نیتن یاہو نے خود اسرائیلی فوج کی طرف سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ، جنگ بندی کے بعد بھی لبنان میں حملوں کا سلسلہ جاری۔
EPAPER
Updated: May 08, 2026, 2:41 PM IST | Tel Aviv
نیتن یاہو نے خود اسرائیلی فوج کی طرف سے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ، جنگ بندی کے بعد بھی لبنان میں حملوں کا سلسلہ جاری۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے علان کیا ہے کہ ان کی فوج نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ یاہو کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہدف بنا کر حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر کو قتل کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حملوں کے دوران صہیونی ریاست کی حزب اللہ کی کسی شخصیت کو قتل کرنے میں اپنی نوعیت کی شاید پہلی کامیابی ہے۔اسرائیلی ریاست کی یہ روایت ہے کہ وہ دوسرے ملکوں میں جس شخص کو جب چاہے آزادانہ قتل کرنے کی دھمکی بھی دیتی ہے اور پھر قتل بھی کروا دیتی ہے۔ ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ اپنی مشترکہ جنگ جس کا آغاز ۲۸؍ فروری کو کیا گیا تھا میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت کئی اہم عہدے داروں کو قتل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید کئی افراد کی فہرست تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب کی وجہ سے امریکہ کو پیچھے ہٹنا پڑا
بتایا گیا ہے کہ حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر کو بیروت کے مضافات میں قتل کیا گیا ہے جسکی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے خود بدھ کو اعلان کیا کہ علاقے میں اس نوعیت کا یہ بڑا واقعہ رواں ماہ کے دوران پہلا واقعہ ہے کیونکہ اسرائیل نے اپنے جنگی شراکت دار امریکہ کے کہنے پر بظاہر لبنان کے خلاف اپنی جنگ بھی روک رکھی ہے۔ کہ ان دنوں جنگ بندی چل رہی ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی فوج نے اس حزب اللہ کمانڈر کو قتل کیا ہے۔ حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے میڈیا کو بتایا مالک بلوط رضوان فورس کے آپریشنل کمانڈر تھے جنہیں اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے حزب اللہ کے اہم گڑھ کو بیروت کے نزدیک نشانہ بنایا اور غوبیری کوقتل کیا۔ بیروت اور اس کے مضافات کو اسرائیلی فوج نے ایک عرصے سے اپنی بمباری کا ہدف بنا کر حملے کرنا شروع کر رکھے ہیں۔اے ایف پی کے ایک صحافی نے علاقے سے دھواں اٹھتے بھی دیکھا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات
بدھ کے روز اسرائیل کا یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب صدر ٹرمپ نے امن کے حصول کیلئے بیان دیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کا یہ بہت اچھا موقع ہو گا۔اسرائیل ایران جنگ کے تیسرے روز یعنی ۲؍ مارچ سے لبنان میں بھی جنگ شروع کر دی گئی تھی۔ البتہ ۱۷؍ اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جو اب تک صرف اعلان کی حد تک ہی چل رہی ہے۔