Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپریشن کے سبب این سی پی (شرد) میں ہائی الرٹ

Updated: June 18, 2026, 12:35 PM IST | Mumbai

جلد ہی اعلیٰ کمان اپنے اراکین پارلیمان کی میٹنگ منعقد کرے گا۔

Senior leader Sharad Pawar. Photo: INN
سینئر لیڈر شرد پوار۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر کی سیاست میں جاری مبینہ’ آپریشن ٹائیگر‘ کی سرگرمیوں کے پس منظر میں جس کا مقصد ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کے اراکین پارلیمان کو ایکناتھ شندے کی شیو سینا میں شامل کرنا بتایا جا رہا ہے، این سی پی(شرد) نے بھی اپنے تمام اراکین پارلیمان کو محتاط رہنے اور کسی بھی سیاسی پیشکش یا رابطے کے حوالے سے چوکنا رہنے کی ہدایت دی ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق این سی پی کے ۸؍ ارا کین  پارلیمان کی ایک میٹنگ آئندہ چند دنوں میں متوقع ہے جس کا مقصد پارٹی کی صفوں میں اتحاد برقرار رکھنا ہے۔شرد پوار کی قیادت والی این سی پی نے ۲۰۲۴ءکے لوک سبھا انتخابات میں ۸؍ نشستیں حاصل کی تھیں۔ مہاراشٹر میں حالیہ سیاسی پیش رفت کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پارٹی قیادت اپنے  اراکین پارلیمان کے درمیان اتحاد کو یقینی بنانے  کیلئے سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ ادھو ٹھاکرے کے ۹؍ اراکین پارلیمان میں سے ۶؍ کے پارٹی  چھوڑ دینے  کے بعد تشویش میں مبتلا شرد پوار مبینہ طور پر اپنی جماعت میں ایسی کسی صورتحال سے بچنے کے خواہاں ہیں۔ توقع ہے کہ پارٹی کے سینئر لیڈران مجوزہ میٹنگ میں اراکین پارلیمان سے ملاقات کریں گے، ان کے تحفظات اور شکایات سنیں گے اور داخلی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔

یہ بھی پڑھئے: اسمارٹ سٹی منصوبے کی سست رفتاری سے عوام پریشان

گزشتہ کئی ہفتوں سے مہاراشٹر کے سیاسی حلقوں میں ’آپریشن ٹائیگر‘ کے حوالے سے چہ مگوئیاں جاری تھیں۔ ابتدا میں اس بات پر شکوک و شبہات تھے کہ آیا ایسا کوئی آپریشن حقیقت میں وجود رکھتا بھی ہے یا نہیں، تاہم دہلی اور مہاراشٹر میں حالیہ سیاسی سرگرمیوں کے بعد یہ بات درست ثابت ہوئی۔اگرچہ بی جے پی کے پاس لوک سبھا میں اپنے بل بوتے پر دو تہائی اکثریت نہیں ہے لیکن این ڈی اے کو ایوان میں واضح اکثریت حاصل ہے، جسکی وجہ سے نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو فی الحال کسی فوری خطرے کا سامنا نہیں ہے۔تاہم  وہ الگ الگ پارٹیوں کے اراکین کو اپنی طرف کرنے میں مصروف ہے۔ شیوسینا(ادھو) سے پہلے وہ ترنمول کانگریس کے ۲۰؍ اراکین کو اپنی طرف کر چکی ہے۔ اس سیاسی صورتحال کے سبب اپوزیشن  پارٹیوں کے درمیان تشویش کا ماحول ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK