Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرادآباد کی ۲؍ طالبات پردرج کیس رد کرنے سے ہائیکورٹ کا انکار

Updated: April 18, 2026, 10:50 AM IST | Lucknow

جبری تبدیلیٔ مذہب کے الزام کا معاملہ، الٰہ آباد ہائیکورٹ نے انتقامی اور من گھڑت کہانی کادعویٰ مسترد کیا، طالبہ کی گرفتاری پر دی گئی عبوری روک بھی ختم کر دی۔

The main building of the Allahabad High Court can be seen in the picture. Photo: INN
تصویر میں الٰہ آباد ہائیکورٹ کی مرکزی عمارت دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

الہ آبادہائی کورٹ نے اتر پردیش کے شہر مرادآباد میں پیش آئے مبینہ جبری تبدیلیٔ مذہب کے ایک حساس معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو طالبات کی جانب سے ایف آئی آر خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس قسم کا رجحان نوجوانوں میں پروان چڑھ رہا ہے تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ 
یہ کیس جنوری ۲۰۲۶ء میں سامنے آیا تھا جب ایک ہندو طالبہ نے الزام عائد کیا کہ اس کی پانچ مسلم سہیلیوں نے اسے ٹیوشن سے واپسی کے دوران برقع پہننے پر مجبور کیا اور اس پر مذہب تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا۔ اس واقعے کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا۔ متاثرہ طالبہ کے بھائی کی شکایت پر پولیس نے پانچوں لڑکیوں کے خلاف کیس درج کیا۔ پولیس کے مطابق ملزمین میں ایک لڑکی کی عمر ۲۰؍ سال ہے جبکہ باقی کی عمریں ۱۶؍ سے۱۸؍ سال کے درمیان ہیں۔ 
جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ پر مشتمل عدالت کی دو رکنی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اتر پردیش میں ’غیر قانونی تبدیلی مذہب پر پابندی ایکٹ ۲۰۲۱ء‘کو ایسے ہی حالات سے نمٹنے کے لئے نافذ کیا گیا تھا، جہاں کچھ افراد اپنے مذہب کی تبلیغ کے بجائے دوسروں پر اسے مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر نوجوان اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں تو یہ معاشرے کے لیے مزید خطرناک رجحان کی علامت ہے۔ بنچ نے مزید کہا کہ یہ عمر طلبہ کے لئے تعلیم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ملک و معاشرے کی خدمت کے لئےخود کو تیار کرنے کی ہوتی ہے، نہ کہ ایسے تنازعات میں الجھنے کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: آئین نے خود اپنا تحفظ کیا، ۲۹۸؍ پر ۲۳۰ ؍کی فتح

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگرچہ نئے قانون کے تحت جھوٹے مقدمات درج ہونے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ابتدائی شواہد موجود ہوں تو تفتیش کو روکا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ کسی قانون کو اس کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ہی کمزور کرنا اس کے مقصد کو ناکام بنا سکتا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق متاثرہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ ۲۰؍ دسمبر۲۰۲۵ء کو اس کی سہیلیاں اسے کوچنگ کے بعد ایک ہوٹل لے گئیں جہاں ایک لڑکی برقع لے آئی اور سب نے مل کر اسے زبردستی پہنایا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ اسے نان ویج کھانے پر بھی مجبور کیا گیا اور اس کا ذہن بدلنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ اسلام قبول کر لے۔ عدالت نے کیس ڈائری کا حوالہ دیکر کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی یہ واقعہ دکھائی دیتا ہے کہ متاثرہ لڑکی کو ایک گلی میں برقعہ پہننے پر مجبور کیا گیا۔ 
دوسری جانب، ملزمین کے وکلاء نے عدالت میں دلیل دی کہ ایف آئی آر فرضی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ خود طالبہ کو ہراساں کرتا تھا اور اس نے بدلہ لینے کے لئے یہ مقدمہ درج کروایا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی آر میں کسی مخصوص وقت، مقام یا واقعے کی واضح تفصیل موجود نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ شکایت کنندہ نے پہلے کبھی ہراسانی کی ہو۔ عدالت نے متاثرہ لڑکی کے بیان کو بھی قابل اعتبار قرار دیا اور کہا کہ اس میں ایسے تمام عناصر موجود ہیں جو قانون کی دفعات۳؍ اور ۵؍(۱) کے اطلاق کے لئے کافی ہیں۔ اسکے ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ یہ طے کرنا ہےکہ یہ عمل’لالچ‘ یا’ غیر مناسب دباؤ‘ کے زمرہ میں آتا ہے یا نہیں اور یہ معاملہ تفتیش کے دوران واضح ہوگا۔ آخر میں عدالت نے دونوں درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا کیس نہیں ہے جہاں تفتیش میں مداخلت کی جائے یا ایف آئی آر کو ختم کیا جائے۔ عدالت نے ۱۲؍ فروری ۲۰۲۶ء کو دی گئی عبوری راحت کو بھی ختم کر دیا، جس کے تحت ایک طالبہ کی گرفتاری پر روک لگائی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد اب پولیس کو مکمل تفتیش جاری رکھنے کی اجازت مل گئی ہے اور یہ کیس آئندہ قانونی کارروائی کیلئے آگے بڑھے گا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK