Inquilab Logo Happiest Places to Work

حفظ، عالمیت، افتاء، تخصص فی الحدیث اور بی کام یعنی حافظ مفتی جنید

Updated: March 18, 2026, 11:02 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

۲۰۱۰ء سے تراویح پڑھا رہے ہیں اور ۲۰۲۳ء سے تراویح کے بعد قرآن پاک کی تفسیر بیان کرنے کا معمول ہے۔ اپنی دینی اور عصری تعلیم کا سہرا اپنے والدین اور اساتذہ کے سر باندھتے ہیں۔

Mufti Junaid teaches in the Department of Alimiyah at the Institute of Theology, Fine Touch. Photo:INN
مفتی جنید ادارۂ دینیات، فائن ٹچ میں عالمیت کے شعبہ میں پڑھاتے ہیں- تصویر:آئی این این
 مفتی جنید سلیم موٹر والا (۳۰) آج کے دور کے ان چنندہ افراد میں سے ہیں جنہوں نے عصری اور دینی تعلیم کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی بہترین مثال پیش کرتے ہوئے عصری تعلیم میں گریجویشن مکمل کرنے کے ساتھ قرآن کریم حفظ کیا، عالمیت، تخصص فی الحدیث اور پھر ۲۶؍ سال کی عمر میں افتاء کی تعلیم بھی مکمل کرلی۔ اب وہ شراکت داری میں تجارت کرنے کے ساتھ آگری پاڑہ میں واقع ادارۂ دینیات، فائن ٹچ میں عالمیت کے شعبہ میں پڑھاتے ہیں۔
ممبئی سینٹرل کے ’اورکڈ ٹاور‘ میں رہنے والے مفتی جنیدکے ایک چچا اور ننیہال میں کئی حافظ ہیں جن کو دیکھ کر انہیں بھی حفظ قرآن کا شوق ہوا۔  
وہ بتاتے ہیں کہ والدین کی بڑی تمنا تھی اور اپنی پڑھائی کے زمانے میں انہوں نے حفظ اور عالمیت کی کوشش کی مگر ممکن نہ ہوسکا۔ والدین انہیں بتاتے تھے کہ وہ حفاظ اور علماء کو رشک سے دیکھتے تھے۔   بچپن میں مکتب کے اساتذہ سے متاثر تھے، ان سے عقیدت بھی تھی اور جب انہوں نے حفظ کی استعداد دیکھی تو حفظ کا مشورہ دیا اور پھر بہ نام خدا حفظ شروع کیا۔ دینیات مکتب فائن ٹچ میں ۵؍ پارے مکمل کئے پھر صفاء اسکول کی حفظ کلاس میں داخل ہوگئے جہاں باقی کے ۲۵؍ پارے مکمل کئے۔ ۳۰؍ جنوری ۲۰۰۹ء کو اسکول میں ان کا حفظ مکمل ہوا اور پھر فائن ٹچ میں آئندہ ۷؍ سے ۸؍ برسوں تک باقاعدہ استاد کو دور سنانے کا معمول رہا ۔ حفظ کے بعد والے سال ۲۰۱۰ء میں پہلی تراویح پڑھائی تھی اور تب سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ فی الحال وہ ناگپاڑہ پر واقع کے ڈی کمپنی میں تراویح پڑھاتے ہیں اور ۲۰۲۳ء سے رمضان المبارک کا یہ معمول ہے کہ صبح مدرسہ پڑھاتے ہیں،  رات کو تراویح اور اس کے بعد بیان و تفسیر۔ انہوں نے ۲۰۲۳ء میں جاملی محلہ میں بیان اور تفسیر کی تھی اس کے بعد ۲۰۲۴ء سے اس سال تک پائیدھونی پر واقع نواب ایاز مسجد میں بعد نماز تراویح ۲۰؍ سے ۲۵؍ منٹ تک تفسیر اور بیان کرتے ہیں۔
 
 
مفتی جنید نے بارہویں تک صفاء سے تعلیم حاصل کی اور پھر ’ڈسٹنس لرننگ‘ سے ممبئی یونیورسٹی (کالینہ) سے بی کام کیا۔ اسکول کے بعد باقاعدہ دینیات مکتب فائن ٹچ - شعبۂ عالمیت- میں داخلہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ایک لائن کو آدمی منتخب کرے اور بہ توفیق الٰہی کچھ محنت کرلے تو آگے کی راہیں اللہ تعالیٰ کھول دیتے ہیں۔ پس افتاء اور تخصص فی الحدیث کا ارادہ ہوا، عالمیت اگرچہ بظاہر مکتب میں ہوئی لیکن اساتذہ نےہم پر جو محنت کی، اللہ ہی انہیں اس کا بہترین بدلہ دے گا ۔‘‘
 
 
  موجودہ دور میں بہت سے والدین اپنے بچوں کو ایک ساتھ دینی اور عصری تعلیم دلا رہے ہیں۔ عصری اور دینی تعلیم حاصل کرنے کے تعلق سے اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’۱۱، ۱۲؍ سال کی عمر کوئی سنجیدگی کی عمر نہیں ہے، کھیل کود سے زیادہ دلچسپی رہتی ہے، بعض والدین کو دیکھا ہے کہ وہ تعلیم دلانے کی دھن میں کھیل چھین لیتے ہیں، صفا میں تو پھر بھی آسانی ملتی ہے، لیکن وہ بچے جو ’کونوینٹ‘ میں جاتے ہیں اور شام کو حفظ کلاس جاتے ہیں وہ تو بالکل ہی تھک جاتے ہیں، کھیل کا موقع نہیں، آرام پورا نہیں، گھر والوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا وقت نہیں، ایسی مشغولیت تو بڑے، طاقتور اور مضبوط جوانوں کیلئے بھی نقصاندہ ہے، پھر معصوم بچہ جو ابھی بڑھتی عمر میں ہے، اس پر اتنا بوجھ کس قدر نقصاندہ ہو سکتا ہے ہمیں خوب سوچ لینا چاہیے، اسکولوں کا سسٹم بھاری بوجھ ہے، بیگ کے وزن سے لے کر اسکول ٹائمنگ اور ہوم ورک سب بوجھ ہی بوجھ ہے، بعض یورپی ممالک جن کی تعلیم مثالی ہے وہ بچوں کو دن میں دو سے ڈھائی گھنٹہ بلاتے ہیں اور بس!!! ان کی تعلیم دنیا میں ٹاپ ہے۔ بہر حال اگر آپ کا بچہ ’کونوینٹ‘ میں جا رہا اور آپ حفظ کرانا چاہتے ہیں تو ضرور کرائیں مگر سب سے پہلے تو ۳؍ سال کا ہدف اپنے ذہن سے نکال دیجیے، نہ آپ ٹینشن لیں نہ بچوں کو دیں، پھر حفظ کلاس کیلئے مناسب وقت طے کریں، اس طرح سے کہ بچے کیلئے بے آرامی کا سبب نہ ہو، کھیل کود کیلئے بھی اسے مناسب وقت دیں اور گھر میں بھی ادھم مچانے دیں۔ اس طرح توازن کے ساتھ چلنے والے بھی لوگ ہیں۔‘‘

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK