جنگ ایک وسیع علاقائی تنازع بن گئی ہے۔
(۱) حزب اللہ کا دعویٰ، اسرائیل کے خلاف ۱۱۰۰؍ سے زائد کارروائیاں
لبنان کی حزب اللہ تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ۲؍ مارچ سے اب تک اسرائیلی اہداف کے خلاف ۱۱۰۰؍ سے زائد فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم نے اسرائیلی فوجی تنصیبات اور سرحدی مقامات کو مسلسل نشانہ بنایا ہے۔‘‘ رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں میزائل، راکٹ اور ڈرون شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ لبنان محاذ مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے اور اسرائیل کو ایک سے زائد محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان جانیوالے مزید ۲؍ ایل پی جی ٹینکرز بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر گئے
(۲) یمن سے اسرائیل پر ڈرون حملے، اسرائیلی دفاعی نظام متحرک
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے یمن سے داغے گئے دو ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق’’ڈرونز کو اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا گیا۔‘‘ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب یمن کے حوثی پہلے ہی جنگ میں مداخلت کا عندیہ دے چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی اسرائیل میں سائرن بجائے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ اب بحیرہ احمر کے راستے بھی پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں عیسائیوں کی پام سنڈے پر عبادت، نسل کشی کے درمیان امن کی دعائیں
(۳) کویت کے توانائی پلانٹ پر ایرانی حملہ، ایک ہلاک، بڑا نقصان
کویت میں ایک پاور اور ڈی سیلینیشن پلانٹ پر ایرانی حملے میں کم از کم ایک کارکن ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق حملے سے پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا اور توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ کویتی حکام نے کہا کہ ’’یہ حملہ اہم شہری انفراسٹرکچر پر کیا گیا۔‘‘ ہندوستانی حکومت نے بھی ایک بھارتی شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جنگ خلیجی ممالک کے بنیادی ڈھانچے تک پہنچ چکی ہے اور اس کے اثرات عالمی توانائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔